240

پیر افضل قادری نے تحریک لبیک کو خیرباد کہہ دیا

Spread the love

پیر افضل قادری اس وقت جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہیں

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے بانی پیر افضل قادری نے صحت کی خرابی کے باعث پارٹی سے استعفی دے دیا۔پیر افضل قادری، ان دنوں مختلف مقدمات میں نامزد ہونے کی وجہ سے جوڈیشل ریمارنڈ پر جیل میں ہیں، نے سپریم کورٹ کی جانب سے آسیہ بی بی کو رہا کیے جانے کے فیصلے کے خلاف ٹی ایل پی کے احتجاج میں سخت الفاظ کے استعمال پر معذرت بھی کی۔ٹی ایل پی کی جانب سے5 نومبر 2018 کو بطور یوم شہدا منانے کے اعلان کے بعد حکومت نے پیر افضل قادری کو نومبر میں ہی دہشت گردی اور بغاوت کے الزامات کے تحت ‘حفاظتی تحویل’ میں لے لیا تھا۔

خیال رہے کہ پیر افضل قادری اور ٹی ایل پی کے سربراہ خادم حسین رضوی کی جانب سے دائر ضمانت کی درخواستیں لاہور ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہیں، اس سے قبل ان کی ضمانت کی درخواستیں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے مسترد کردی تھیں۔ضمانت سے متعلق درخواستوں کی آخری سماعت کے دوران عدالت عالیہ نے پولیس کو خادم حسین رضوی اور پیر افضل قادری کے خلاف ثبوت پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔

واضح رہے کہ پیر افضل قادری کے استفعے سے متعلق بیان کی ویڈیو ادارہ کو گذشتہ شب دیر گئے موصول ہوئی جو اس وقت یوٹیوب پر موجود ہے۔ اس کے ساتھ منسلک ایک بیان میں بتایا گیا تھا کہ ٹی ایل پی کے بانی نے حکومت، عدلیہ اور آرمی چیف کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے پر معذرت کی ہے۔اپنے بیان میں پیر افضل قادری کا کہنا تھا کہ ‘میں دل، گردے، ہائی بلڈ پریشر اور شوگر جیسے امراض میں مبتلا ہوں اور جس وقت آسیہ بی بی کے کیس کا فیصلہ سنایا گیا تو اس سے میرے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچی اور جس پر میں نے ایک تقریر کی، میں حکومت، عدلیہ اور آرمی چیف کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے پر معذرت کرتا ہوں’۔علاوہ ازیں پیر افضل قادری نے رواں سال کے آغاز میں بہاولپور یونیورسٹی میں ہونے والے واقعے سے ٹی ایل پی کو قطع تعلق قرار دیا، جس میں ٹی ایل پی کے سینئر رہنما سے مبینہ طور پر تعلق رکھنے والے طالب علم نے اپنے استاد کو قتل کردیا تھا۔

انہوں نے اپنی پارٹی کے رہنماں اور کارکنوں پر زور دیا کہ وہ اپنے خیالات قرآن اور سنت کی روشنی میں پھیلائیں اور اس حوالے سے پاکستان کے آئین اور قانون کی پاسداری کریں۔ان کا کہنا تھا کہ ‘کسی کو بھی تشدد، سرکاری اور نجی املاک کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی جبکہ دہشت گردی، قتل اور عسکری فرقہ پسندی کی حوصلہ شکنی کی جانی چاہیے’۔

پیر افضل قادری کا کہنا تھا کہ ‘تمام اداروں، قانون اور پاکستان کے آئین کو عزت دینی چاہیے’ اور ساتھ ہی کارکنان پر زور دیا کہ وہ ملک کے تحفظ کے لیے پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں۔ٹی ایل پی کے بانی نے کارکنوں سے مطالبہ کیا کہ وہ ‘امن کے ساتھ رہیں اور اچھا برتا کریں اور ایسے کسی بھی معاملے سے خود کو دور رکھیں جو ریاست کے خلاف ہو’۔اس کے ساتھ ہی انہوں نے انکشاف کیا کہ پارٹی کو چھوڑنے کا فیصلہ وہ گذشتہ سال ہی کرچکے تھے اور انہوں نے اس حوالے سے اپنے دوستوں کو آگاہ بھی کردیا تھا لیکن وہ اس کا اعلان اب کررہے ہیں کیونکہ ان کی صحت اب مزید پارٹی معاملات کو دیکھنے کی اجازت نہیں دے رہے۔

11 اپریل 2019 کو لاہور ہائیکورٹ میں تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے سربراہ خادم حسین رضوی کی درخواست ضمانت سے متعلق سماعت پر وکیل نے کہا تھا کہ ہم ضمانت نامہ دینے کو تیار ہیں، تاہم عدالت نے ریمارکس دیے تھے کہ اب وہ وقت گزر گیا، قانون کے مطابق کیس کا فیصلہ ہوگا۔واضح رہے کہ گزشتہ سال توہین مذہب کے مقدمے میں مسیحی خاتون آسیہ بی بی کو رہا کیے جانے کے سپریم کورٹ کے فیصلے خلاف تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے پر تشدد مظاہروں کے دوران املاک کو نقصان اور توڑ پھوڑ کی گئی تھی۔

جس کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے تحریک لبیک پاکستان کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاون کیا گیا تھا، اس دوران خادم حسین رضوی کو 23 نومبر 2018 کو 30 روزہ حفاظتی تحویل میں لیا گیا تھا اور بعد ازاں انسداد دہشت گردی عدالت نے رواں سال جنوری میں انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں