1990 کی دہائی کے بعد پیدا ہونے والے کشمیریوں نے کبھی بھی امن نہیں دیکھا ہے

Spread the love

وہ کرفیو کے درمیان پیدا ہوئے اور اس کے خاتمے سے پہلے مر گئے۔ بی بی سی کی رپورٹ

2018 میں 150 کشمیری عسکریت پسند اور 230 سے زیادہ افراد شہید ہوئے ہیں

سری نگر(کے پی آئی) 1990 کی دہائی کے بعد پیدا ہونے والے کشمیریوں نے کبھی بھی امن نہیں دیکھا ہے وہ کرفیو کے درمیان پیدا ہوئے اور اس کے خاتمے سے پہلے مر گئے۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق مسلم اکثریتی علاقے کشمیر میں انڈین حکمرانی کے خلاف سنہ 1989 سے مسلح بغاوت جاری ہے۔ انڈیا اس علاقے میں تشدد کو ہوا دینے کے لیے پاکستان پر الزام لگاتا ہے کہ وہ عسکریت پسندوں کی حمایت کرتا ہے جبکہ پاکستان ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔سنہ 1989 کے بعد سے کشمیر میں بار بار تشدد کی لہر دیکھی گئی ہے جس میں اب تک 70 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

ناقدین کا خیال ہے کہ انڈیا کی ظلم و جبر کی حکمت عملی نے مقامی نوجوانوں کو منحرف کر رکھا ہے۔ جون سنہ 2016 اور اپریل سنہ 2018 کے دوران علاقے میں تشدد پر اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سکیورٹی فورسز کی جانب سے طاقت کے زیادہ استعمال اور پیلٹ گنز سے فائرنگ کے نتیجے میں سینکڑوں نوجوان اندھے ہو گئے ہیں۔ انڈیا اس رپورٹ کو مسترد کرتا ہے۔پلوامہ کے 68 سالہ رہائشی عبدالاحد بھٹ نے کہا سنہ 1990 کی دہائی کے بعد پیدا ہونے والے کشمیریوں نے کبھی بھی امن نہیں دیکھا ہے۔۔۔ وہ کرفیو کے درمیان پیدا ہوئے اور اس کے خاتمے سے پہلے مر گئے۔مسٹر بھٹ کہتے ہیں کہ سنہ 1989 سے پہلے کا کشمیر ایک خواب تھا جس سے یہ نسل محروم ہو گئی ہے۔وادیِ کشمیر میں سنہ 2000 کی دہائی میں عسکریت پسندی میں کمی آ گئی تھی لیکن سنہ 2016 میں ایک عسکریت پسند نوجوان برہان وانی کی ہلاکت کے بعد اس میں پھر سے اضافہ ہو گیا۔

اور اس کے بعد سے اس میں مستقل اضافہ ہو رہا ہے اور سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سنہ 2018 میں 150 عسکریت پسند اور 230 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔وانی سوشل میڈیا پر بہت سرگرم تھے۔ انڈیا انھیں دہشت گرد تصور کرتا ہے لیکن بہت سے مقامی لوگوں کا خیال ہے کہ وہ کشمیر کی نئی نسل کی نمائندگی کرتے تھے۔ لیکن جب انڈین سکیورٹی فورسز کے ساتھ ایک مسلح جنگ میں ان کی ہلاکت ہوئی تو پوری وادی میں مظاہرے کیے گئے۔سکیورٹی فورسز کی جانب سے مظاہرین کے خلاف استعمال ہونے والی آنسو گیس اور فائرنگ کے باعث درجنوں افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے تھے۔ بہت سے لوگ پیلٹ گنز کے چھرے لگنے سے زخمی ہو گئے

Leave a Reply