چور (افسانہ) جے بی بیلے

Spread the love

جے۔ بی۔ بیلے (برطانیہ)

ورنن کے لیے اب چوری کرنے کے سوا کوئی چارۂ کار نہ تھا۔ اس نے اپنے دل کو سمجھایا کہ مجھ میں اس کے سوا اور کسی کام کی صلاحیت نہیں۔ اس نے سوچا کہ اگر میں نے غیر معمولی جرأت کا مظاہرہ نہ کیا تو ساری عمر کلرکی کا دھندا کروں گا اور میری حالت کبھی بہتر نہ ہوسکے گی۔
وہ دفتر کے مالک کی سیکرٹری سوسن کو دل سے پسند کرتا تھا۔ ہر روز جب وہ تیزی سے سیڑھیاں چڑھتی تو وہ بے چینی کے احساس کے ساتھ اسے دیکھا کرتا۔ وہ دل میں سوچتا مجھے دنیا میں آسودگی سے رہنے کے لیے دو چیزوں کی اشد ضرورت ہے۔ سوسن اور دولت، سوسن سے راہ و رسم کی صورت دولت کے بغیر نہ نکل سکتی تھی۔ جو اس کے پاس نہ تھی۔ اسی لیے اس کے دل میں چوری کرنے کا خیال آیا۔ اس نے سوچا اگر جرائم نہ ہوں تو سپاہیوں، وکیلوں اور جیل کے محافظوں کا کیا بنے؟ نیکی کو کون پوچھے؟
آخر ایک رات وہ شہر کے فیشن ایبل علاقے میں ایک بڑے سے مکان کے دروازے کے قریب پہنچ کر کھڑا ہوگیا۔ نصف رات گزر چکی تھی اور اس نے تین مکان چنے تھے، جو ایک دوسرے سے زیادہ دور نہ تھے۔ یہ مکانات اس کے خیال میں امیر لوگوں کے تھے اور ان میں آسانی سے داخل ہوا جاسکتا تھا۔ اس نے اِدھر اُدھر نگاہ دوڑائی اور پہلے مکان کے قریب پہنچ گیا۔ مکان کی ایک کھڑکی کھلی تھی۔


چند سیکنڈ کے اندر وہ کھڑکی میں سے ہوتا ہوا کمرے میں اترگیا اور کھڑکی بند کردی۔ اس جیب سے ٹارچ نکال کر اس کا بٹن دبایا لیکن روشنی نہ ہوئی۔ ٹارچ کی بیٹری خراب تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس مدت سے اسے استعمال نہ کیا تھا۔ اس کی چوری کی پہلی کوشش یکسر ناکام ثابت ہوئی تھی۔ اس کی چوری کی پہلی کوشش یکسر ناکام ثابت ہوئی تھی۔ وہ جلدی سے اپنے گھر پہنچا اور ایک فالتو بیٹری سیل لے کر نکل کھڑا ہوا۔ اس مرتبہ اس نے اپنی پسند کا دوسرا مکان منتخب کیا۔ وہ بڑی تیزی سے اوپر چڑھا اور ایک کھڑکی میں سے اندر داخل ہوگیا۔


اس کے کان میں آوازیں آنے لگیں۔ یہ نچلی منزل سے آرہی تھیں۔ وہ ایک ثانیے تک سنتا رہا۔ وہ متذبذب ہوگیا۔ اس نے بڑی احتیاط سے یہ دیکھ لیا تھا کہ مکان میں کسی طرف روشنی نہیں۔ بازار کے سارے مکانات مکمل تاریکی میں غرق تھے چونکہ اس نے یہ ساری زحمت خوفزدہ ہونے کے لیے نہیں اٹھائی تھی۔ اس لیے اس نے ٹارچ روشن کی اور تئیں ایک چھوٹے سے سونے کے کمرے میں پایا ۔ بستر پر کوٹوں اور ٹوپیوں کا انبار لگا تھا۔


اچانک دروازہ کھلا اور ایک نسوانی آواز آئی ۔۔۔ اچھا تو آپ اپنا کوٹ تلاش کررہے ہیں؟ کیا یہ بات خوفناک نہیں تقریب کے وسط میں بجلی فیل ہوگئی ہے۔ کیا آپ ٹارچ دوبارہ روشن کریں گے؟ آہ! یہ ہے میرا کوٹ ۔۔ خدا آپ کو جزا دے۔”


جب وہ عورت کمرے سے باہر نکل گئی تو ورنن پیشانی کا پسینہ پونچھنے لگا۔ اس نے جلدی سے کھڑکی کھولی اور اس سے پہلے کہ کوئی اور اسے دیکھے، نیچے کود پڑا۔
سڑک پر آکر اس نے سوچا کہ میں کتنا بدقسمت چور ہوں۔ پھر اس نے سوچا کہ ایک کوشش اور کرنی چاہیے۔ تیسرا مکان جو اسے پسند آیا۔ وہ پہلے دونوں مکانوں سے بڑا تھا۔ اس نے سوچا کہ میں نے پہلے اسے کیوں نہ تاڑا۔


اس نے دیکھا کہ مکان کے پشت والی کھڑکی بڑی اچھی ہے لیکن اس تک پہنچنا آسان نہیں۔
اس نے مکان کے گرد چکر لگایا۔ حسن اتفاق سے اسے ایک سیڑھی مل گئی۔ وہ اس کی مدد سے کھڑکی تک پہنچ گیا اور اس کے ذریعے کمرے میں داخل ہوگیا ۔ اور ٹارچ روشن کرکے کمرے میں اِدھر اُدھر دیکھنے لگا۔ حسنِ اتفاق سے یہ بھی سونے کا کمرہ تھا لیکن اب کے وہ خالی نہ تھا بلکہ بستر پر کوئی دراز تھا۔ ایک عورت سرہانے پر سر رکھے محوِ استراحت تھی۔ اس کی پشت کھڑکی کی طرف تھی۔
وہ ایک قدم آگے بڑھنے والا تھا کہ معماً کمرہ روشن ہوگیا۔ وہ دم بخود ہوکر ساکت و صامت کھڑا ہوگیا۔ وہ عورت ابھی تک کمبل میں لپٹی لیٹی تھی۔ اس نے دیکھا کہ بجلی کا سوئچ دروازے کے قریب ہے۔ اس نے فوراً معلوم کرلیا کہ جب علاقے کی بجلی فیل ہوئی تو اسے نیچے نہیں کیا گیا۔
اس نے پنچوں کے بل چلتے ہوئے اسے آف کرنے کی کوشش کی لیکن اس سے پہلے کہ وہ اس تک پہنچے لڑکی اُٹھ کر بستر میں بیٹھ گئی اور جوں ہی وہ اس کی طرف پلٹی، اس کے منہ سے بے اختیار نکل گیا۔

“سوسن!”
سوسن کا منہ کھلا رہ گیا۔ ورنن کو پسینہ آگیا لیکن اسے دیکھ کر وہ کہنے لگا: “میں تم سے ملنا چاہتا تھا کیونکہ اب میں برداشت نہ کرسکتا تھا۔ میں تم سے محبت کرتا تھا لیکن تمہیں بلانے کی جرأت نہ تھی۔”
“خدا کے لیے بتی بجھا دو اور چپ رہو۔” سوسن نے سرگوشی کے انداز مین کہا۔ “کوئی سن لے گا۔”
“کیا کہا؟” ورنن کی آواز بھرا گئی۔


“میں نے کہا کوئی سن لے گا۔ لیکن تمہیں پتہ کس طرح چلا کر میں یہاں رہتی ہوں؟”


“اتفاقاً!”


“میرے کپڑے مجھے لادو۔ وہ اس کرسی پر پر پڑے ہیں۔”
“تم کیا کرنا چاہتی ہو؟” اس نے پوچھا۔


“میں تمہارے ساتھ جارہی ہوں۔” اس نے جلدی جلدی لباس پہنتے ہوئے کہا: “جب ہم آئیندہ زندگی کا فیصلہ کرلیں گے تو میں اپنا سامان وغیرہ منگوالوں گی۔ آج رات میں تمہارے مکان پر رہوں گی اور پھر کسی طرف منہ کرلیں گے اور دونوں ایک پر لطف زندگی بسر کریں گے۔۔۔۔ آہ اگر تم مجھے پہلے کہہ دیتے تو کتنا اچھا ہوتا۔ میرا خیال تھا کہ تم جلد یا بدیر مجھ سے ملو گے۔ چلو میں تیار ہوں لیکن دیکھو شور نہ کرنا۔”
اس نے سیڑھی کے ذریعے اترنے میں سوسن کی مدد کی پھر دونوں ہاتھ میں ہاتھ ڈالے بازار میں چلنے لگے۔
گھر پہنچ کر سوسن کہنے لگی: “واللہ پہلے میں ڈر گئی تھی، میں حرکت کرنے کی جرأت نہ تھی۔ میں سمجھی تم چور ہو!”

Please follow and like us:

Leave a Reply