210

بھارت اپنے جہازوں کا گرنا ذہن میں رکھے: ترجمان پاک فوج، کی تقریر کا مکمل متن

Spread the love

پی ٹی ایم کے پاس پیسہ کہاں سے ، منظور پشتین بھارتی قونصل خانے میں کس سے ملنے گئے ان کا کون سا رشتہ دار ہے جس کو ملنے وہاں گیا تھا؟

میجر جنرل آصف غفور

راولپنڈی (صباح نیوز)پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ( آئی ایس پی آر)کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے بھارت کو خبردار کیا ہے کہ جو گرجتے ہیں وہ برستے نہیں، بھارت کچھ کرنا چاہتا ہے تو پہلے اپنے جہازوں کا گرنا ذہن میں رکھے، یہ1971 ہے نہ وہ فوج اور حالات، عزم کا امتحان نہ لیا جائے، آپ نے کہا ایٹمی اثاثے دیوالی کیلئے نہیں، تو آئیں ہم بھی تیار ہیں، ترجمان پاک فوج نے(پی ٹی ایم) سے 5 سوالات پوچھتے ہوئے قانونی دائرے میں رہ کر ان کے جواب مانگنے کا اعلان کرتے ہوئے کہاکہ پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم)جن لوگوں کے مسائل کو بنیاد بنا کر کام کر رہی ہے اس کا وقت ختم ہوگیا، آپ فوج سے کس بدلے کی بات کر رہے ہیں، کوئی ریاست سے لڑائی نہیں کرسکتا۔

مدارس کو مرکزی دھارے میں لانے اور وزارت تعلیم کے ماتحت کرنے کا فیصلہ کیا ہے، وزیراعظم نے عصر حاضرکے تقاضوں کے مطابق نصاب بنانے کیلیے کمیٹی بنائی ہے جو مدارس کیلیے نصاب تیار کرے گی، مدارس کے نصاب میں دین اور اسلام ہوگا لیکن نفرت انگیز مواد نہیں۔ان خیالات کا اظہار میجر جنرل آصف غفور نے پیر کو یہاں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا۔

ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ بھارت کے ساتھ کشیدگی کے حوالہ سے پہلی مرتبہ میں نے 22 فروری کو میڈیا سے بات کی تھی جب انہوں نے پلوامہ کے الزامات ہم پر لگائے او ر میں نے ان وجوہات کاذکر کیا تھا کہ کس طریقہ سے ریاست پاکستان پلوامہ کے حملہ کے ساتھ کسی طور بھی ملوث نہیں اور بھارت سے یہ بھی کہا تھا کہ وزیر اعظم پاکستان کی شواہد کی بنیاد پر تحقیقات اورمذاکرات کی جو تجویز ہے اس پر سنجیدگی سے غور کرے۔ اس کے بعد 26 فروری کی صبح بھارت نے ہماری فضائی حدود کی خلاف ورزی کی اور ہم نے ان کی اسٹرائیک کو ناکام بنایا اور انہیں میں نے نوٹس بھی دیا تھا کہ اب ہمارے جو اب کا انتظار کریں کیونکہ وزیر اعظم پاکستان نے کہا تھا کہ ہم جواب دینے کے لئے مجبور ہوں گے اور پھر 27 فروری کواللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے بھر پور جواب دینے کے بعد اور ان کے دو جہاز گرانے اور ایک پائلٹ کو گرفتار کرنے کے بعد اس کے اوپر میں نے میڈیا سے بات چیت کی اور تفصیلات بتائی تھیں۔

میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ 27 فروری کو گزرے آج تقریباً دو ماہ ہو گئے ہیںاور بھارت ان گنت جھوٹ بولے جا رہا ہے۔ ہم نے ایک ذمہ دار ملک کا ثبوت دیتے ہوئے ان کی لفظی اشتعال انگیزی کا بھی جواب نہیں دیا،یہ نہیں کہ ہم جواب دے نہیں سکتے، وہ جھوٹ بولیں اور ہم اس جھوٹ کا جواب دیں، جھوٹ کو سچ کرنے کے لئے بار بار جھوٹ بولنا پڑتا ہے جبکہ سچ ایک دفعہ بولا جاتا ہے۔ ہم نے بھارت کے جھوٹوں کا بھی جواب نہیں دیا، اسی لئے ان کو بار بار جھوٹ بولنا پڑ رہا ہے۔ حقیقت کیا تھی، حقیقت یہ تھی کہ پلوامہ میں ایک واقعہ ہوا اور یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں تھا اور پلوامہ میں پولیس کے خلاف اس قسم کے حملے گذشتہ تین چار سال سے جاری ہیں، اسی قسم کے واقعات اس پولیس کے خلاف لوکل ری ایکشن کے طور پر پہلے بھی ہوتے رہے اور ہم نے کہا کہ آپ کے پاس کوئی ثبوت ہے تو اسے پیش کریں۔ہم نے بھارت کی ائیر اسٹرائیک ناکام بنائی اور ہماری طرف نہ کوئی جانی نقصان ہوا اور نہ کوئی انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچایا گیا ،نہ صرف مقامی میڈیا نے دیکھا بلکہ جب غیرملکی میڈیا گیا تو ہم نے ان کو بھی جا کردکھایا بلکہ میں نے غیر ملکی میڈیا سے کہا کہ آپ چونکہ بھارت سے آئے ہیں اور آپ نے واپس بھارت جانا ہے تو ان سے کہیںوہ جو کہتے ہیں کہ ہم نے اس انفراسٹرکچر کو گرا دیا اور300 دہشت گرد مار دیئے اور بعد میں انہوں نے کہا کہ ہم نے ایسا میزائل مارا تھا جو چھوٹا سا سوراخ کر کے چھت سے اندر گیا اوراندر جا کر پھٹا۔

میں نے غیر ملکی میڈیا سے کہا کہ آپ واپس جائیں اور بھارت سے کہیں کہ ایک دفعہ اس کا ڈیمونسٹریشن دے دیں اور براہ راست نشر کر دیں اگر وہاں ہو گیا تو ہم اس کو مان لیں گے، اس قسم کے چھوٹ بولتے رہے ۔ میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ اگر بھارت کو ابھی بھی تسلی نہیں ہوئی تو وہ اپنا میڈیا پاکستان بھیج دے میں ان کو سہولت فراہم کروں گا کہ وہ جائیں اور وہاں جا کردیکھیں کہ کہاں انہوں نے حملہ کیا اور اس کا کیا نتیجہ نکلا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کے دو جہاز ہماری ائیر فورس نے گرائے اور دونوں کا ملبہ پوری دنیا نے زمین پر دیکھا۔ بھارت کیائیرفورس نے اپنا ہی ایم آئی17 ہماری ائیر فورس کے ڈر سے گرا دیا، اس کا بلیک باکس بھی آپ نے گم کر دیا اور اس کی انکوئری بھٹنڈاکے روٹ سے ڈال دی کہ جب الیکشن ختم ہو جائیں گے تو اس کا نتیجہ آجائے گا۔ جھوٹ کی کوئی حد نہیں ہے، اس کے جواب میں انہوں نے بعد میںجو کہانی بنائی کہ پہلے ڈی جی آئی ایس پی آر نے دو پائلٹ بتائے تھے اور پھر ایک ہو گیا تو وہ جو ایک پائلٹ تھا وہ پاکستان کے ایف 16 کا تھا۔

جب جنگ ہو رہی ہوتی ہے اور اس قسم کی جنگی لڑائی ہو رہی ہوتی ہے تو زمین سے آپ کو اطلاعات آرہی ہوتی ہیں اور میں نے اطلاعات کی بنیاد پر پریس کانفرنس میں دو پائلٹس کا ذکر کیا اور جب میں واپس گیا تو مکمل رپورٹ آچکی تھی میں نے وضاحت کی کہ ایک ہی پائلٹ تھا وہ دو مختلف جگہ سے رپورٹ ہوا کہ سر پائٹ گرتا ہوا دیکھا ہے۔ پائلٹ پکڑ لیا۔ بھارت نے کہا کہ اس نے پاکستان کا ایف 16 گرایا آج کے دور میں کوئی بات چھپتی نہیں ہے، ایف 16 تو بہت بڑی چیز ہے آج کل تو موٹرسائیکل لگ جائے تو اس کی خبر نہیں چھپتی۔

آصف غفور کا کہنا تھا کہ ایک آرٹیکل میں بتایاگیا کہ امریکہ نے پاکستانی ایف 16 طیاروں کی گنتی کی اور ہمارے تعلقات امریکہ سے جیسے بھی ہیں ،آپ کے امریکہ کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں پلیز ایک دفعہ کہیں کہ ایک دفعہ بیان دے دیں کہ پاکستان کا ایک ایف 16 کم ہے، جھوٹ کے پائوں نہیں ہوتے۔ ہمارے پاس بتانے کو بہت کچھ ہے ، ہم نے صرف اس وجہ سے اپنی خاموشی رکھی کہ ہم نے ابھی اپنے پائلٹس کی عزت افزائی کرنی ہے، ائیرفورس کے شاہینوں نے جو اتنا اچھا کام کیاہے ان کی عزت افزائی کرنی ہے، لیکن ہم صرف اس وقت کا انتظار کر رہے ہیں کہ جب حالات مناسب ہو جائیں۔ آپ نے بالاکوٹ کی اسٹرائیک کا ٹیبو بنایا کہ ہم نے یہ کر دیا وہ کر دیا ، تو جو پاکستان نے نوشہرہ میں کائونٹر اسٹرائیک کی اس کے نتیجہ میں کیا ہواوہ آپ نے کسی کو نہیں بتایا۔ آپ نے رات میں کارروائی کی ہم نے دن میں کی، آپ نے ایک ٹارگٹ انگیج کرنے کے لئے چار میزائل گرائے ، ہم نے چار ٹاگٹ انگیج کرنے کے لئے چھ میزائل گرائے ، وہ میزائل جس ایمونیشن ڈپو کے پاس گرے، بتایئے کہ اس ایمونیشن کی کیا صورتحال ہے؟ وہ استعمال کرنے کے قابل ہے کہ نہیں ہے؟ جس برگیڈ ہیڈکوارٹر کے نزدیک ہماری اسٹرائیک گئی اور ہم نے جان بوجھ کر اس کو سیفٹی ڈسٹینس پر فائر کیا، اس برگیڈ ہیڈکوارٹر میں کون موجود تھا یہ بھی بتایئے۔

بھارت کہہ رہا ہے کہ پاکستان کو رویہ تبدیل کرنا ہے ،آپ تو نہیںکر سکے لیکن ہماراچھے رویہ کو دیکھتے ہوئے کچھ کچھ چیزیں اچھی کرنی شروع کر دی ہیں، ہم نے بتایا کہ ہم نے بزر ٹاپ کھول دیا ہے توآپ نے دو دن بعد رجیلا پاس کے اوپر کھڑے ہو کر فوٹو کھنچوائے اور لگا بھی دیے، ہم اپنے میڈیا پر شہید آف دی ڈے دیتے ہیں آپ نے بھی دینا شروع کر دیا، ہم بہت خوش ہیں ۔ہمارا گانا بھی آپ نے بنا کے ڈال دیا۔ ہمیں اچھا لگتا ہے کہ آپ ہماری اچھی باتیں اپنائیں، آپ کے رویہ میں ہم نے تبدیلی ڈال دی ہے، آپ جو ہمارے اندر تبدیلی چاہتے ہیں کبھی نہیں ہو سکتا۔ ہم خواہش کرتے ہیں کہ بھارت ہمارے اچھے پیغامات کو دیکھے گا اور امن کی طرف چلیں گے۔

بھارت میں الیکشن چل رہے ہیں اور الیکشن میں بہت ساری باتیں ہوتی ہیں ،بہت سار ی باتیں ہم نے سنیں یہاں تک کہ نیو کلئیر کی بھی سنیں،جب پہلے بھی بھارت کے آرمی چیف نے نیوکلئیر کی بات کی تھی تو میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ جس کے پاس جوہری صلاحیت ہوتی ہے ، سمجھداری کی بات یہ ہوتی ہے کہ اس صلاحیت کو استعمال کرنے کی بات نہیں کی جاتی ، یہ ڈیٹرنس کا ہتھیار ہے اور ریاست کے عتماد میں اضافہ کرتی ہے جس کے پاس یہ ہتھیار ہوتا ہے ،آپ بات کرتے ہیںدیوالیوں پے چلانے کے لئے نہیں رکھا، تو جب ملکی سلا متی اور دفاع کی باری آتی ہے تو ہر قسم کی صلاحیت استعمال ہوتی ہے اور پاکستان بھی حق رکھتا ہے کہ کسی بھی قسم کی صلاحیت استعمال کرے گا اس میں آپ کو کوئی شک نہیں رہنا چا ہیئے ، اگر آپ کا دل ہے توآزما لیں ،لیکن پھر 27 فروری کی ہماری نوشہرہ اسٹرائیک اور پھر اس کے بعد اپنے گرنے والے جہازوں کا حساب بھی ذہن میں رکھیں اور نتائج بھی ذہن میں رکھیں۔

بھارت ہمارے جذبہ کا امتحان نہ لے اگر کوئی ایسا وقت آیا تو افواج پاکستان 207 ملین پاکستانیوں کی سپورٹ سے اور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے بھر پور دفاع کرے گی اور 27 فروری کو دہرائے گی۔ اور یہ بھی یاد رکھیں کہ یہ 1971 نہیں ہے، نہ وہ فوج ہے، نہ وہ حالات ہیں اور سب سے بڑھ کر میڈیا کو خراج تحسین کرنا چاہتا ہوں اگر 1971 میں آج کا میڈیا ہوتا تو آپ کی سازشوں کو بے نقاب کر سکتا ، وہاں پر ہونے والے حالات کی رپورٹنگ کر سکتا ،وہاں پر ہونے والی زیادتیوں کی رپورٹنگ کرتا تو آج مشرقی پاکستان علیحدہ نہ ہوا ہوتا۔ میڈیا نے گزشتہ دو دہائیوں میں دہشت گردی اور خاص طور پر جو تین دن کی جنگ تھی اس میں جو کردار ادا کیا ہے اس سے بہتر میڈیا کا کردار نہیں ہو سکتا اور ہم امید کرتے ہیں کہ ہمارا میڈیا ایسے ہی ذمہ دار رہے گا اور آپ کے میڈیا کےرویہ میں تبدیلی کی ضرورت ہے ، ہماری اردو میں ایک محاورہ ہے جو گرجتے ہیں وہ برستے نہیں۔ حالیہ حالات میں کامیابی پر سب سے پہلے اللہ کا شکر، قوم کا شکریہ، سیاسی قیادت کا شکریہ، میڈیا کا شکریہ اور بالخصوص سوشل میڈیا پر موجود پاکستانی نوجوانوں کا شکریہ جنہوں نے پاکستان کا بھر پور انداز میں بھارتی پراپیگنڈا کے خلاف دفاع کیا۔

پشتون تحفظ موومنٹ(پی ٹی ایم)کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب یہ موومنٹ شروع ہوئی تو سب سے پہلے ان سے میری بات ہوئی، آرمی چیف نے کہا کہ یہ غلط بات بھی کہیں تو ان پر سخت ہاتھ نہیں رکھنا کیونکہ یہ ان نوجوانوں کی بات کرتے ہیں جنہوں نے شروع سے جنگ دیکھی ہے۔ میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ پی ٹی ایم کے ساتھ ملاقات ہوئی تو محسن داوڑ نے اگلے دن کہا کہ آپ نے اعلان کردیا ہے، میری محسن داوڑ، ان کے رہنماں سے بات چیت کی تو انہوں نے کہا کہ ان کے 3 مطالبات ہیں۔

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ ان کا پہلا مطالبہ یہ تھا کہ بارودی سرنگیں ہیں، چونکہ ان علاقوں میں جنگ ہوئی ہے، وہاں دیسی ساختہ بم پڑے ہیں، یہ جائز مطالبہ تھا، اس پر ہم نے کام بھی کیا اور 48 ٹیمیں تعینات کی اور انجینئرز کی ان ٹیموں نے 45 فیصد علاقے کو مائنز سے کلیئر کیا۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ فوج جن علاقوں کو کلیئر کروانے جاتی ہے وہ علاقے موت ہیں اور اس حوالے سے آگاہی مہم بھی چلائی گئی کہ یہاں دیسی ساختہ بم موجود ہیں یہاں کا رخ نہ کریں، بچوں اور جوانوں کو بتایا گیا کہ اس کی ساخت کیا ہے، نظر آئے تو اسے ہاتھ نہ لگائیں ہمیں اطلاع دیں۔

میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ جب سے ان 48 ٹیموں نے یہ کلیرنس آپریشن شروع کیا ہے تو اس کے باوجود پاک فوج کے 101 جوان شہید ہوئے ہیں، یہ کس لیے شہید ہوئے، یہ سب اپنا کام کرتے ہوئے شہید ہوئے لیکن اس لیے کام کیا کیونکہ مطالبہ بھی جائز تھا۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی ایم کا دوسرا مطالبہ یہ تھا کہ چیک پوسٹیں ختم کی جائیں، اس پورے آپریشن کے دوران 6 ہزار پاک فوج کے جوانوں نے جانوں کا نظرانہ دیا، یہ جو پشتونوں کے تحفظ کی بات کرتے ہیں یہ اس وقت کدھر تھے جب لوگوں کے گلے کاٹے جارہے تھے، آج جب بحالی کا کام شروع ہوگیا تو تحفظ کی بات کر رہے ہیں۔ا

نہوں نے کہا کہ پی ٹی ایم کا دوسرا مطالبہ چیک پوسٹ سے متعلق تھا، وہاں چیک پوسٹیں پاک فوج کی ہوتی ہیں اس میں ہم یہ نہیں کہتے کہ اس صوبے کا فوجی ہے، ان آپریشنز کے دوران 6 ہزار سے زائد فوجی شہید ہوئے وہ تمام کسی ایک صوبے کے نہیں تھے، ان میں کراچی کا جوان بھی تھا، سیالکوٹ کا تھا، لیاری، کشمیر، بلوچستان کا بھی تھا، اس کا خاندان وہاں نہیں تھا، جب اس نے خیبر میں شہادت دی یا اس کا بازو گیا یا وہ چیک پوسٹ پر کھڑا تھا اور دھماکہ ہوگیا تھا تو وہ اپنے خاندان کی حفاظت کے لیے وہاں نہیں کھڑا تھا۔میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ یہ جو پشتون تحفظ موومنٹ کی بات کرتے ہیں یہ اس وقت کہاں تھے جب وہاں کے لوگوں کے گلے کٹ رہے تھے اور وہاں فٹ بال کھیلا جارہا تھا، تب محسن داوڑ، منظور پشتین اور علی وزیر کدھر تھے، ذرا پوچھیں ان سے؟ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اس وقت تو پاک فوج نے جاکر دہشت گردوں سے لڑائی کی تھی اور انہیں وہاں سے نکالا تھا، آج جب حالات ٹھیک ہوگئے ہیں، جب ترقیاتی کام اور بحالی کا کام شروع ہوگیا ہے تو تحفظ کی بات آگئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی ایم کا تیسرا مطالبہ لاپتہ افراد سے متعلق تھا، یہ ابتدائی طور پر6 یا 7 ہزار لاپتہ افراد کی فہرست لے کر آئے، اس پر بہت کام ہوا، اس حوالے سے قانونی طریقے سے جو کمیشن بنا وہ روزانہ کی بنیادوں پر ان کی بات سنتا ہے اور اب یہ فہرست میں تعداد کم ہوگئی ہے جبکہ 2500 ہزار کیسز ایسے ہیں جو حل نہیں ہوئے۔ ترجمان پاک فوج نے کہا کہ یہ تین مطالبات ان کے نہیں ہیں نہ ہی تکلیفیں ان کی ہیں، یہ مطالبات اور تکلیفیں ان پٹھان بھائیوں کی ہیں جو دن رات وہاں رہتے ہیں یہ تو لوگ تو وہاں رہتے بھی نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ فوج سے زیادہ کس کی خواہش ہوگی کہ وہ علاقے بحال ہوں، وہاں روزگار آئے، لوگ وہاں خوش رہیں کیونکہ وہاں کے مقامی لوگوں کے مسائل جائز ہیں۔ اس موقع پر میجر جنرل آصف غفور نے سیکیورٹی اداروں کی طرف سے پشتون تحفظ موومنٹ( پی ٹی ایم ) سے 5 سوالات کیے۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی ایم کی ویب سائٹ پر چندے کی تفصیل دی گئی ہے کہ یہ بیرون ملک جہاں بھی پٹھان ہیں ان سے فنڈ اکٹھا کرتے ہیں کہ اور کہتے ہیں کہ ہمارے ساتھ زیادتی ہورہی ہے، میں ان سے پوچھتا ہوں کہ جو آپ نے ویب سائٹ پر تفصیل دی ہے اس سے بہت زیادہ پیسہ اکٹھا ہوا ہے۔

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ پی ٹی ایم بتائے ان کے پاس کتنا پیسہ ہے اور یہ کہاں سے آیا ہے ؟ مالی معاملات سے متعلق 22 مارچ 2018 کو این ڈی ایس نے انہیں احتجاج جاری رکھنے کے لیے کتنے پیسے دیے؟ کہاں دیے اور وہ کہاں ہیں؟ڈی جی آئی ایس پی آر نے سوال کیا کہ اسلام آباد میں سب سے پہلے دھرنے کے لیے بھارتی خفیہ ایجنسی را نے پی ٹی ایم کو کتنے پیسے دیے، کس طریقے سے پہنچے اور انہوں نے کہاں استعمال کیے؟ 8 اپریل 2018 کو قندھار میں قائم بھارتی قونصل خانے میں منظور پشتین کا کون سا رشتے دار تھا جو وہ اس قونصل خانے میں گئے، اس سے ملاقات ہوئی ساتھ میں ایک دوست بھی تھا، انہیں کتنے پیسے دیے اور وہ پاکستان کیسے آئے؟ 8 مئی 2018 کو جلال آباد میں قائم بھارتی قونصل خانے نے طورخم میں احتجاجی ریلی کے لیے کتنے پیسے دیے، وہ پیسے کس طریقے سے آئے اور کہاں ہیں؟۔

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ محمد اسمعیل بون ژوندون ٹی وی کا پشتون تحفظ موومنٹ سے کیا تعلق ہے؟ مئی 2018 میں بھارتی سفارت کاروں نے کتنے ڈالر دیے، کس لیے دیے اور کیسے آپ تک پہنچے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے پوچھا کہ پی ٹی ایم بتائے کہ حوالہ، ہنڈی کے ذریعے افغانستان سے کتنا پیسہ آرہا ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ کابل میں حاجی میر افغان صافی اور دبئی میں نصیر زادران ان دونوں کا پی ٹی ایم سے کیا تعلق ہے؟ کیا وہ آپ کو سپورٹ کرتے ہیں، کیسے کرتے ہیں؟ان کا کہنا تھا کہ 31 مارچ 2019 کو ارمان لونی کے چہلم اور پشاور کے جلسے کے لیے این ڈی ایس نے کتنے پیسے دیے؟ وہ پیسے کیسے پہنچے اور کیسے آپ نے استعمال کیے؟ڈی جی آئی ایس پی آر نے سوال کیا کہ مشعل خان کینیڈا سے کابل کیوں آیا ہے؟ پی ٹی ایم اور بلوچ علیحدگی پسندوں کا کیا تعلق ہے؟

ان کا کہنا تھا کہ ان کا کہنا تھا کہ ایس پی طاہر داوڑ افغانستان میں شہید ہوتے ہیں، حکومتِ پاکستان، حکومتِ افغانستان سے ان کے جسدِ خاکی کی واپسی کے لیے بات چیت کررہی ہے اور ایک طریقہ کار ہے لیکن پی ٹی ایم کس بنیاد پر وہاں بات کررہی ہے کہ ہمیں قبیلے کی سطح پر جسدِ خاکی دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حکومت کا کام ہے، دو ملکوں کا کام ہے یا آپ کا ذاتی کام ہے؟کیوں منع کیا گیا کہ طاہر داوڑ کا جسدِ خاکی حکومتی نمائندوں کو نہیں دینا، آپ پاکستان کے ایم این اے ہیں ، آپ پر پاکستان کا قانون لاگو ہوتا ہے، آپ کیسے زبردستی سرحد کراس کرکے افغانستان جاسکتے ہیں اور ساتھ لوگوں کو بھی لے کر جائیں؟ کون سا قانون اجازت دیتا ہے کہ آپ اشتعال انگیزی کرائیں لوگوں کو پکڑیں ایک جلوس بنائیں اور کہیں کہ میں نے آج افغانستان جانا ہے۔

ملک کی سیکیورٹی صورتحال پر بات چیت کرتے ہوئے ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ پاکستان کی 65 فیصد آبادی 25 سے30 سال کے درمیان ہے، ان بچوں نے اپنے ہوش سنبھالنے کے بعد ملک میں دہشت گردی، آپریشن اور امن و امان کی صورتحال دیکھی۔اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ60 اور70 کی دہائی میں پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن تھا، ہماری جی ڈی پی بہت اچھی تھی، ہمارے یہاں امن و امان کی صورتحال بہت بہتر تھی، بین المذاہب ہم آہنگی تھی لیکن پھر ایسا ہوا جس کی وجہ سے پاکستان کو مشکلات ہوئیں۔

میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ 4 ایسی وجوہات ہیں جس سے یہ سب ہوا، پہلا یہ کشمیر کا معاملہ کیونکہ کشمیر ہماری رگوں میں دوڑتا ہے اور یہ ہمارے نظریے کے ساتھ ہے، ہر پاکستانی کے ذہن میں ہے کہ کشمیر کو ہم نے آزاد کرانا ہے، اس کے لیے کئی جنگیں ہوئیں، دوسرا یہ پاکستان کی ایک جغرافیہ ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ خطے میں افغانستان میں 40 سال سے پہلے سوویت یونین آئی پھر نائن الیون کے بعد امریکی فورسز آئیں تو خطے کے اندر بین الاقوامی پراکسیز چل رہی ہیں جس کے نتیجے میں1979 کے بعد افغان جنگ کے ساتھ ایک جہاد کی ترویج شروع ہوئی، ساتھ ہی ایران میں انقلاب آیا جس کا ہمارے معاشرے پر یہ اثر ہوا کہ مدرسے بڑھنے شروع ہوگئے ان میں جہاد کی تر ویج زیادہ ہوگئی۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں جو جنگ چل رہی تھی اسے جائز قرار دے کر اس حساب سے فیصلے لیے گئے اور اس طریقے سے پاکستان میں ایک جہاد کی فضا قائم ہوگئی، اس کے علاوہ خطے میں دوسری پراکسیز تھیں، سعودی عرب اور ایران ان کے درمیان فرقہ وارانہ فسادات شروع ہوگئے اور عسکریت پسندی اور انتہا پسندی ہمارے معاشرے میں شامل ہونا شروع ہوگئی۔ میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ11 ستمبر کے بعد جب عالمی منظرنامہ تبدیل ہوا اس سے ہمارے خطے میں طاقت کی بنیاد پر مقابلہ جیوپولیٹیکس کے ساتھ ساتھ جیو اکانومی پر بھی شروع ہوگئی، امریکہ کے اپنے مفادات ہیں، چین کے اپنے، بھارت کے اپنے اور ہمارے اپنے مفادات ہیں تو بین الاقوامی قوتوں نے چاہا کہ ان کی سوچ اور ان کے فائدے کے مطابق پاکستان کی پالیسی بنانے پر مجبور کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ اس حساب سے ایک ماحول بنتا ہے کہ کس طریقے سے بین الاقوامی قوتیں اس فریم ورک میں لانے کے لیے کوشش کرتی ہیں طاقت کے کیسے حربے استعمال کرتے ہیں، کس کس قسم کے حملے ہوتے ہیں جنہیں ہم ففتھ جنریشن اور ہائبرڈ وار کہتے ہیں وہ چل رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک وجہ یہ بھی ہے کہ بھارت میں جو اسلام کے خلاف باتیں شروع ہوئی ہیں، اس پر یہاں کے عوام کے دل میں درد ہوتا ہے، ان چیزوں کی وجہ سے 4 دہائیاں پاکستان کو اس دہانے پر لے کر آئیں۔ ان تمام چیزوں پر بات چیت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ افغانستان سے پاکستان میں جب دہشت گردی آئی تو پاکستان نے دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں کیں۔ پاک فوج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ 2014 میں نیشنل ایکشن پلان بنایا جبکہ 2016 میں آرمی چیف نے کہا کہ ہم نے جو 30 سال پہلے بویا وہ کاٹا بھی، جس پر کہا گیا کہ فوج نے اپنی غلطی تسلیم کرلی۔

انہوں نے کہا کہ ریاست پاکستان بہت عرصہ پہلے فیصلہ کرچکے تھی کہ ہم نے اپنے معاشرے کو انتہاپسندی سے پاک کرنا ہے، جو کالعدم تنظیمیں ہیں ان سے متعلق یکم جنوری کو فیصلہ ہوگیا تھا لیکن مالیاتی مسائل تھے، جس کے بعد فروری میں اس کا دوبارہ اعلان کیا گیا اور فنڈز بھی جاری کیا۔ میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ ان تنظیموں کا ہسپتال، مدرسے اور فلاحی کاموں کو حکومت نے اپنے زیر انتظام لینے کا فیصلہ کیا، پاکستان کا تعلیمی نظام یہ ہے کہ ہمارا نمبر دنیا میں 129 پر ہے اور اڑھائی کروڑ بچے اسکول سے باہر ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں30 ہزار سے زائد مدرسے ہیں جس میں اڑھائی کروڑ بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں، جس میں70 فیصد ایسے مدرسے ہیں جہاں ایک ہزار ماہانہ خرچ ہوتا ہے جبکہ25 فیصد ایسے ہیں جس میں تھوڑا زیادہ خرچ ہوتا ہے اور5 فیصد مدرسوں کا انفرااسٹرکچر زیادہ اچھا ہے جہاں15 سے20 ہزار روپے ماہانہ خرچ کیے جاتے ہیں۔

پاک فوج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ اب یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ ان مدرسوں کو قومی دھارے میں لایا جائے گا اور حکومت نے ان تمام مدرسوں کو وزارت تعلیم میں لانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ تمام علما کرام اس بات سے متفق ہیں کہ انہیں قومی دھارے میں لایا جائے اور ایسا نصاب بنایا جائے گا جس میں منافرت کی کوئی چیز نہیں ہوگی۔وزیراعظم نے عصر حاضرکے تقاضوں کے مطابق نصاب بنانے کیلیے کمیٹی بنائی ہے جو مدارس کیلیے نصاب تیار کرے گی، مدارس کے نصاب میں دین اور اسلام ہوگا لیکن نفرت انگیز مواد نہیں۔

میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ پاکستان میں 30 ہزار سے زائد مدارس ہیں جن میں 25 لاکھ بچے زیر تعلیم ہیں، 1947 میں مدارس کی تعداد 247 تھی جو 1980 میں 2861 ہوگئی اور آج 30 ہزار سے زیادہ ہے، جہاد افغانستان کے بعد پاکستان میں مدارس کھولے گئے اور جہاد کی ترویج کی گئی، آرمی چیف کی ہدایت ہے کہ اپنا فقہ چھوڑو نہیں اور دوسرے کا فقہ چھیڑو نہیں، مدارس کے نصاب میں تبدیلی نہیں ہوگی لیکن منافرت پھیلانے والا مواد بھی نہیں ہوگا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ عسکریت پسندی کی طرف لے جانے والے مدارس کی تعداد 100 سے بھی کم ہے، بیشتر مدارس پرامن ہیں، مدرسے کے ایک طالبعلم نے آرمی میں کمیشن بھی حاصل کیا ہے، لیکن ان مدارس کے بچوں کے پاس ملازمت کے کیا مواقع ہوتے ہیں، اسلام کی تعلیم جیسی ہے چلتی رہے گی لیکن نفرت پر مبنی مواد نہیں ہوگا، دوسرے فرقے کے احترام پر زور دیا جائے گا، نصاب میں درس نظامی کے ساتھ ساتھ عصر حاضر کے مضامین بھی ہوں گے، ہر مدرسے میں چار سے 6 مضامین کے اساتذہ درکار ہوں گے، اس سے متعلق بل تیار ہورہا ہے، پھر نصاب پر نظرثانی ہوگی، دہشت گردی کے مقابلے سے فارغ ہورہے ہیں، اب انتہاپسندی کا خاتمہ کرنا ہے۔

پراکسیز کے حوالے سے بات چیت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اس میں اپنا اہم کردار ادا کر رہا ہے، ہمارا دفتر خارجہ بہت اہم کردار ادا کر رہا ہے، ہم نے پاکستان میں وہ ماحول دینا ہے جس سے سوشل اکنامک سرگرمیاں ہوں۔ جنرل آصف غفور نے اس موقع پر پشتو میں پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ہم پختونوں سے امید رکھتے ہیں آپ ملک دشمن قوتوں کا راستہ روکیں گے اور ان کی باتوں میں نہیں آئینگے، اور پاکستان کو مضبوط کرنے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔ کچھ لوگ کسی کے ورغلانے پر آپ کو پاکستان اور اداروں کیخلاف اکسانا چاہتے ہیں، خدانخواستہ پاکستان کو کوئی نقصان ہوگا تو یہ ہم سب کا نقصان ہو گا۔ پاک فوج آپ کی ہے۔ جیسے پاکستان ہم سب کا ہے۔ اگر پاکستان خوشحال اور آباد ہوگا تو ہم سب بشمول پختون خوشحال ہوں گے۔

میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ مملکت پاکستان کو آپ کی قربانیوں کا اِحساس ہے۔ ریاست اس سلسلے میں دن رات مسلسل کوشش کر رہی ہے کہ آپ کے مسائل حل کر دیں اور میں آپ سب کویہ بتاناچاہتا ہوں کہ پاک فوج اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھے گی جب تک آپ کے مسائل حل نہ ہوں۔ نقیب اللہ قتل کیس میں ملوث سندھ پولیس کے سابق افسر را وانوار کے خلاف کوئی کارروائی نہ ہونے کے سوال پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پی ٹی ایم کو ایک سیاسی جماعت سپورٹ کر رہی ہے، بچہ تو را وانوار اسی پارٹی کا تھا۔ ترجمان پاک فوج نے کہا کہ ہمارا دل نہیں ہوتا کہ کوئی آدمی لاپتہ ہو، لیکن جب جنگ ہوتی ہے تو اس میں بہت سے کام کرنے پڑتے ہیں، پی ٹی ایم پر میڈیا پر بحث نہیں کرائیں گے، ٹی وی چینلز ایک دن مجھے دے دیں، میں موضوع دوں گا اس پر ماہرین کو بلائیں، عدالتی اور پولیس اصلاحات پر بات کریں، 7 سے 12 تک ٹاک شور میں صرف مسائل پر بات ہوتی ہے، آپ حل بتائیں،ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا آج ہم ثبوت اور لاجک کے ساتھ کہتے ہیں کہ پاکستان کے اندر کسی قسم کا کوئی منظم دہشت گردی کا نیٹ ورک موجود نہیں ہے، ریاست بہت عرصے پہلے فیصلہ کرچکی تھی کہ اپنے معاشرے کو شدت پسندی سے پاک کرنا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں