suspicios case 178

نقیب اللہ قتل کیس‘سندھ ہائی کورٹ کی ضمانت منسوخی درخواست پر رائو انوار کو دلائل دینے کی آخری مہلت

Spread the love

ملزمان کی طرف سے گواہوں کو ڈرایا دھمکایا جارہا ہے، را ئوانوار اور دیگر ضمانتیں منسوخ کرکے جیل بھیجا جائے، مدعی کا موقف

را ئوانوار کو اس کی اپنی پولیس مجرم قرار دے چکی ہے اس کے باوجود ملزم کھلے عام گھوم رہا ہے،محمد خان محسود

میں شہید کے بچوں کا حق لینے سفر کرکے آتا ہوں لیکن انصاف نہیں مل رہا،سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)سندھ ہائی کورٹ نے نقیب اللہ قتل کیس میں سابق ایس ایس پی ملیر رائو انوار کی

ضمانت منسوخی کی درخواست پر ملزمان کے وکلا کو دلائل آخری مہلت دے دی۔پیر کو جسٹس آفتاب گورڑ

اور جسٹس امجد علی سہتو پر مشتمل دو رکنی بینچ کے روبرو نقیب اللہ قتل کیس میں سابق ایس پی ملیر رائو

انوار کی ضمانت منسوخی کی درخواست کی سماعت ہوئی۔ نقیب اللہ کے والد اور جرگہ عمائدین عدالت پہنچے

جبکہ سابق ایس ایس پی ملیر ملزم را ئوانوار پیش نہیں ہوئے۔ عامر منسوب نے موقف اپنایا کہ ملزم را ئوانوار

پیش نہیں ہوسکتے مہلت دی جائے۔مدعی کے وکیل نے موقف دیا کہ ملزمان کی طرف سے گواہوں کو ڈرایا

دھمکایا جارہا ہے۔ ملزمان کی جانب سے گواہوں کی جان کو خطرہ ہے، را ئوانوار اور دیگر ضمانتیں منسوخ

کرکے جیل بھیجا جائے۔ عدالت نے ملزمان کے وکلا کو آخری مہلت دیتے ہوئے 14 مئی کو ہر صورت دلائل

دینے کا حکم دے دیا۔سماعت کے بعد محمد خان محسود نے میڈیا سے غیر رسمی گفتگو میں کہا کہ را ئوانوار

کو اس کی اپنی پولیس مجرم قرار دے چکی ہے۔ اس کے باوجود ملزم کھلے عام گھوم رہا ہے۔ میں شہید کے

بچوں کا حق لینے سفر کرکے آتا ہوں لیکن انصاف نہیں مل رہا۔واضح رہے کہ مقتول نقیب اللہ کے والد محمد

خان محسود نے را انوار و دیگر کی ضمانتیں منسوخ کرنے کے لئے درخواست دائر کر رکھی ہے۔ دائر

درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ انسداد دہشت گردی عدالت نے را انوار و دیگر کی ضمانتیں منظور کی

ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں