ملک کو مقروض کرنے اور اپنے قرض معاف کرانے والے لیڈروں کی کہانی

Spread the love

روہیل اکبر ایک کہنہ مشق صحافی ہیں اور بہت ہی نپے تلے الفاظ کے ساتھ مختصر مگر جامع بات کرنے میں یدطولیٰ رکھتے ہیں 25 سال سے زائد عرصہ شعبہ صحافت کی نظر کر چکے ہیں پاکستان کی سیاسی صورتحال پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ پاکستان کے تمام قومی اخبارات میں ان کے کالم شائع ہوتے رہتے ہیں اور گاہے بگاہے ہمارے لیے کالم لکھا کریں گے۔

وزیراعظم پاکستان عمران خان جب بھی کہیں تقریر کرتے ہیں توملک میں کرپشن کرنے والوں اور پھر انکی مہربانیوں کی بدولت ملک پر قرضوں کے بوجھ کا ذکر ضرور کرتے ہیںہم پاکستانیوں کو ان قرضہ لینے اور پھر اسے ہڑپ کرنے والوں نے جتنا نقصان پہنچایا اتنا شائد ہمارے دشمنوں نے بھی نہیں پہنچایا ہوگا ایک طرف قرضہ لیکر ملک کو مقروض کیا گیا تو دوسری طرف قرضہ لیکر معاف کرواکر ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کیا گیا یہی وجہ ہے کہ آج تک ہم اپنے پاؤں پر کھڑے نہیں ہوسکے اور آج صورتحال یہ بن چکی ہے کہ ہم قرضہ ادا کرنا تو دور کی بات اسکا سود اداکرنے کے قابل بھی نہیں رہے ملک میں قرضوں کے حوالہ سے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کا دور بدترین رہا یہی وجہ ہے کہ آج ہر پاکستانی تقریباً پونے دو لاکھ کا مقروض ہوچکا ہے اور رہی سہی کسر ان لوگوں نے پوری کردی جنہوں نے قومی دولت کو مال مفت سمجھ کر اپنے اپنے ہاتھ صاف کیے اور ان میں کون کون سی شخصیات شامل تھیں جن میں سے چند ایک کے نام میں لکھوں گا باقیوں کا بھی گاہے بگاہے ذکر کرتا رہونگا۔

قرضہ خوروں کی تفصیل سے پہلے ملکی قرضوں کی کچھ تفصیل پیش کرتا ہوں کہ ہم نے 1958ءمیں پہلی دفعہ آئی ایم ایف کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ اُس وقت 1ڈالر 3روپے کا تھا جو 1965کی پاک بھارت جنگ کے بعد پاکستان کی بیرونی امداد چند ماہ کے لیے بند ہونے کی وجہ سے بڑھ کر 7روپے تک چلا گیا، لیکن معاشی حالات قدرے مضبوط ہی تھے اور تاریخ گواہ ہے کہ 1972ءتک ہم قرضوں کی ادائیگی کرسکتے تھے۔ سود کیساتھ اصل زر بھی واپس کرنے کی پوزیشن میں تھے۔ 1973 ءمیں ذوالفقار علی بھٹونے اپنے دور اقتدار میں محض 0.3ڈالر ہی بیرونی قرض لیا، پھر 1980 میں جنرل ضیاءالحق کے دور میں 2 ارب ڈالر کا لیا گیا قرض اسی دور میں واپس کیا گیا۔ اُن کے دور میں افغان جنگ کی وجہ سے ڈالر کی خاصی ریل پیل تھی اس لیےانہیں مزید قرض لینے کی کچھ خاص ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔

پھر1988 ءسے جمہوریت کا ”سنہری“دور محترمہ بے نظیر بھٹو کے وزیر اعظم بننے سے شروع ہوتا ہے، جب ڈالر 18روپے کا تھا۔ اور اسی سال دسمبر1988ءمیں محترمہ بے نظیر کی قیادت میں عالمی اداروں سے قرض کے دو پروگرام حاصل کیے گئے جو 1990 اور 1992 میں ختم ہوئے۔ ان پروگراموں کے ختم ہونے سے مراد یہ کہ قرض واپس کرنے کی مدت ختم ہوئی مگر قرض واپس نہ کیا گیا، اسی طرح نومبر 1990ءمیں نواز شریف کا پہلا دور حکومت شروع ہوا، انہوں نے بھی 1993ءمیں ایک ارب ڈالر کے قریب بیرونی قرض لیا۔1994میں محترمہ کے دوسرے دور حکومت میں آئی ایم ایف کا پھر در کھٹکھٹایاگیا، یہ وہ دور تھا جب قرض واپس کرنے کے بجائے بین الاقوامی اداروں کے چنگل میں پاکستان کے پھنسنے کا آغاز ہوچکا تھا اور اصل رقم کی بجائے پاکستان محض اوپر کا سود ہی ادا کرنے پر اکتفا کرتا تھا۔

اسی ڈگر پردونوں مذکورہ جماعتوں نے آئی ایم ایف، ایشائی ترقیاتی بینک اور عالمی بینک سے 1995 سے 1999 تک 3پروگرام لئے جووقت سے پہلے ہی فلاپ ہوگئے۔ اوراس طرح1999ءتک پاکستان پر بیرونی قرض کا کل حجم 39ارب ڈالر تک جا پہنچا یعنی پاکستان سود کی ادائیگی کے قابل بھی نہیں تھا یا یوں کہہ لیں کہ ڈیفالٹ اور دیوالیہ کے قریب تھا۔ رہی سہی کسر 1999 ءمیں جنرل مشرف کے مارشل لانے نکال دی جسکی وجہ سے دنیا بھر کے ممالک نے پاکستان پر اقتصادی پابندیاں لگا دی گئی اور آئی ایم ایف نے بھی پاکستان کے لیے قرض دینے کے دروازے بند کردیے۔ مشرف کی قسمت اچھی تھی کہ اس دوران 9/11جیسا بڑا واقعہ ہوگیا اور امریکا کو ایک بار پھر پاکستان کی ضرورت محسوس ہوئی، پاکستان پر پابندیوں کا خاتمہ ہوا۔1999ءاور2000ءکے اقتصادی جائزے کے مطابق جنرل مشرف نے پیرس کلب کے ساتھ معاہدہ کیا، کنسورشیم کو قرضوں کی ری شیڈولنگ پر راضی کرلیا۔

عالمی بینک اور آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچا لیا۔ اس عرصے میں پاکستان کے سارے سود ادا کرکے اصل زر میں سے بھی پانچ ارب ڈالر کی رقم واپس کی گئی۔ اور 2008ءمیں پاکستان پر قرضوں کا بوجھ کم ہوکر 34ارب ڈالر رہ گیا۔ اُس وقت ”منصوبہ 2020ئ“بھی بنایا گیا جس کے مطابق پاکستان 2020ءتک ملک کے قرضے چکا دے گا، 2000ءسے 2008ءتک پاکستانی کرنسی مستحکم رہی۔ 1999ءمیں 52روپے کا ڈالر تھا۔ نو سالوں میں 52اور 62روپے کے درمیان ہی رہا۔ نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد مارچ 2008کونیا دور جمہوریت شروع ہوا، لہٰذا نئی نویلی جمہوریت نے عالمی اداروں کا دروازہ کھٹکھٹایا اور 7.2ارب ڈالر کا تاریخی پیکج وصول کی 2008ءسے 2013ءتک کے پیپلزپارٹی کے پانچ سالوں میں بیرونی قرضہ 34 ارب ڈالر سے 59 ارب ڈالر تک جا پہنچا۔

پیپلز پارٹی نے پاکستان کو 25 ارب ڈالر کا مقروض کیا۔ اس کے بعد 2013ءمیں ن لیگ کا ”سنہرا“ دور شروع ہوا جس میں بیرونی قرضہ 59 ارب ڈالر سے 93 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ صرف جولائی 2016ءسے جنوری 2017ءکے سات ماہ میں 4.6ارب ڈالر کے نئے قرضے لیے گئے۔ اس2.3 ارب ڈالر میں سے ایک ارب ڈالر سکوک بانڈ کی فروخت سے حاصل کیے گئے۔ اس بانڈ کو فروخت کرنے کے لیے لاہور اسلام آباد موٹر وے کو ضمانت کے طور پر گروی رکھوایا گیا۔ جبکہ اگلے مرحلوں میں دیگر موٹر وے سمیت، ملک کے تمام ریڈیو اسٹیشن اور اہم عمارتیں عالمی منڈی میں گروی رکھوائی گئیں تاکہ پاکستان قرض کی ”نعمت“ سے استفادہ حاصل کرسکے۔ یوں ن لیگ نے پانچ سال کے دوران پاکستان کو 34 ارب ڈالر کا مقروض کیا۔ ان دونوں جماعتوں نے ملکر صرف 10 سال کے دوران مجموعی طور پر پاکستان کو 59 ارب ڈالر کا مقروض کیا۔ جب کہ اس سے پہلے کے 60 سالوں میں پاکستان کل 34 ارب ڈالر کا مقروض تھااب اگر ”اندرونی“ یعنی مقامی قرضوں کی بات کریں تو اس سے مراد مقامی بینکوں سے لیا جانے والا قرضہ ہے حیرت کی بات یہ ہے کہ پاکستان کا مقامی قرض، بیرون قرض سے زیادہ ہے۔ مشرف دور سے پہلے تک یہ قرضہ 3ہزار ارب روپے تھے جو آج بڑھ کر 20ہزار ارب روپے تک پہنچ چکے ہیں۔

پیپلز پارٹی نے اقتدار میں آکر تقریباً 6ہزارارب روپے کے اندرونی قرضے لیے جبکہ ن لیگ نے پانچ سالوں میں 9ہزار ارب روپے کے قرضے لیے۔ اسی طرح مشرف دور میں ہر پاکستانی 40ہزار روپے کا مقروض تھا، پیپلزپارٹی کے دور میں 80ہزار روپے کا، ن لیگ دور میں ڈیڑھ لاکھ روپے اور آج پونے دو لاکھ روپے کا مقروض ہوچکا ہے۔

آپ انڈسٹری کی بات کر لیں، جس پاکستانی پراڈکٹ کا دنیا بھر میں طوطی بولتا تھا، اُس پر پاکستان کے بجائے آج کل ”میڈان چائنہ“ یا ”میڈ ان بنگلہ دیش“ لکھا جانے لگا۔ پاکستان کی 70فیصد انڈسٹری آخری دس سالوں میں یا تو بند ہوگئی یا بنگلہ دیش منتقل ہوگئی۔ بیرونی سرمایہ کاری کا ستیا ناس کردیا گیا، 2007کی سٹیٹ بنک کی رپورٹ کے مطابق بیرونی سرمایہ کاری کا حجم 6ارب ڈالر تھا جو پی پی پی کے دور میں انتہا کی دہشت گرد کارروائیوں اور غیر مستحکم حالات کے باعث محض 0.8ارب ڈالر رہ گئی۔ جبکہ سابقہ ن لیگی دور میں مزید کم ہو کر0.2ارب ڈالر رہ گئی۔ (سی پیک بیرونی سرمایہ کاری نہیں بلکہ بھاری بھرکم سود والا قرضہ ہے)۔ ان کے علاوہ قومی اداروں میں سٹیل مل نے آخری دفعہ 2006ءمیں منافع کمایا۔

2008ءمیں اس کا کل خسارہ 16ارب روپے تھا۔ پیپلزپارٹی کے پانچ سالہ دور میں سٹیل مل کا کل خسارہ 118.7 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ جبکہ ن لیگ دور میں 200ارب روپے تک پہنچ گیا۔ اس کے علاوہ ریلوے، پی آئی اے بدستور سینکڑوں ارب کا خسار ہ ہوا۔

اب آتے ان قرضوں کی طرف جو ہمارے سیاستدانوں نے لیکر معاف کروالیے ہمارے ملک کے بزرگ سیاستدان چوہدری شجاعت حسین صاحب اور چوہدری پرویز الٰہی صاحب بھی سرفہرست ہیں جن کے ذمہ قرضوں کی تفصیل کچھ یوں جس پر آجکل مٹی پاؤ والا کام ہورہا ہے چوہدری برادران نے اپنے نام یعنی چودھری شجاعت حسین ولد چودھری ظہور الٰہی شناختی کارڈ نمبر 175002 -45-270، چوہدری پرویز الٰہی ولد چوہدری منظور الٰہی شناختی کارڈ نمبر
262086-45-270، چودھری گلزار محمد ولد چودھری فضل محمدشناختی کارڈ نمبر110269- 44-266، چودھری منظور الہی ولد چودھری سردار خان شناختی کارڈ نمبر031261-19-270، چودھری وجاہت حسین ولد چودھری ظہور الٰہی شناختی کارڈ نمبر 142208 -60-224، چودھری صباحت الٰہی ولد چودھری منظور الٰہی، چودھری شفقت حسین ولد چودھری ظہور الٰہی،مسز کوثر حسین،مسمات خالدہ بیگم،مسز کیثرا لٰہی جنکارجسٹرڈ کمپنی ایڈریس E-20گلبرگ (سی) III۔لاہور تھا اور سال 2000تک پھالیہ شوگر مل پراین ڈی ایف سی کا کل قرضہ چودہ کروڑ ننانوی لاکھ چھیالیس ہزار روپے بنتا تھا جو آج 18 سال بعد تین ارب ننانوے کروڑ بیس لاکھ باسٹھ ہزار تین سو بتیس روپے بنتا ہے کیا یہ غریب پاکستانیوں کے حق پر ڈاکہ نہیں ہے پاکستان کے سب سے بڑے قومی ترقیاتی مالیاتی ادارے NDFC کو چودھریوں سے قرضہ واپس نہ لینے کے لیے جنرل مشرف نے غیر قانونی طریقے سے NDFC کو نیشنل بینک کے قبضے میں دے دیا تھا اس وقت پاکستان میں NDFC کے کل نادہندگان کی تعداد 330 تھی اور NDFC کا ان نادہندگان کی طرف کل قرضہRs.88275901000 یعنی اٹھاسی ارب ستائیس کروڑ انسٹھ لاکھ ایک ہزار روپیہ تھااین ڈی ایف سی NDFC کے کم سے کم مارک اپ یعنی 16 فیصد ریٹ سے آج یہ کل رقم Rs.1276691494000 یعنی بارہ کھرب چھہتر ارب 69 کروڑ 14 لاکھ 94 ہزار روپے بنتی ہے کیا وزیراعظم اپنے ان سیاسی اتحادیوں سے بھی قرضہ واپس لے سکیں گے آخر میں ایک فلم کا ڈائیلاگ یاد آرہا ے کہ ہمیں تو اپنوں نے لوٹا غیروں میں کہاں دم تھا ۔

Leave a Reply