بینتو مسولینی

Spread the love

29 جولائی 1883 تا 28 اپریل 1945

اقتدار میں آ کر اس نے 5 لاکھ آدمی محض اس لیے موت کی بھینٹ چڑھا دیے کہ اسے بیسویں صدی کا ’’جولیس سیزر‘‘ کہا جائے …


پہلی  جنگِ عظیم کے بعد علامہ اقبالؒ کو یورپ جانے کا اتفاق ہوا اور مزید اتفاق یہ کہ اٹلی کے مشہورِ زمانہ ڈکٹیٹر ’’مسولینی‘‘ سے ان کی ملاقات بھی ہوگئی۔ ملاقات کے دوران مسولینی نے علامہ سے پوچھا کہ آپ حکومتی انتظام و انصرام کے حوالے سے کوئی مشورہ دے سکتے ہیں؟

علامہ نے فرمایا، اپنے شہروں کو بہت زیادہ پھیلنے نہ دیجیے گا، اگر ایسا ہوتا دکھائی دے تومناسب ہوگا کہ اُس شہر کو چھوڑ کر کچھ فاصلے پر ایک نیا شہر یا بستی تعمیر کرلیں۔ مسولینی نے پوچھا، اس سے کیا ہوگا؟ علامہ نے کہا کہ اس سے ایک تو یہ ہوگا کہ نسبتاً چھوٹے شہر انتظامی لحاظ سے آپ کے لیے مسئلہ نہیں بنیں گے، دوسرا یہ کہ ترقی کے زیادہ مواقع دیکھ کر دوسرے علاقوں کے بہت سارے لوگ چونکہ بڑے شہروں کا رُخ کرتے ہیں، لہٰذا بھانت بھانت کے لوگ ایک جگہ جمع ہوجانے سے کچھ ایسی قباحتیں پیدا ہو جاتی ہیں جن کا بعد میں تدارک مشکل ہوجاتا ہے۔

مسولینی نے پوچھا، کیا یہ آپ کا اپنا آئیڈیا ہے۔ علامہ نے فرمایا، نہیں، یہ آئیڈیا میرے نبی مکرمؐ نے آج سے 1400 سال پہلے دے دیا تھا۔ 1400 سال پہلے؟ مسولینی اس پر بڑا حیران تھا۔ یہ وہی مسولینی ہے جس کی زبانِ ’’معجزبیاں‘‘ سے علامہ نے اپنے کلام میں کچھ باتیں کہلوائی ہیں۔ جس میں مسولینی اپنے ہم عصر یورپی حکمرانوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہتا ہے

کیا زمانے سے نرالا ہے مسولینی کا جرم
بے محل بِگڑا ہے معصومانِ یورپ کا مزاج
میں پھٹکتا ہوں تو چھلنی کو بُرا لگتا ہے کیوں
ہیں سبھی تہذیب کے اوزار! تُو چھلنی میں چھاج
میرے سودائے ملوکیت کو ٹھکراتے ہو تم
تم نے کیا توڑے نہیں کمزور قوموں کے زُجاج؟

اقتدار میں آ کر اس نے 5 لاکھ آدمی محض اس لیے موت کی بھینٹ چڑھا دیے کہ اسے بیسویں صدی کا ’’جولیس سیزر‘‘ کہا جائے … اس حیرت انگیز اور خوفناک شخصیت کی کہانی کچھ یوں ہے۔ پچھلی صدی (بیسویں) کے آغاز میں ایک شخص سوئٹزرلینڈ میں ملازمت سے برطرف کر دیا گیا۔ اس نے امریکا میں دولت کی فراوانی کے متعلق کئی حیرت ناک کہانیاں سُن رکھی تھیں۔ لہٰذا ایک دن اس نے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لیے ہوا میں ایک سکہ اچھالا۔ اگر سر آیا تو وہ امریکا چل پڑے گا اور اگر دُم آئی تو وہ سوئٹزرلینڈ ہی ٹھہرے گا… دُم آگئی اور پھر دنیا کی تاریخ کا رخ بدل گیا۔ اگر یہ شخص (مسولینی) امریکا چلا گیا ہوتا تو عین ممکن ہے کہ اٹلی دوسری جنگِ عظیم میں نہ کودتا اور پھر شاید ہٹلر بھی اقتدار حاصل نہ کرتا کیونکہ جب مسولینی نے آمرانہ اقتدار حاصل کیا تو اس زمانے میں ہٹلر کی کوئی حیثیت نہ تھی اور مسولینی ہی سے ہٹلر نے آمرانہ اقتدار حاصل کرنے کے گُر سیکھے تھے۔

1904ء میں مسولینی اِس ڈر کے مارے کہ اسے فوج میں زبردستی بھرتی نہ کر لیا جائے، ایک جعلی پاسپورٹ پر اٹلی سے سوئٹزرلینڈ بھاگ گیا۔ وہاں ابتدا میں ایک ریلوے اسٹیشن پر قُلی کا کام کرتا رہا۔ پھر وہ اینٹیں بنانے کا کام کرنے لگا۔ اس کی بے چین طبیعت نے اُسے وہاں بھی چین نہ لینے دیا اور وہ ایک قصاب کے ہاں ملازم ہوگیا اور لوگوں کے گھر گوشت دینے جایا کرتا لیکن لوگوں سے اس کی ہمیشہ لڑائیاں رہتیں نتیجتاً اسے وہاں سے بھی نکال دیا گیا۔ اسے ہر ملازمت سے اکثر نکال دیا جاتا۔ اُسے سمجھ میں نہ آتا کہ آخر وہ کیا کرے۔ اس کے لیے ہر جگہ زمین تنگ تھی اور آسمان بے رحم۔

وہ اکثر مفلوک الحال ہوتا اور پُلوں کے نیچے رات بسر کرتا۔ اس کے کپڑے پھٹے پرانے ہوتے، بعض اوقات وہ اس قدر بھوکا ہوتا کہ اسے بھیک مانگنی پڑتی۔ ایک مرتبہ اُس نے پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے 2 ایسی خواتین کا کھانا چُرا لیا جو پکنک منا رہی تھیں۔ ایک اور موقع پر اس نے سونے کی گھڑی چُرالی۔ پولیس نے اُسے 11 مرتبہ قیدخانے کی سیر کرائی۔ اس کا والد ایک لوہار تھا، لہٰذا حالات کی سختی اور غربت اسے ورثے میں ملی تھی۔ قارئین…! بہت غور طلب معاملہ ہے کہ اس طرح کے حالات میں پلنے والا شخص اٹلی کا مطلق العنان حکمران (آمر) آخر کیسے بن گیا۔ آئیے ذرا کھوج لگاتے اور کہانی کا کچھ حصہ اُسی کی زبانی سنتے ہیں…

میں بچپن ہی سے اس بات کا احساس کر رہا تھا کہ ہماری چھوٹی سی دنیا غربت اور مفلسی کا شکار ہو رہی اور بہت تکلیف میں تھی۔ عوام کے دلوں میں اشراف کے خلاف ایک گہرا اور پوشیدہ کینہ پرورش پا رہا تھا۔ بڑے بڑے زمیندار اپنی دولت کے انباروں پر سانپ بن کر بیٹھے تھے۔ بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ وہ غریبوں کے گلے میں پتھر ہو کر لٹک رہے اور غریب بے چارے ان کے بوجھ تلے دبے جا رہے تھے اور تمام اٹلی کی یہی حالت تھی۔ یہ حالات تھے جن کے تحت مجھے یہ سوچنا تھا کہ میں کیا کر سکتا ہوں۔میں یہ چاہتا تھا اِس ماحول سے اُبھروں اور عوام کے سامنے آ کر کہوں، کہ یہ میں ہوں۔ مگر کیسے؟ یہی مجھے دیکھنا تھا۔

میں اپنے وطن اٹلی واپس آیا اور فوج میں بھرتی ہوگیا میں رجمنٹ میں اپنی میعاد پوری کرکے واپس گھر آگیا۔ اب مجھے آگے سوچنا تھا۔ ایک دن میں نے ایک مضمون لکھا۔ جس میں مَیں نے کہا کہ اٹلی کی سرحد اے ایل اے (ایک مقام) پر ختم نہیں ہوجاتی۔ یہاں سے میری اخبار نویسی کا شوق شروع ہوا۔ تھوڑے دنوں میں یہ بات مشہور ہو گئی کہ میں تشدد پسند اور سوشلسٹ گروہ کا نمایندہ ہوں پھر جنگِ عظیم اوّل شروع ہوگئی۔ اٹلی میں بہت بے چینی تھی۔ یہاں سے اٹلی کی سیاسیات میں میرا دخل ہوا اور میں اپنے فسطائی  نظریات کے تحت آگے بڑھتا گیا۔

میں نے اپنے ہی جیسے نظریات رکھنے والے نوجوانوں کو ساتھ ملایا اور جدوجہد شروع کردی چونکہ جنگ شروع ہو چکی تھی اور اٹلی اس سے الگ نہیں رہ سکتا تھا لہٰذا کچھ کارنامے دِکھانے کی خاطر میں نے دوبارہ فوج جوائن کرلی اور بعض کارناموں کے ذریعے میں کارپورل کے عہدے پر پہنچ گیا۔ اس کے بعد پھر میں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اور پھر ایک وقت آیا کہ میں اپنے ’’فسطائی‘‘ نظریات کے سبب پوری قوم کی آنکھ کا تارا بن گیا۔ اس کے بعد صرف ایک ہی کام باقی رہ گیا تھا کہ عوام میں ایک انقلاب برپا کرکے حکومت پر قبضہ کرلیا جائے اور وہ وقت جلد ہی آگیا۔ عوام میرے ساتھ تھے۔ ہم نے بادشاہت کو ختم کرکے حکومت پر قبضہ کرلیا اور اس انقلاب کا بانی ظاہر ہے کہ میں تھا یعنی ’’بینٹومسولینی‘‘۔

: اب آخر میں اس کہانی پر مزید کچھ تبصرہ
بچپن میں مسولینی کے پاس سونے کے لیے بستر نہ ہوتا تھا۔ وہ ایک بے بس و لاچار کی طرح گھاس پھونس کے ایک ڈھیر پر سویا کرتا تھا۔ اُس کے باپ کو امیروں، حکومت اور مذہب سے سخت نفرت تھی۔ اس کی انقلابی کارروائیوں کے سبب اسے ۳ سال کے لیے جیل بھیج دیا گیا۔ اس نے اپنے بیٹے (مسولینی) کا نام مشہور انقلابی لیڈر ’’بینٹو جاررز‘‘ پر رکھا جس نے میکسیکو کے بادشاہ کا تختہ اُلٹ کر اسے گولی سے اڑا دیا تھا۔

مسولینی نے اپنا بچپن اس نفرت اور بغاوت کے ماحول میں بسر کیا۔ وہ خود کہتا ہے ’’میں ایک مضافاتی ڈاکو ہوا کرتا تھا ہر وقت لڑنے مرنے کے لیے تیار۔ اکثر جب میں گھر آتا، تو میرا سر پھٹا ہوتا لیکن مجھے انتقام لینا آتا تھا۔‘‘ ہٹلرکی طرح مسولینی نے بھی اقتدارحاصل کرنے کے بعد اپنی تلخ جوانی کی تلافی کرنے کی کوشش کی۔ بچپن میں وہ دوسرے لڑکوں سے لڑ بھڑ کر اقتدار حاصل کرتا تھا لیکن وہ ہمیشہ خود سے چھوٹے بچوں پر رعب گانٹھا کرتا۔ ۴۰ برس بعد اس نے چھوٹے چھوٹے ملکوں پر حملہ کرکے انھیں ہڑپ کرلیا۔ چھوٹے ملک یعنی جو اٹلی کے مقابلے کی سکت نہ رکھتے تھے مثلاً ایتھوپیا، البانیہ اور یونان۔

مسولینی زندگی بھر عقب سے مکارانہ حملے کرتا رہا۔ ایک مرتبہ لڑکپن میں جب ایک لڑکے نے اس کے منہ پر تھپڑ مارا تو وہ ایک نوکیلا پتھر لے کر جھاڑی کے عقب میں چھپ گیا اور جب وہ لڑکا وہاں سے گزرا تو اس کی پشت پر چھلانگ لگا کر اس کا چہرہ اس پتھر سے لہولہان کردیا۔ آمر بننے کے بعد بھی وہ اسی قسم کے حملے کو ترجیح دیا کرتا تھا۔ وہ اس قدر تیزمزاج اور اکھڑ تھا کہ اس کی والدہ نے اسے نرم مزاج بنانے کے لیے ایک مذہبی سکول بھیج دیا لیکن وہاں بھی اس نے ایک لڑکے کی پشت میں چاقو گھونپ دیا۔ بالکل اسی طرح جیسے ۴۰ برس بعد اس نے فرانس کی پشت پر حملہ کیا تھا۔ سکول سے اسے ان الفاظ کے ساتھ نکال دیا گیا۔ ’’تمھاری روح دوزخ کی طرح کالی ہے۔‘‘

دنیا آج تک اس بات پر حیران ہے کہ اِس فطرت کا انسان ایک ملک کا سربراہ کیسے بن گیا۔ لیکن ان سب باتوں کے لیے کیا مسولینی خود کو موردِالزام ٹھہراتا ہے؟ ہرگز نہیں بلکہ وہ اپنے سوا ہر کسی کو الزام دیتا۔ کئی برس بعد اس نے کہا تھا ’’بچپن میں کوئی مجھ سے نرمی اور شفقت سے پیش نہ آتا تھا۔ میں ایک غریب گھر میں رہتا تھا اور میری زندگی انتہائی تلخ تھی، مجھ میں شفقت کہاں سے آتی۔ پھر لوگ میری سخت گیری اور تندمزاجی پر حیران کیوں ہوتے ہیں؟‘‘

مسولینی جہاں کہیں بھی گیا اس نے نفرت اور تشدد کا مظاہرہ کیا مثلاً ایک مرتبہ زیورچ میں ایک ہوٹل کی ملازمہ نے اُس کے خیال میں اس سے کھانے کے زیادہ دام وصول کر لیے تھے۔ اس پر وہ اس قدر مشتعل ہوگیا کہ ۳ اطالویوں کے ساتھ مل کر اس نے ہوٹل کی کرسیاں اور سامان توڑ دیا۔ مسولینی نے اطالویوں کو حکم دے رکھا تھا کہ وہ خطروں سے کھیلتے ہوئے زندہ رہیں۔ بذاتِ خود اس قدر بزدل تھا کہ سوشلسٹ اخبار ’’اوانٹی‘‘ کے ادارت کے دنوں میں اس نے ہمیشہ اپنی میز پر ایک چاقو اور ایک بھرا ہوا پستول رکھا ہوتا تھا۔ مسولینی کے اُس زمانے کی زندگی کے بارے میں اس کی ایک نائب مدیر خاتون سے زیادہ اور کوئی نہیں جانتا۔ اس خاتون کا کہنا ہے کہ وہ مسولینی کے اس ناقابل یقین خوف پر بے حد حیران تھی۔ مسولینی نے اس کے سامنے اعتراف کیا تھا کہ وہ تو اپنے سائے سے بھی خوف زدہ ہو جاتا تھا۔ وہ اس قدر بزدل تھا کہ اندھیرے میں اکیلا گھر میں جانے سے گھبراتا تھا۔

یہ حقیقت اسے اپنے دفتر کے دوسرے لوگوں کے سامنے تسلیم کرنے میں شرم محسوس ہوتی تھی۔ لہٰذا اس نے خاتون مدیرہ سے کہہ رکھا تھا کہ اسے ہر روز گھر چھوڑ آیا کرے۔ وہ خاتون مسولینی کو اس کے گھر کے دروازے پر چھوڑ کر پھر اپنے گھر جایا کرتی تھی۔ اس خاتون کا نام ’’انجیلیکا بالانوف‘‘ ہے۔ وہ کئی برس تک سوشلسٹ پارٹی کی سرگرم رکن رہی ہیں، لہٰذا اس کی باتوں پر شک و شبہ کا اظہار نہیں کیا جا سکتا۔ اٹلی کا آمر بننے کے بعد مسولینی کو قتل کرنے کی متعدد کوششیں کی گئیں۔ وہ اس قدر چوکنا ہوگیا کہ اس نے 15 ہزار سپاہیوں پر مشتمل ایک پرائیویٹ فوج بنا رکھی تھی جو اس کے محل کی پوری طرح نگرانی کرتی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ آمروں، ڈکٹیٹروں کی زندگی بالکل ایسے ہی گزرتی ہے کہ گویا وہ تلوار کی دھار پر چلتے ہوئے زندگی بسر کررہے ہوں۔

اگرچہ مسولینی نے ۱۵ برس کی عمر سے پہلے لکھنا پڑھنا نہ سیکھا تھا لیکن عمر میں اضافے کے ساتھ ساتھ اس میں مطالعے کا شوق بڑھتا گیا۔ اس کے باوجود کئی لحاظ سے وہ بے حد توہم پرست واقع ہوا تھا مثلاً اس کا یقین تھا کہ انسانی تقدیر پر چاند کا گہرا اثر ہوتا ہے۔ وہ چاندنی میں سونے سے بے حد گھبراتا تھا۔ وہ کہا کرتا تھا کہ وہ تاش کے پتے دیکھ کر مستقبل کے بارے میں پیشین گوئی کرسکتا ہے۔ حکومت پر قبضہ کرنے کی خاطر روم پر تاریخی حملہ کرنے سے پہلے وہ کتنی ہی دیر تک میز پر تاش کے پتے پھیلا کر ان کا بغور مطالعہ کرتا رہا تھا۔

تاہم ہمیں یہ کس طرح معلوم ہو کہ یہ ساری باتیں صحیح ہیں؟ اس کے ثبوت کے لیے ہم اس کی اپنی سرکاری سوانح حیات سے رجوع کریں گے اور جس کا اس نے خود مطالعہ کرکے اس کا تعارف بھی لکھا ہے۔ مسولینی دراصل بڑے غیرمتوازن ذہن کا مالک تھا۔ جس طرح پاگل خانے میں آپ کو کوئی نہ کوئی ایسا شخص ضرور مل جائے گا جو خود کو نپولین کہتا ہے۔ مسولینی اگرچہ خود کو اصلی جولیس سیزر تو نہ کہتا تھا مگر خود کو جولیس سیزر ثانی ضرور کہا کرتا تھا۔ اس نے مجسمہ سازوں کو حکم دے رکھا تھا کہ اس کے مجسمے جولیس سیزر جیسے بنائے جائیں۔۱۹۲۶ء میں جب اس نے ٹریپولی کا دورہ کیا تھا تو ہزاروں اشتہاروں نے ان الفاظ سے اس کا استقبال کیا ’’خوش آمدید سیزر‘‘۔

 : مسولینی خود کہا کرتا تھا
میں اپنی قوتِ ارادی سے  تاریخ پر اپنے نشان چھوڑ جاؤں گا۔ میرے نشان شیر کے پنجوں کے نشانات سے  مشابہ ہوں گے۔ یہ خواہش  میرے دل و دماغ پر محیط ہے یہ مجھے اندر ہی اندر  کھائے جا رہی ہے

مذکورہ بالا جملے مسولینی کی ساری زندگی کی وضاحت کر دیتے ہیں۔ یہ ایک اَناپسند شخص کا اعتراف ہے۔ ایک ایسے شخص کا اعتراف جس نے 5 لاکھ آدمی محض اس لیے موت کی نیند سلا دیے کہ اسے بیسویں صدی کا جولیس سیزر کہا جائے۔ علامہ اقبالؒ نے اس کی آنکھوں کو شعاعِ آفتاب سے تشبیہ دی تھی حالانکہ ایسی چمک بعض مجرموں کی آنکھوں میں بھی پائی جاتی ہے۔ اس کی نام نہاد بہادری کا پول اس وقت کھل گیا جب انقلابیوں نے پکڑ کر اسے اور اس کی محبوبہ کو گولی سے اُڑا دینے کا حکم دیا تو فرطِ خوف سے وہ اپنے قدموں پر کھڑا نہیں رہ سکا تھا۔ تب سے لے کر اب تک عقل و فہم رکھنے والا ہر شخص حیران ہے کہ اٹلی کے لوگ کس طرح اس شخص کے دامِ فریب میں آ کر اُسے اپنا نجات دہندہ سمجھ بیٹھے اور سخت نقصانات سے دوچار ہوئے۔

بشکریہ اردو ڈائجسٹ

Please follow and like us:

Leave a Reply