مرزا فرحت اللہ بیگ

Spread the love

1ستمبر 1883ء تا 27 اپریل 1947ء

مرزا فرحت اللہ بیگ، اردو کے ممتاز مزاح نگار تھے۔ مرزا فرحت اللہ 1883ء میں دہلی میں پیدا ہوئے۔ والد کا نام حشمت بیگ تھا۔ ابتدائی تعلیم گورنمنٹ ہائی اسکول دہلی میں حاصل کی۔ بی اے کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد حیدرآباد دکن میں ملازمت اختیار کر لی۔ اور وہاں مختلف عدالتی عہدوں پر فائز رہے۔ آخر میں مددگار معتمد داخلہ (معاون ہوم سیکریٹری) ہو گئے اور اسی عہدہ سے وظیفہ یاب ہوئے۔ حیدر آباد کی ادبی صحبتوں نے مرزا میں ادبی ذوق کو جلا بخشی اور ان کا شوخ قلم مزاح نگاری میں جولانیاں دکھانے لگا۔ فرحت اللہ بیگ کا سب سے پہلا مضمون عصمت بیگ کے فرضی نام سے شائع ہونے والے رسالہ “افادہ” میں چھپا۔ اس کا عنوان ہم اور ہمارا امتحان تھا۔

1937ء سے باقاعدہ لکھنا شروع کیا۔ اگرچہ انہوں نے ہر موضوع تاریخ، تحقیق، سوانح وغیرہ پر لکھا۔ مگر مزاحیہ رنگ غالب رہا۔ ان کے مضامین کے مجموعے (مضامین فرحت) کے نام سے چھپ چکے ہیں۔ ان کی کئی تخلیقات مثلاً میری داستان، دہلی کا یادگار مشاعرہ، نذیر احمد کی کہانی، پھول والوں کی سیر، نئی اور پرانی تہذیب کی ٹکر اردو ادب میں یادگار رہیں گی۔ فرحت اللہ بیگ نے 1947ء میں وفات پائی۔

حالات زندگی

مرزا فرحت اللہ بیگ 1883ء میں دہلی میں پیدا ہوئے۔ ان کے آبا واجداد شاہ عالم ثانی کے عہد میں دہلی نقل مکانی کی۔ ابتدائی تعلیم دینی مدرسے میں حاصل کی۔ 1905ء میں ہندو کالج سے بی اے کی سند حاصل کی، بعد ازاں حیدرآباد کی عدالت عالیہ میں رجسٹرار بھی رہے۔ ترقی کرکے مددگار معتمد داخلہ مقرر ہوئے۔ 1919ء میں پہلا مضمون لکھا جو آگرہ کے ایک جریدے “افادہ” میں چھپا۔ انھوں نے افسانے، سفرنامے، تنقید، سوانح عمری، معاشرتی اور اخلاقی موضوعات پر مضامین لکھے۔ ان کی مزاح نگاری میں قاری کی دلچسپی کا سامان ملتا ہے اور گہری معنی خیزی اور معاشرتی طنز قاری کو اپنے ماحول کے متعلق سوچنے پر مجبور کردیتا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ مرزا فرحت اللہ بیگ کی سنجیدہ نگارشوں کو اردو میں زیادہ مقبولیت حاصل نہیں ہو سکی جبکہ ان کی مزاحیہ اور طنزیہ تحریروں کو زیادہ پسند کیا گیا۔ ان کے مضامین کی سات جلدیں چھپی ہیں۔ مختلف تنقید نگار مرزا فرحت اللہ بیگ کی عظمت کا اعتراف کرتے ہیں اور اپنے اپنے انداز میں رائے زنی کرتے ہیں، مثلاً

مرزا صاحب کے قلم سے سلاست اور فصاحت کا دامن بہت کم ہی چھوٹنے پاتا ہے۔ (عبد القادر سروری)

مرزا فرحت اللہ بیگ کا بیان بہت سادہ و دل آویز ہے جس میں تصنع نام کو نہیں۔ (مولوی عبد الحق)

فرحت کی زبان شگفتہ فارسی آمیز ہے اور بعض اوقات تمسخر کچھ اس طرح ملا ہوتا ہے کہ جس میں پھول اور کانٹے نظر آئیں۔ (ڈاکٹر سید عبد اللہ)

خوش مذاقی کی سڑک کے داغ بیل مجھ جیسے گمنام شخص کے ہاتھوں ڈلوائی گئی۔ محمود نظامی نے لکھا ہے کہ”مرزا فرحت اللہ بیگ ان خاص انشاءپردازوں میں سے ہیں جنہیں ان کے خاص ظریفانہ اندازِ نگارش کی بدولت ایک خاص مقام و مرتبہ عطا ہوا۔

اسی لیے ایک نقاد نے فرمایا: ان کی زبان میں ایک مخصوص چٹخارا، ایک مخصوص چاشنی ہے۔ ان کی بے ارادہ ظرافت کی آمیزش بھی ایک نمایاں خوبی ہے جو اس طرز میں خودبخود پیدا ہوجاتی ہے۔

مرزا فرحت اللہ بیگ کی تحریروں پر ڈپٹی نذیر احمد کی خطیبانہ قوت بیانی حاوی تھی۔ عظمت اللہ خان نے اس سلسلے میں بڑے پتے کی بات کی ہے۔ نذیر احمد کی کہانی ایک وصیت کی تکمیل میں دلی کا یادگار مشاعرہ پھول والوں کی سیر دہلوی معاشرت کی عکاسی پر فرحت کو عہدِ مغلیہ کے آخری دور کی معاشرت اور تمدن کا صحیح، دلکش اور بہترین عکاس کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ وہ مزاجاً مشرق پرست تھے اور اہلِ مشرق کی ماضی پرستی سے بھی آگاہ تھے۔ انہوں نے دلی میں آنکھ کھولی اور وہیں پرورش پائی۔ چنانچہ دلی والوں کے لباس، طورطریقوں اور تہواروں کے سلسلے میں ان کا قلم خوب گلکاریاں کرتا ہے۔ انہوں نے ماضی کی عظمت کے قصے اور تقریبوں کا احوال لکھا اور قارئین سے خوب داد وصول کی۔

خاکہ نگاری

فرحت اللہ بیگ کے یہاں خاکہ نگاری یا شخصیت نگاری اپنے عروج پر نظر آتی ہے۔ ان کے تحریر کردہ خاکہ ڈپٹی نذیر احمد کی کہانی کچھ میری اور کچھ ان کی زبانی کی نظیر ملنا مشکل ہے۔ اسی طرح ایک وصیت کی تکمیل میں اور دلی کا یادگار مشاعرہ بھی مختلف شخصیات کا جامع تصور پیش کرتے ہیں۔ مرزا فرحت اللہ بیگ نہ مدلل مداحی کرتے ہیں اور نہ ہی ممدوح کی بجائے خود کو نمایاں کرتے ہیں۔ وہ جس کا نقشہ کھینچتے ہیں اس کی خوبیوں، خامیوں، عادات و اطوار، لباس، ناک نقشہ غرض ہر چیز چلتی پھرتی تصویر کی طرح آنکھوں کے سامنے پھر جاتی ہے۔ مضامینِ فرحت کے مصنف لکھتے ہیں: ہنسی ایک ذہنی کیفیت کا نام ہے۔ ایک نفسی انبساط ہے۔ اگر دل و دماغ پر ایک انبساط کی کیفیت چھا جائے اور کبھی کبھی لبوں پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ کھل جائے۔ ایک آدھ بار قارئین پھول کی طرح کھل کر ہنس پڑیں تو ایسا مضمون خوش مذاقی کا بہترین نمونہ ہوگا۔ (عظمت اللہ خان)

جزئیات نگاری

مرزا صاحب کی ایک اور خوبی جزئیات نگاری بھی ہے۔ وہ جس موضوع پر بھی قلم اٹھاتے ہیں اس کی چھوٹی چھوٹی جزئیات بھی قاری کے سامنے رکھ دیتے ہیں۔ اس سے مضمون دلچسپ اور مفہوم واضح ہوجاتا ہے۔ ‘ ان کی تحریر میں منفرد قسم کا لطیف مکالماتی تصادم دکھائی دیتا ہے۔ جو نشاط فکر اور معنیاتی جمال کا کا آفاق خلق کرتا ہے۔ اور مفاہیم سماجی تحریمات پر دھیمے لہجے میں نشتر زنی بھی کرتے ہیں۔ جو معدوم ہوتے ہوئے تمدن کا ماتم بھی ہے۔ یہ ایک دلچسپ حقیقت ہے کہ مرزا فرحت اللہ بیگ اپنی زندگی میں کبھی “سماٹرا” (انڈونیشیا) نہیں گئے مگر اس پر ایک سفر نامہ لکھ ڈالا۔ مرزا فرحت اللہ بیگ نے اس ماحول میں آنکھ کھولی جب پرانی تہذیب دم توڑ رہی تھی۔

سرسید کی تحریک اپنا اثر دکھا رہی تھے۔ ایسے میں مرزا صاحب نے محسوس کیا کہ پرانی تہذیب میں زندگی کی اعلیٰ قدریں موجود ہیں۔ انہیں عہدِرفتہ کی ان قدروں سے دلی لگاو تھا۔ اسی لیے وہ اپنی بھرپور کوششوں سے پرانی یادوں کا بار بار تذکرہ کرتے ہیں۔ فرحت اللہ بیگ کا اسلوبِ نگارش مرزا فرحت اللہ بیگ نے اپنی نثرنگاری کی غرض و مقاصد خود بھی بیان کردیے ہیں:

”مضامین لکھنے میں میری کوشش یہ ہوتی ہے کہ پرانے مضمون جو بزرگوں کی زبانی ہم تک پہنچے ہیں تحریر کی صورت میں آجائیں تاکہ فراموش نہ کئے جاسکیں اور خوش مزاقی کے ساتھ ساتھ اصلاحِ معاشرت کا پرچار کیا جائے“

مرزا فرحت اللہ بیگ ان خاص انشاءپردازوں میں سے ہیں جنہیں ان کے خاص ظریفانہ اندازِ نگارش کی بدولت ایک خاص مقام و مرتبہ عطا ہوا۔ اسی لیے نقاد محموص نظامی نے کہا: ان کی زبان میں ایک مخصوص چٹخارا، ایک مخصوص چاشنی ہے۔ ان کی بے ارادہ ظرافت کی آمیزش بھی ایک نمایاں خوبی ہے جو اس طرز میں خودبخود پیدا ہوجاتی ہے۔

طرزِ تحریر کی نمایاں خصوصیات

مرزا فرحت اللہ بیگ طرزِ تحریر کی نمایان خصوصیات درج ذیل ہیں:

دہلی کی ٹکسالی زبان

دھلی سے دیرینہ تعلق کی بناءپر ان کی زبان میں ٹکسالی زبان کاچٹخارا آگیا ہے۔ تمام نقاد اس بات پرمتفق ہیں کہ مزاح نگاری میں فرحت کی کامیابی کی ضامن ان کی دلکش زبان ہے۔ فرحت کی زبان نرم و نازک تھی جیسے ریشم، لطیف تھی جیسے شبنم، سبک تھی جیسے جیسے پھول کی کلی، شیریں تھی جیسے مصری کی ڈلی۔ (عبد الماجد دریابادی) مختصر جملے، موزوں الفاظ، خوش آہنگ لب و لہجہ، محاورات کا برمحل استعمال، نامانوس الفاظ سے گریز یہ وہ عناصر ہیں جنہوں نے فرحت کی تحریر کا تانا بانا بنا ہے۔

محاورات کا برمحل استعمال

فرحت کا کوئی مضمون محاورہ بندی سے خالی نہیں۔ حد یہ ہے کہ اردو کے ساتھ ساتھ فارسی کے محاورے بھی استعمال کرجاتے ہیں۔ لیکن سلیقے سے۔ نثر میں محاورات کا استعمال عیب نہیں۔ یہ زبان کی دلکشی اور چاشنی کا باعث ہوتے ہیں اور تہذیب کی علامت ہیں۔ البتہ رکیک اور سبک محاورے استعمال کیے جائیں تو مضمون کا لطف ختم ہوجاتا ہے اور یہ خوبی کی بجائے عیب بن جاتا ہے۔

لطیف ظرافت

مرزا صاحب کی ظرافت بہت ہی لطیف قسم کی ہوتی ہے۔ قہقہے کا موقع کم ہی ملتا ہے البتہ زیرِ لب تبسم کی کیفیت ضرور ملتی ہے۔ فرحت واقعہ، کردار اور موازنے وغیرہ سے تبسم کی تحریک دیتے ہیں۔ الفاظ و جملوں کو ایسی شگفتگی و دلکشی سے پیش کرتے ہیں کہ دل ودماغ ایک انبساطی کیفیت میں ڈوب جاتا ہے اور ہونٹوں پر تبسم خود ہی پھیلتا چلا جاتا ہے۔ اعلیٰ مزاح نگاری کا اصل کمال اور وصف یہی ہے۔ ان کے ہاں طنز کا عنصر بہت کم ہے۔ وہ خوش مزاقی اور ہلکی و لطیف ظرافت کے قائل تھے۔ ان کے مضامین میں سنجیدگی اور ظرافت کا فنکارانہ امتزاج پایا جاتا ہے البتہ ان کے مضمون نئی اور پرانی تہذیب کی ٹکر میں طنز کا پیرایہ صاف نظر آتا ہے لیکن اس میں زہر ناکی نہیں۔ ان کی ظرافت بے تضوع اور بناوٹ سے پاک ہوتی ہے۔

مقصدیت

مرزا صاحب نے اپنی مزاح نگاری کو مقصدیت کے تابع رکھا۔ وہ گزرے ہوئے واقعات کا تذکرہ کرتے ہوئے ایک مٹتی ہوئی تہذیب کے نادر نمونے ہمیشہ کے لیے محفوظ کرلینا چاہتے ہیں۔ لیکن اگر اس میں احتیاط سے کام نہ لیا جائے تو ادبی مضامین محض تاثراتی مضامین ہوکر رہ جائیں گے لیکن ان کی ظرافت اور شگفتہ بیانی ان میں بھی دلکش رنگ بھر دیتی ہے۔ وہ واقعات پہ گہری نظر ڈالتے ہوئے اس طرح بیان کرتے ہیں کہ ان کی ثقالت ختم ہوجاتی ہے اور ایک زندگی کی امنگ پیدا ہوجاتی ہے۔ ڈپٹی نزیر احمد کی کہانی کچھ میری کچھ انکی زبانی میں رقم طراز ہیں:

کہتے بھی جاتے تھے بھئی· کیا مزے کا خربوزہ ہے۔ میاں کیا مزے کا آم ہے مگر بندئہ خدا کبھی یہ نہ کہا کہ بیٹا ذرا چکھ کر دیکھو یہ کیسا ہے۔ میں نے تو تہیہ کر لیا تھا کہ مولوی صاحب نے اگر جھوٹوں بھی کھانے کو پوچھا تو میں سچ مچ شریک ہوجاوں گا۔

کہانی کا عنصر

مرزا صاحب کے اکثر مضامین کہانی کا رنگ لیے ہوئے ہیں۔ اندازِ بیان افسانوی ہے جس کی وجہ سے قاری کی دلچسپی آخر تک برقرار رہتی ہے۔ انہیں داستان سرائی کا بھی بہت شوق تھا۔ بعض مضامین تو ایسے ہیں جو ایک کہانی کے تقاضوں کو بہت عمدگی سے پورا کرتے ہیں۔ ان کے کچھ ایسے مضامین درج ذیل ہیں:

نذیر احمد کی کہانی

ایک وصیت کی تکمیل میں

دلی کا یادگار مشاعرہ

پھول والوں کی سیر

دہلوی معاشرت کی عکاسی

ناقدین کی آرا

مختلف تنقید نگار مرزا فرحت اللہ بیگ کی عظمت کا اعتراف کرتے ہیں اور اپنے اپنے انداز میں لکھتے ہیں:

وفات


مرزا فرحت اللہ بیگ کا انتقال 27 اپریل 1947ء میں حیدرآباد بھارت میں ہوا۔ تدفین قبرستان تھگی جیل مسجد، حیدر آباد دکن میں کی گئی۔

Leave a Reply