فتح اللہ گولن

Spread the love

فتح اللہ گولن پیدائش 27 اپریل 1941کو پیدا ہوئے وہ ایک ترک مبلغ، سابقہ امام، مصنف اور ایک سیاسی شخصیت ہیں۔ اس کے علاوہ وہ گولن تحریک (جسے ہزمت یا خدمت تحریک کے نام سے جانا جاتا ہے) کے بانی اور اس کی سب سے بڑی شاخ، مشترکہ اقدار کے اتحاد، کی با اثر شخصیت ہیں۔ اس وقت وہ خودساختہ جلاوطنی اختیار کرتے ہوئے امریکا کے شہر سائلس برگ، پینسلوانیا میں مقیم ہیں

مسلکی طور پر گولن حنفی ہیں۔ گولن کے اپنے الفاظ میں، وہ سائنس، اہلِ کتاب اور دیگر کے بین المذاہب مکالمہ اور کثیر جماعتی جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں۔ انہوں نے ویٹی کن اور کئی یہودی تنظیموں سے ایسے مکالمے شروع بھی کیے۔

ترک ریاست، اسلام اور جدید دنیا کی معاشرتی مباحث میں گولن پیش پیش رہتے ہیں۔ انگریزی زبان کے میڈیا پر انہیں ایک ایسے امام کے طور پر پیش کیا جاتا ہے ‘جو اسلام میں برداشت کو ترویج دیتا ہے اور اس کا زیادہ تر زور مکالمے، محنت اور تعلیم پر ہے‘ اور ‘دنیا کی اہم ترین مسلمان شخصیات میں سے ایک‘ ہے۔

گولن اور ترکی کے موجودہ صدر طیب رجب اردگان 2013ء سے قبل تک اتحادی تھے۔ یہ اتحاد 2013ء میں ترکی میں ہونے والی بدعنوانی کے خلاف تحقیقات سے ختم ہو گیا۔ اردگان نے گولن پر الزام لگایا کہ وہ ان تحقیقات کے پیچھے ان کا ہاتھ ہے۔ اس وقت گولن ترکی کے سب سے زیادہ مطلوب شخص ہیں اور ان پر ترکی میں ہونے والی 2016 کی ناکام فوجی بغاوت کی منصوبہ بندی کا الزام ہے۔ ترکی کی ایک عدالت نے گولن کے خلاف گرفتاری کا حکم نامہ جاری کیا ہے۔ ترکی نے امریکہ سے گولن کی ملک بدری کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ تاہم اہم امریکی شخصیات کے خیال میں گولن کا کسی طور کسی بھی دہشت گردانہ سرگرمیوں سے کوئی تعلق نہیں۔

سوانح
گولن کی پیدائش ارزرم کے قریب کرکُک کے گاؤں میں ہوئی۔ ان کے والد رمیض گولن ایک امام تھے۔ مصطفیٰ کمال کی حکومت کی طرف سے مذہبی تعلیم کی ممانعت کے باوجود ان کی والدہ گاؤں کے بچوں کو قرآن پڑھاتی تھیں۔ گولن نے ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں سے ہی شروع کی مگر جلد ہی ان کا خاندان نقل مکانی کر گیا۔ انہوں نے ارزرم کے مدارس سے تعلیم حاصل کی اور پہلا رسمی خطاب 14 سال کی عمر میں کیا۔ گولن سعید نورسی کے خیالات سے متاثر تھے۔

حکان یاوُز کے مطابق اگر گولن اور نورسی سے متاثر رسالہ نور یا نور تحریک کے پیروکاروں کا مقابلہ کیا جائے تو گولن اپنی سوچ سے زیادہ ترک قوم پرست ہیں۔ اس کے علاوہ انہیں ریاست پر زیادہ اعتبار ہے اور معاشی پالیسیوں کے بارے زیادہ سوچتے ہیں۔

ان کے تجارت کے حق میں ہونے کی وجہ سے کئی لوگ ان کی تعلیمات کو اسلام کی کالوینیت شمار کرتے ہیں۔ اوکسفرڈ انالیٹیکا کے مطابق:

“گولن نے نورسی کے خیالات کو عملی شکل تب دی جب وہ ازمیر کی ایک مسجد کو 1966 میں منتقل ہوئے۔ ازمیر وہ شہر ہے جہاں سیاسی اسلام کبھی جڑ نہیں پکڑ سکا۔ تاہم کاروباری اور ماہرِ فن افراد پر مشتمل مڈل کلاس حکومتی پابندیوں سے اکتائی ہوئی تھی کہ انہیں پوری طرح کام کرنے کا موقع نہیں مل رہا تھا۔ انہیں تاجر دوست پالیسیاں پسند تھیں اور کسی حد تک قدامت پرست زندگی کے طور طریقے بھی۔ یہ لوگ زیادہ تر مغرب اور بالخصوص امریکہ سے متاثر تھے کہ ان کے اصرار پر 1950 میں ترکی میں پہلی بار آزادانہ انتخابات ہوئے۔ امریکی امداد سے ان کی معاشی ترقی کی رفتار بڑھی۔”

گولن رسمی تبلیغی ذمہ داریوں سے 1981ء میں الگ ہوئے۔ 1988ء سے 1991ء تک انہوں نے بڑے شہروں کی مقبولِ عام مساجد میں خطبے دیے۔ 1994ء میں انہوں نے ‘صحافیوں اور لکھاریوں کی فاؤنڈیشن‘ بنائی اور خود اس کے اعزازی صدر مقرر ہوئے۔ انہوں نے 1998ء میں ویلفیئر پارٹی کی تحلیل یا 2001ء میں ورچو پارٹی کی تحلیل پر بھی کوئی تبصرہ نہ کیا۔ انہوں نے تانسو چیلر اور بلند ایجوت سے ملاقاتیں تو کیں مگر اسلامی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے ہمیشہ کنارہ اختیار کیا۔

1999ء میں گولن علاج کی غرض سے امریکہ منتقل ہوئے۔ان کی امریکہ روانگی کے بعد مقامی ٹیلی ویژن پر یہ کہا گیا کہ ان کو اپنی کہی ہوئی بات سے پیدا ہونے والی مشکلات کا اندازہ تھا، اور ان کی یہ بات ایک اسلامی ریاست کے حق میں محسوس کی گئی۔ جون 1999ء کو گولن کی ترکی سے روانگی کے بعد بعض ترک ٹیلی ویژن چینلوں کو وڈیو ٹیپیں بھیجی گئیں جن میں گولن کو یہ کہتے سنا گیا:

“موجودہ نظام ابھی تک چل رہا ہے۔ ہمارے دوست جو مقننہ اور انتظامیہ میں موجود ہیں، وہ اس سے سبق سیکھیں اور اس بات کا جائزہ لیں کہ اس نظام کو کیسے بدلا جا سکتا ہے تاکہ پورے ملک میں یہ نظام کیسے اسلام کے حق میں بدلا جا سکتا ہے۔ تاہم انہیں حالات کے سازگار ہونے کا انتظار کرنا چاہیے۔ یعنی ہمیں باہر نکلنے میں عجلت نہیں کرنی چاہیے۔”

تاہم گولن کا اصرار ہے کہ ان کی باتوں کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا تھا اور ان کے حامیوں نے ان ٹیپوں کے مصدقہ ہونے پر بھی سوال اٹھائے کیونکہ گولن نے ان ٹیپوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کا الزام لگایا تھا۔ گولن پر ان کی غیر حاضری میں 2000ء میں مقدمہ چلایا گیا اور 2008ء میں نئی جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی (اے کے پی) کی حکومت اور وزیرِ اعظم رجب طیب اردگان کے دور میں انہیں الزامات سے باعزت بری کر دیا گیا۔

گولن نے 2001 میں امریکہ کا گرین کارڈ حاصل کیا۔

19 دسمبر 2014 کو گولن کے حامی ایک میڈیا سے وابستہ 20 صحافیوں کی گرفتاری کے بعد ترک عدالت نے گولن کی گرفتاری کے احکامات جاری کیے۔ گولن پر الزام تھا کہ انہوں نے ‘مسلح دہشت گرد گروپ بنایا اور اسے چلا رہے ہیں۔

عقائد

گولن کسی نئے عقیدے پر عمل پیرا نہیں ہوتے بلکہ وہ اس حوالے سے پرانے اسلامی نظریات اور ان کی سوچ کو آگے بڑھاتے ہیں۔ اسلام کے بارے ان کے خیالات معتدل اور مقبول ہیں۔ اگرچہ وہ کبھی صوفی طریقت کے رکن نہیں رہے اور نہ ہی طریقت میں شمولیت کو مسلمانوں کے لیے ضروری سمجھتے ہیں، بلکہ ان کے خیال میں ‘صوفی ازم اسلام کے اندر ایک سمت ہے اور بیرونی اور اندرونی سمتوں کو الگ نہیں کیا جا سکتا۔

ان کی تعلیمات میں دیگر اسلامی علما سے دو طرح سے فرق ہیں اور دونوں کا تعلق قرآن کی مخصوص آیات کے ترجمے سے ہے۔ ان کی تعلیمات کے مطابق ‘مسلمانوں کو اجتماعی اور ریاستی بھلائی کے لیے خدمت کرنی چاہیے اور اس کا دائرہ دنیا بھر کے مسلمانوں اور غیر مسلم تک پھیلانا چاہیے اور دوسرا یہ بھی کہ مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اہلِ کتاب (یہودی اور مسیحی)، دیگر مذاہب اور ملحدوں اور لادین افراد سے بھی سے مکالمہ کریں۔

سرگرمیاں

گولن تحریک بین الاقوامی سطح پر شہری معاشرتی تحریک ہے جو گولن کی تعلیمات سے متاثر ہے۔ ان کی تعلیمات میں ہزمت (عام بھلائی کے لیے کی گئی خدمت) کو نہ صرف ترکی بلکہ وسطی ایشیا کے علاوہ دنیا کے دیگر علاقوں سے بھی مقبولیت مل رہی ہے۔

تعلیم

اپنے خطبات میں گولن کو بار بار کہتے سنا گیا: ‘طبعیات، ریاضی اور کیمسٹری کی تعلیم حاصل کرنا دراصل عبادت کے مترادف ہے۔‘ گولن کے پیروکاروں نے دنیا بھر میں ایک ہزار سے زیادہ تعلیمی ادارے بنائے ہیں۔ ترکی میں گولن کے تعلیمی ادارے بہترین شمار ہوتے ہیں۔ ان میں جدید ترین سہولیات مہیا کی جاتی ہیں اور انگریزی زبان پہلی جماعت سے پڑھائی جاتی ہے۔ تاہم گولن کے پیروکاروں سے ہٹ کر دیگر سابقہ اساتذہ نے گولن تعلیمی اداروں میں خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے رویے پر اعتراضات اٹھائے ہیں اور بتایا ہے کہ خواتین اساتذہ کو تنظیمی معاملات سے دور رکھا جاتا ہے اور انہیں محدود آزادی ہوتی ہے اور چھٹی جماعت اور اسے آگے تمام لڑکیوں کو لڑکوں اور مرد اساتذہ سے وقفوں اور کھانے کے دوران الگ رکھا جاتا ہے۔

بین المذاہب اور بین الثقافتی مکالمہ

گولن تحریک کے شرکا نے دنیا بھر میں بہت سارے ادارے قائم کیے ہیں جو بین المذاہب اور بین الثقافتی مکالموں کو ترویج دیتے ہیں۔ بعض علما کے برعکس گولن یہودیوں اور مسیحیوں کے متعلق مثبت جذبات رکھتے ہیں اور سامیت دشمنی کے خلاف ہیں۔ 1990 کی دہائی میں انہوں نے بین المذاہب برداشت اور مکالمے کی حمایت شروع کر دی۔ وہ خود ذاتی طور پر دیگر مذاہب کے بڑوں بشمول پوپ جان پال دوم، یونانی آرتھوڈکس چرچ کے سربراہ اور اسرائیلی سیفارڈک بڑے ربی ایلی یاہو بکشی ڈرون سے بھی ملاقات کی۔

گولن کے بقول وہ نہ صرف مختلف مذاہب کے درمیان بلکہ مذاہب اور لادینیت کے درمیان تعاون کے حامی ہیں۔

گولن نے ترکی کے علوی باشندوں کے چند مطالبات کی طرف ہمدردی دکھائی دیتی ہے جن میں ان کی عبادت گاہوں کو سرکاری طور پر تسلیم کیا جانا اور سنیوں اور علویوں کے درمیان بہتر تعلقات اہم ہیں۔

عصرِ حاضر کے امور پر خیالات

لادینیت

گولن نے ترکی میں لادینیت پر تنقید کی ہے اور اسے محض مادیت پرستی کہا ہے۔ تاہم ماضی میں ان کا خیال تھا کہ لادینیت کا مطلب مذہب کی مخالفت نہیں ہے اور یہ بھی کہ مذہب اور عقائد کی آزادی اسلام میں موجود ہے۔

گولن کی پریس ریلیز کے مطابق جمہوری لادین ممالک میں 95 فیصد اسلامی شعائر پر عمل کیا جا سکتا ہے اور اس سے کوئی مسئلہ نہیں کھڑا ہوتا۔ باقی پانچ فیصد پر لڑائی کی ضرورت نہیں۔

ترکی کی یورپی یونین میں شمولیت بارے گولن نے ترکی کی یورپی یونین میں شمولیت کے ارادے کی حمایت کی ہے اور کہا ہے کہ ترکی اور یورپی یونین کو ایک دوسرے سے کوئی خطرہ نہیں ہے بلکہ ایک دوسرے کے لیے مفید ثابت ہوں گے۔

خواتین کا کردار

اراس اور جاہا کے مطابق گولن خواتین کے متعلق ‘ترقی پسندانہ‘ خیالات رکھتے ہیں۔ گولن کے مطابق، اسلام کی آمد نے خواتین کو تحفظ دیا ہے اور اسلام کے ابتدائی دور میں نہ تو خواتین گھروں تک محدود کر دی گئی تھیں اور نہ ہی انہیں دبایا جاتا تھا۔ تاہم ان کے خیال میں ضرورت سے زیادہ حقوقِ نسواں کی جماعتیں وغیرہ نامناسب ہیں اور ان کا اختتام مردوں سے نفرت پر منتج ہوتا ہے۔

دہشت گردی

گولن نے دہشت گردی کی مذمت کی ہے۔ وہ شہریوں کے خلاف تشدد اور جارحیت کی مخالفت کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اسلام میں اس کی کوئی گنجائش نہیں۔ انہوں نے 11 ستمبر کے حملوں کے خلاف 12 ستمبر کو واشنگٹن پوسٹ میں اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ‘مسلمان کبھی دہشت گرد نہیں ہو سکتا اور نہ ہی دہشت گرد کبھی سچے مسلمان ہو سکتے ہیں۔‘ گولن نے دہشت گردوں کی جانب سے اس فعل کو اسلام پر حملہ قرار دیا۔

غزہ فلوٹیلا

گولن نے اسرائیل کی اجازت کے بغیر ترکی کی جانب سے غزہ کو بحری بیڑا بھیجنے پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے اس پر اسرائیلی حملے کو خبروں میں دیکھا تھا۔ اس حملے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا یہ کوئی اچھی بات نہیں تھی۔ انہوں نے منتظمین سے اسرائیل سے پیشگی اجازت نہ لینے پر کڑی تنقید کی۔

شامی خانہ جنگی

گولن نے ترکی کی جانب سے شام کی خانہ جنگی میں شمولیت کی سختی سے مخالفت کی ہے۔ گولن شامی صدر کو ہٹانے کے لیے ترک حکومت کے اقدامات کی مذمت کی ہے مگر وہ آئی ایس آئی ایس کے خلاف فوجی کارروائی کے حق میں ہیں۔

ترک معاشرے اور سیاست پر اثر

گولن کی تحریک کو ہزمت یا جماعت کہا جاتا ہے اور لاکھوں افراد اس کے پیروکار ترکی میں اور ترکی سے باہر بھی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ترک کی پولیس اور عدلیہ میں گولن کے حامی خاصا اثر رکھتے ہیں۔ ترک اور غیر ملکی تجزیہ نگاروں کے خیال میں ترک پارلیمان میں بھی گولن کے حامی موجود ہیں اور یہ تنظیم قدامت پسند زمان اخبار بھی چلاتی ہے۔ اس کے علاوہ آسیہ بینک، سمان یولو ٹیلی ویژن سٹین اور دیگر بہت سارے میڈیا کے ادارے بھی شامل ہیں۔ مارچ 2011 میں ترک حکومت نے ایک تحقیقاتی صحافی احمت شِک کو گرفتار کیا اور اس کی کتاب ‘امام کی فوج‘ کو ضبط کر کے اس پر پابندی عائد کر دی۔ اس طرح گولن اور گولن کی تحریک سے متعلق شِک کی تحقیقات انجام کو پہنچیں۔

2005 میں گولن کی تحریک سے منسلک ایک فردایک پارٹی کے دوران امریکی سفیر کے پاس پہنچا اور انہیں ایک لفافہ تھمایا جس میں مبینہ فوجی بغاوت کی تفصیل درج تھی۔ تاہم جلد ہی تصدیق ہو گئی کہ یہ کاغذات جعلی تھے۔ گولن کے حامیوں نے بتایا کہ ان کی تحریک شہری نوعیت کی ہے اور اس کے کوئی سیاسی عزائم نہیں۔

اردگان سے علیحدگی

گولن اور ان کے پیروکار دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کی تحریک سیاسی نہیں مگر تجزیہ نگاروں کے مطابق ترک وزیرِ اعظم کے قریبی حلقوں سے بدعنوانی کے خلاف کی جانی والی گرفتاریاں دراصل گولن اور اردگان کے مابین طاقت کی کشمکش تھی۔ ان گرفتاریوں کا نتیجہ 2013 میں ترک بدعنوانی سکینڈل کی صورت میں نکلا جس میں جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی کے حامیوں اور مخالفین، دونوں نے الزام لگایا کہ یہ سب گولن کے کہنے پر ہو رہا ہے۔ دسمبر 2013 میں اردگان نے اس تحریک کے زیادہ تر پرائیوٹ سکولوں کو ترکی بھر میں بند کر دینے کا حکم جاری کیا۔

اردگان حکومت نے بتایا ہے کہ بدعنوانی تحقیقات کا اصل مقصد گولن کا سیاسی ایجنڈا ہے تاکہ وہ دفاع، خفیہ ایجنسیوں اور انصاف کے محکموں تک رسائی حاصل کر سکیں۔ تقریباً یہی الزامات گولن پر 2000 کے مقدمے کے دوران بھی لگائے گئے تھے جب اردگان حکومت میں آ رہے تھے۔ 2000 میں گولن کی غیر حاضری میں ان پر مقدمہ چلایا گیا اور 2008 میں اردگان کی حکومت نے ان الزامات کو خارج کر دیا تھا۔

جنوری 2014 میں گولن نے وال سٹریٹ جرنل کو ای میل میں تبصرہ کیا: ‘ترک عوام پچھلے دو سالوں سے جمہوریت کو الٹے قدموں پھرتے ہوئے دیکھ کر پریشان ہو رہے ہیں‘۔ تاہم انہوں نے حکومت کے خلاف کسی بھی سازش میں حصہ لینے سے انکار کیا۔ بعد ازاں جنوری 2014 میں بی بی سی ورلڈ کو انٹرویو کے دوران گولن نے کہا: ‘اگر میں لوگوں کو کچھ کہوں تو وہ یہ ہوگا کہ کہ آپ ان لوگوں کو ووٹ دیں جو جمہوریت، قانون کی بالادستی اور ساتھ چلنے والے لوگ ہوں۔ لوگوں کو کسی امیدوار یا کسی پارٹی کو ووٹ ڈالنے کا کہنا ان کی بے عزتی ہوگی۔ ہر انسان بخوبی جانتا ہے کہ اس کے آس پاس کیا ہو رہا ہے۔‘

2016 کی ترک بغاوت

ترک حکومت کے مطابق 15 جنوری 2016 کی بغاوت گولن کی تیار کردہ تھی۔

کتب

گولن کی اپنی ویب سائٹ میں ان کی 44 کتب کا ذکر ملتا ہے۔ اس کے علاوہ بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے بہت سارے موضوعات پر مقالے بھی لکھے ہیں جن میں معاشرتی، سیاسی اور مذہبی امور کے علاوہ فن، سائنس اور کھیل بھی شامل ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں صوتی اور بصری کیسٹیں بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ وہ دی فاؤنٹین، یعنی امیت وغیرہ جیسے مذہبی رسالوں میں اہم مضامین بھی لکھتے رہے ہیں۔ ان کی کئی کتب کا انگریزی میں بھی ترجمہ ہو چکا ہے۔

پیغمبرِ خدا: محمد

قرآن کی تعلیمات: منتخب آیات کی تشریح

عالمی تہذیب، مذہب اور برداشت

بیج سے تن آور درخت تک: بچوں کی روحانی ضروریات کی تکمیل

دہشت گردی اور خود کش حملے: اسلامی نکتہ نظر

قابلِ عزت افراد تک کا سفر: قلب سے نکلی ذہانت کے قطرے

تقریر اور بیان کی طاقت

حضرت محمد کی منتخب دعائیں

اعزازات

مارٹن لوتھر کنگ جونیر کے بین الاقوامی چیپل جو مور ہاؤس کالج میں ہے، نے 2015 میں گولن ک وگاندھی کنگ آئیکیڈا امن انعام دیا جو ان کی طرف سے امن کی تاحیات کوششوں کے اعتراف میں تھا۔

گولن 2008 میں دنیا کے سو عقلمند ترین انسانوں میں سرِ فہرست آئے اور انہیں سب سے زیادہ پراثر مفکر کہا گیا۔

گولن کو 2013 میں دنیا کی سو اہم ترین شخصیات میں سے ایک کہا گیا۔

2015 میں اوکلوہاما سٹی تھنڈر کے باسکٹ بال کھلاڑی اینس کینٹر نے دعویٰ کیا کہ انہیں باسکٹ بال کی قومی ٹیم سے محض اس لیے نکالا گیا کہ وہ گولن کے پرزور حامی تھے۔

گولن کو رائل اسلامک سٹرٹیجک سٹڈیز سینٹر، عمان، اردن نے دنیا کی 500 اہم ترین مسلمان شخصیات میں سے ایک قرار دیا۔

امن کے رنگ البم

گولن کی شاعری اور تحریروں کو گانوں کی شکل میں پیش کرنے کے لیے ایک منصوبہ ‘امن کے رنگ‘ کے نام سے شروع کیا گیا۔ کچھ منتخب مجموعہ جات انگریزی میں ترجمہ کیے گئے۔ کل 50 نظمیں مسلم اور غیر مسلم گلوکاروں کو بھیجے گئے اور انہیں اجازت دی گئی کہ وہ انہیں اپنی مرضی سے جیسے چاہیں، گانوں کی شکل میں پیش کر سکتے ہیں اور پھر انہیں ایک البم کی شکل میں پیش کیا جائے گا۔ یہ منصوبہ دو سال سے زیادہ عرصے میں پایہ تکمیل کو پہنچا اور نیل پروڈکشن اور یونیورسل میوزک نے اسے پیش کیا ہے۔

Please follow and like us:

Leave a Reply