286

26 اپریل کے واقعات ایک نظر میں

Spread the love

واقعات

1828ء روس نے یونان کی آزادی کے لیے ترکی کے خلاف جنگ کا اعلان کیا

1926ء جرمنی اور روس کے درمیان امن معاہدے پر دستخط ہوئے

1942ء منچوریا کے شہر ہونکیکو کولیئری میں کوئلے کی کان کی تاریخ کا سب سے ہولناک حادثہ ہوا جس میں ایک ہزار پانچ سو انچاس افراد ہلاک ہوئے

1959ء کیوبا نے پناما پر حملہ کیا

1962ء امریکی خلائی ایجنسی ناسا کا خلائی شٹل رینجر فور چاند پر جاتے ہوئے تباہ ہو گیا

1964ء تانگانیکا اور زینزیبار الحاق کر کہ تنزانیہ بن گئے۔

1986ء یوکرین میں چرلوبل ایٹمی بجلی گھر میں دھماکا ہوا جو دنیا کے بد ترین ایٹمی حادثوں میں سے ایک ہے۔

2003ء صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف پر کراچی میں قاتلانہ حملہ ہوا۔

2005ء شام نے لبنان سے اپنی فوج کا انخلا کرکے لبنان سے انتیس سالہ قبضہ ختم کیا

ولادت

1879ء اون ولنس رچرڈسنا برطانیہ کے ایک طبیعیات دان تھے جنھیں 1928 میں نوبل انعام برائے طبیعیات دیا گیا جس کی وجہ حرارتی اخراج میں انکا مطالعہ تھا بالخصوص اس مشاہدے میں ایجاد کیا گیا انکا قانون۔ ان کی وفات 15 فروری 1959 کو ہوئی۔

1894ء رودلف ہس (پیدائش:26 اپریل، 1894ء، سکندریہ، مصر – موت: 17 اگست، 1987ء، برلن، جرمنی) مشہور سیاست دان تھا، جو 1930ء اور 1940ء کے دوران میں نازی جماعت کا نائب سربراہ رہا۔ جنگ عظیم دوم کے آغاز میں اسکاٹ لینڈ پہنچا تاکہ برطانیہ سے امن معاہدہ طے کر سکے، مگر انگریزوں نے اسے گرفتار کر کے قید کر دیا۔ اسی قید میں 1987ء میں 93 سال کی عمر میں انتقال کیا۔ ھس کی جرمنی میں مقبولیت کے خوف سے 2011ء میں اتحادیوں نے اس کی قبر کھود کر اس کے باقیات کو جلا کر سمندر برد کر دیا۔ اس سے پہلے سپانداؤ کے قید خانہ، جہاں رودولف کا انتقال ہوا، کو منہمد کر کے اس کی جگہ بازار بنا دیا گیا۔

1895ء نواب خواجہ حبیب اللہ بہادر(1895–1958)ڈھاکہ کے پانچویں نواب تھے۔ وہ نواب سر خواجہ سلیم اللہ بہادر کے بیٹے تھے۔ ان کی حکمرانی کے تحت ڈھاکہ کی نواب ریاست ،پاکستان ریاست کے حصول کے ایکٹ کے تحت 1952 میں اپنے حقیقی استحکام تک جا پہنچی۔ خواجہ حبیب اللہ ڈھاکہ میں 26 اپریل 1895 میں پیدا ہوئے ان کے والد ڈھاکہ نواب خاندان کے نواب سلیم اللہ بہادر تھے۔ حبیب اللہ دارجلنگ میں سینٹ پالاسکول گئے اور اس کے بعد انگلینڈ میں اپنی تعلیم جاری رکھی۔ 1915 میں اپنے والد کی وفات پر انہیں نواب آف ڈھاکہ کی گدی سنبھالنی پڑی۔ 1918 میں وہ برطانوی ہندوستانی آرمی پلاٹون میں شامل ہوئے انہوں نے برطانوی مینڈیٹ میسوپوٹیمیا میں اعزازی لیفٹیننٹ کے طور پر خدمات سر انجام دی۔ انہوں نے ڈھاکہ ڈسٹرکٹ بورڈ اور میونسیپلٹی بورڈ کی خدمات بھی انجام دی۔ انہوں نے تحریک خلافت میں بھی حصہ لیا۔ وہ 1924 سے 1932 تک بنگال کے قانون ساز کونسل میں ڈھاکہ کی نمائندگی کرتے رہے۔ حبیب اللہ نے 1932 میں برطانوی حکومت کی کمیونل ایوارڈ کی پیش کش کی طرف داری کی۔ 1935 میں وہ بنگال مسلم لیگ کے صدر تھے اور آل انڈیا مسلم لیگ کے ایگزیکٹیو کے رکن تھے۔ ان کا انتقال 21 نومبر 1958 کو ہوا۔

1932ء ڈاکٹر اسرار احمد، اسلامی مفکر، عالم دین

ڈاکٹر اسرار احمد کے بارے میں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں

1958ء پاکستان پیپلز پارٹی خواتین کی صدر، سابق صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کی ہمشیرہ اور قومی اسمبلی کی منتخب رکن ہیں۔ دو مرتبہ یعنی 9 سال تک ضلع نواب شاہ کی ناظمہ رہیں۔ ٹنڈو اﷲ یار، ضلع حیدرآباد، سانگھڑ میں زرعی زمین، ڈی ایچ اے کراچی میں ایک گھر، گوادر میں پلاٹ، کلفٹن کراچی میں گھر، 22 لاکھ کا کاروبار، 62 لاکھ کی سرمایہ کاری، 3 گاڑیاں، 3 کروڑ 73 لاکھ روپے کا بینک بیلنس رکھتی ہیں۔ بے نظیر بھٹو اور زرداری کے بچوں کی قانونی نگران ہیں۔ پیپلزپارٹی کے طاقتور ترین لوگوں میں شامل ہیں2019ء میں ان پر اور ان کے بھائی آصف علی زرداری پرنیب میں آمدن سے زائد اثاثوں اور منی لانڈرنگ کا کیس چل رہا ہے۔ نیب کے مطابق ان کے کئی معاون پکڑے جا چکے ہیں۔

وفات

1589ء تان سین، دربار اکبر اعظم کا ایک رتن۔ سنگیت یا موسیقی کی دُنیا کا ایک بڑا نام ہے ہندوستان کا موسیقار اعظم تھا۔ تان سین کا اصلی نام رمتانو پانڈے تھا۔ وہ گوالیار میں ایک مندر کے پجاری کے گھر پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے جوانی میں اسلام قبول کر لیا تھا۔ اکبر کے نورتن میں شامل کیے جانے کے بعد لوگ ادب سے ان کو میاں تان سین کہتے تھے اکبر خاص موقعوں پر ان سے راگ اور آلاپ کی فرمائش کرتا تھا۔ تان سین کے تمام بچے بھی موسیقار ہوئے۔ برصغیر کی کلاسیکی موسیقی تان سین کے راگوں پر ہی زندہ ہے۔ اس کے بعد آنے والے استادوں نے راگ ودیا میں تبدیلی یا نئے تجربے کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی اور عملاً یہ راگ اسی حالت میں ہیں جس میں تان سین نے ان کی تکمیل کی تھی۔ تان سین کی برسی گوالیار میں ہر سال منائی جاتی ہے۔ جہاں فن موسیقی کے شائقین کا بہت بڑا اجتماع ہوتا ہے۔ 6برس کی عمر سے ہی انہوں نے موسیقی میں اپنی مہارت دکھانا شروع کر دیا تھا۔ وہ سوامی ہری داس کے بھگت تھے۔ بے شمار راگوں کو موجودہ فنی شکل تان سین ہی نے دی۔ درباری کانپڑا، میاں کی ٹوڈی اور میاں کا سارنگ جیسے راگ بھی انھیں کی کوششوں کا نتیجہ ہیں۔ تان سین کا انتقال 1586 کو دہلی میں ہوا اکبر نے خود جنازے میں شرکت کی۔ تان سین کو گوالیار میں صوفی سنت شیخ محمد غوث کے پہلو میں دفن کیا گیا۔گوالیار میں ہر سال دسمبر میں تان سین کی یاد میں تقاریب کا اہتمام کیا جاتا ہے۔

1748ء محمد شاہ، المعروف محمد شاہ رنگیلا، روشن اختر، نصیر الدین شاہ، مغلیہ سلطنت کا چودھواں بادشاہ (پیدائش: 17 اگست 1702ء— وفات: 26 اپریل 1748ء)۔ محمد شاہ اورنگ زیب عالمگیر کے بعد قیادت اور سیاسی ابتری کے بحران میں طویل المدت بادشاہ گزرا ہے۔ محمد شاہ رنگیلا نے اپنی مدتِ حکومت کا زیادہ تر وقت عیش و نشاط پرستی میں گزارا۔ سلطنت مغلیہ کے زوال کا پہیہ جو اورنگ زیب عالمگیر کے بعد سے چلنا شروع ہو چکا تھا اس کا سد باب محمد شاہ کے 27 سالہ طویل دور میں کیا جاسکتا تھا۔ مگر بدقسمی کہ بادشاہ کی عیش پسندی اور بے فکری کے سبب نظم و نسق کی ذمہ داری وزراء کے کاندھوں پر تھی جن کی سیاسی چشمک نے ملک کو سیاسی اور اقتصادی بحران سے دوچار کر رکھا تھا۔ نظام الملک آصف جاہ نے جو ایک مخلص امیر تھا حالات پر قابو پانے کی بہت کوشش کی مگر وہ بھی مایوش ہو کر دکن واپس چلا گیا ۔ مرہٹوں اور سکھوں کی بغاوت جسے اورنگ زیب عالمگیر نے کچل کر رکھ دیا تھا دوبارہ سر اٹھانے لگیں تھیں لیکن محمد شاہ ان سے بے خبر عیش و طرب میں وقت گزارتا رہا۔ جب محمد شاہ کو نادر شاہ کے حملہ کی اطلاع ملی تو اس نے نہایت بدحواسی میں زوجہ بہادر شاہ (حضرت مہر پرور) سے مشورہ طلب کیا۔ حادثہ نادر شاہی کے معاصر مولف نے اس معمر خاتون کے جواب کو محفوظ رکھا ہے جو صحیح ترین تجزیے پر مبنی ہے، ملاحظہ ہو:

“شخصی کہ از ایام طفولیت عمر در صحبتِ زنان بسر بردہ باشد، از اور در میدان نبرد چہ دلیری می تواند شد؟ و صریح می دانند کہ جمیع امرایان بنا بر بے خبری و سستی عمل شما ملک پادشاہی را متصرت شدہ، خزانہ و جواہر بے شمار جمع کردہ اند و ہیچ کس تابیع و حکم والا نیست، شما ہمیں چہار دیواری قلعہ ارک را سلطنت خود تصور فرمودہ سیر باغات وصحبت اوباش غنیمت شمردہ، از مملک محروسہ، مطلق بے خبر ہستید۔”

1940ء کارل بوش ایک جرمن کیمسٹ اور انجینئر تھا۔ انھیں ہائی پریشر صنعتی کیمسٹری کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔ انھیں 1931 میں فریڈرخ برجیاس کے ساتھ کیمسٹری کا نوبل انعام دیا گیا۔ وہ 27 اگست 1874 کو پیدا ہوئے۔

تعطیلات و تہوار

جائداد کے شعور کا عالمی دن

اپنا تبصرہ بھیجیں