25 اپریل کے واقعات ایک نظر میں

Spread the love

واقعات

1704ء امریکا میں پہلے باقاعدہ روزنامے نیولیٹر کا اجرا

1707ء اختلاف جانشینی ہسپانیہ کی جنگ المانسہ میں فرانسیسیوں نے آسٹرینز کو ہرا دیا۔

1846ء ٹیکساس پر اختلافات کی وجہ سے امریکہ اور میکسیکو کے درمیان جنگ ہو گئی۔

1859ء نہر سوئز کی تعمیر کا کام شروع ہو گیا۔

1877ء روس نے ترکی کے خلاف جنگ کا اعلان کیا

1898ء امریکا نے ہسپانیہ سے اعلان جنگ کر دیا۔

1915ء جنگ عظیم دوم:آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی فوج نے ترکی پر حملہ کیا

1926ء شاہِ ایران رضا خان پہلوی کی تاج پوشی

1945ء پچاس ممالک نے اقوام متحدہ کا آعاز کیا۔

1971ء ویتنام جنگ کیخلاف دولاکھ افراد نے واشنگٹن میں احتجاجی مارچ کیا

1982ء برطانوی فوج نے جنوبی جارجیا پر حملہ کر دیا

1982ء اسرائیل نے کیمپ ڈیوڈ معاہدے کے تحت سینائی کے علاقوں سے فوجیں واپس بلالیں

1982ء اسرائیلی فوجوں کی سنائی سے واپسی مکمل ہو گئی۔

1993ء سابق وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے صدر غلام اسحاق خان کے ہاتھوں اپنی حکومت کے خاتمے کے خلاف عدالت عظمی میں اپیل دائر کر دی۔

2005ء بلغاریہ اور رومانیہ نے یورپی یونین میں شمولیت کے معاہدے پر دستخط کیے

ولادت

1284ء اڈورڈ دوئم، برطانیہ کا بادشاہ

1599ء اولیور کرامویل (Oliver Cromwell) برطانوی فوجی اور سیاسی رہنما کا انتقال 1658ء میں ہوا۔ ان کی لاش کو حنوط کیا گیا اور ان کو ویسٹ منسٹر کیتھیڈرل میں دفنایا گیا۔ رفارمیشن کے بعد ان کی لاش اور دیگر کو نکالا گیا اور ان کے سر قلم کردیے گئے۔ ایک اندازے کے مطابق ان کے سر کو ایک گڑھے میں پھینک دیا گیا۔ اس گڑھے پر آج کل ماربل آرچ موجود ہے۔ گڑھے میں پھینکنے سے قبل ان کا سر ایک پول پر لٹکایا گیا اور ویسٹ منسٹر ہال میں نمائش کے لیے رکھا گیا۔ سنہ 1815ء میں اس سر کا معائنہ کیا گیا اور تصدیق کی گئی کہ یہ سر اولیور کرامویل کا ہی ہے۔

1840ء پیوتر الیچ چائکووسکی، روسی موسیقار

1874ء گوگ لیے اِلمو مارکونی اطالوی، اطالوی اور آئرش مشترکہ قومیت کے اطالوی الیکٹریکل انجینئر(برقی انجینئر) اور موجد تھے، جنہوں نے ریڈیوٹیلیگراف نظام ایجاد کیا اور دنیا میں ان کو ریڈیو کے بانی کے طور یاد کیا جاتا ہے۔ ان کی ان خدمات پر 1909ء میں انہیں اور فریڈرک براون کو مشترکہ طور پر نوبل انعام سے نوازا گیا۔

1920ء دور خان خدمت خلق کے شعبہ میں پاکستان اور دنیا کی جانی مانی شخصیت ہیں، جو پاکستان میں زارووانن جرگہ کے صدر ہیں۔ آپ کو 2015ء میں عوامی خدمات، سماجی خدمات اور ماحولی خدمات کے شعبہ میں اقوام متحدہ اور این پیس نیٹ ورک کی طرف سے نوبل امن ایوارڈ (N-Peace Award) کے لیے نامزد کیا گیا۔ دور خان اپر چترال میں خدمت خلق کے شعبہ میں چترال اور تورکھو کی جانی مانی شخصیت ہیں، جو چترال کے وادی کھوت میں مقیم ہیں۔ ماحول کے تحفظ اور جنگلی حیات کے تحفظ میں آپ کا بڑا کردار رہا ہے۔ لوگوں کو شکار نہ کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ انھوں نے ماحول کے تحفظ اور جنگلی حیات کے تحفظ میں اداروں سے زیادہ کام کیا ہے۔

1965ء ڈاکٹر ناصر عباس نیر، پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو ادب کے معروف نقاد، افسانہ نگار اورپنجاب یونیورسٹی اورینٹل کالج میں اردو ادب کے استاد ہیں۔ اس وقت وہ اردو سائنس بورڈ کے ڈائریکٹر جنرل کے عہدے پر فائز ہیں۔

1970ء رحمت عزیز چترالی (25 اپریل 1970ء) پاکستانی سائنس دان، موجد، سافٹ ویر انجنئر، ماہر لسانیات، ادیب، شاعر، محقق، ماہر اقبالیات اور مترجم ہیں جن کو 2015ء میں ان کی شاندار سائنسی خدمات، ایجاد و اختراع سائنس و ٹیکنالوجی اور پاکستانی زبانوں کے لیے خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان کی جانب سے مایہ ناز پاکستانی سائنس دان سے منسوب ڈاکٹر عبدالقدیر خان ایوارڈ و گولڈ میڈل سے نوازا گیا، آپ نے ایک ایسا انوکھا کیبورڈ (کلیدی تختہ) ایجاد کیا جس کی مدد سے چالیس سے زائد پاکستانی زبانوں میں کمپیوٹر پر پہلی بار تحریر ممکن ہو گئی ہے، آپ نے دنیا کا یہ انوکھا کیبورڈ ایجاد کرکے عالمی ریکارڈ قائم کرکے پاکستان کا نام عالمی سطح پر روشن کر دیا، ان شاندار لسانی خدمات کے اعتراف میں آپ کو جرمنی کی طرف سے انٹرنیشنل اینوویشن ایوارڈ بھی دیا گیا۔رحمت عزیز چترالی (25 اپریل 1970ء) پاکستانی سائنس دان، موجد، سافٹ ویر انجنئر، ماہر لسانیات، ادیب، شاعر، محقق، ماہر اقبالیات اور مترجم ہیں جن کو 2015ء میں ان کی شاندار سائنسی خدمات، ایجاد و اختراع سائنس و ٹیکنالوجی اور پاکستانی زبانوں کے لیے خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان کی جانب سے مایہ ناز پاکستانی سائنس دان سے منسوب ڈاکٹر عبدالقدیر خان ایوارڈ و گولڈ میڈل سے نوازا گیا، آپ نے ایک ایسا انوکھا کیبورڈ (کلیدی تختہ) ایجاد کیا جس کی مدد سے چالیس سے زائد پاکستانی زبانوں میں کمپیوٹر پر پہلی بار تحریر ممکن ہو گئی ہے، آپ نے دنیا کا یہ انوکھا کیبورڈ ایجاد کرکے عالمی ریکارڈ قائم کرکے پاکستان کا نام عالمی سطح پر روشن کر دیا، ان شاندار لسانی خدمات کے اعتراف میں آپ کو جرمنی کی طرف سے انٹرنیشنل اینوویشن ایوارڈ بھی دیا گیا۔

1979ء منال الشریف، حقوق نسواں کے لیے کوشش کرنی والی ایک سعودی خاتون ہے۔ منال نے 2011ء میں سعودی عرب میں عورتوں کے ڈرائیونگ کرنے کے حق کے لیے کام کا آغاز کیا۔ وجیہ الحویدر جو پہلے ہی حقوق نسواں کے لیے کام کر رہی تھی اور کار چلانے کی وڈیو بنائی تھی، اس نے منال الشریف کی ڈرئیونگ کرتے ہوئے وڈیو بنائی اور یوٹیوب اور فیس بک پر پیش کی۔ 21 مئی 2011ء کو منال کو گرفتار کیا گیا اور 30 مئی کو ان شرائط پر ضمانت ہوئی کہ، منال الشریف ذرائع ابلاغ سے بات نہیں کرے گی، گاڑی نہیں چلائے گی اور دوبارہ پوچھ گچھ کے لیے بلایا گیا تو حاضر ہو گی۔

وفات

1984ء ممتاز عالم دین مولانا شفیع اوکاڑوی انتقال کر گئے

1995ءجی ایم سید، سندھ سے تعلق رکھنے والے پاکستان کے ممتاز سیاست دان اور دانشور تھے جنہوں نے سندھ کو بمبئی سے علیحدگی اور سندھ کی پاکستان میں شمولیت کے حوالے سے ناقابل فراموش کردار ادا کیا۔

2018ء مدیحہ گوہر، 21 ستمبر 1956ء کو کراچی میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے علم فنون اور انگریزی میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور پھر لندن یونیورسٹی سے تھیٹر سائنس میں ماسٹرز کی ڈگری بھی حاصل کی۔ 1983ء میں پاکستان واپسی کے بعد انہوں نے اپنے خاوند، ڈراما نویس اور ڈائریکٹر شاہد محمود ندیم کے ساتھ لاہور میں “اجوکا” تھیٹر کی بنیاد رکھی، جہاں انہوں نے خود بھی اداکاری کے جوہر دکھائے اور متعدد اسٹیج ڈراموں کے اسکرپٹ بھی لکھے۔ خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے قائم تنظیم “اجوکا”، ایشیا اور یورپ میں فعال ہے۔ مدیحہ گوہر کے اسٹیج ڈرامے سماجی اور معاشرتی حالات و واقعات پر مبنی ہوتے تھے۔ انہوں نے پاکستان سمیت بھارت، بنگلہ دیش، نیپال سری لنکا اور برطانیہ کے بھی کئی تھیٹرز میں اداکاری کے جوہر دکھائے۔ فنکار ہونے کے علاوہ مدیحہ گوہر بطور سماجی کارکن بھی کام کرتی تھیں، خصوصاً حقوق نسواں کے لیے ان کی آواز ہمیشہ آواز بلند نظر آتی تھی۔ 2006ء میں انہیں نیدرلینڈ میں ‘پرنس کلوڈ ایوارڈ سے نوازا گیا اور 2007 میں انہوں نے “انٹرنیشنل تھیٹر پاستا ایوارڈ” اپنے نام کیا۔ مدیحہ گوہر 25 اپریل 2018ء کو 62 برس کی عمر میں انتقال کرگئیں۔ آپ گزشتہ 3 برس سے معدے کے کینسر میں مبتلا تھیں۔

تعطیلات و تہوار

1970ء گیمبیا میں یوم جمہوریہ منایا جاتا ہے

Please follow and like us:

Leave a Reply