عیاشی ختم،موبائل فون کارڈز پر تمام ٹیکسز بحال

Spread the love

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر،کورٹ رپورٹر ) سپریم کورٹ آف پاکستان نے موبائل

فون کارڈز پر معطل تمام ٹیکس بحال کرتے ہوئے فیصلہ دیا ہے کہ عدالت عالیہ

ٹیکس معاملات میں مداخلت نہیں کرے گی۔ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے

کیس کا مختصر فیصلہ پڑھ کر سنایا جس میں کہا گیا ہے کہ عدالت عالیہ ٹیکس

معاملات میں مداخلت نہیں کرے گی۔ پبلک ریوینیو اور ٹیکس پر معاملات پر

مداخلت کیے بغیر مقدمے کو نمٹاتے ہیں۔ گزشتہ سال 2018ء میں سابق چیف

جسٹس ثاقب نثار نے موبائل فون کارڈز پر ٹیکس کٹوتی کا ازخود نوٹس لیتے

ہوئے حکومت اور موبائل فون کمپنیوں کو عوام سے ٹیکس وصول کرنے سے

روک دیا تھا۔ سپریم کورٹ نے از خود نوٹس نمٹاتے ہوئے موبائل فون کارڈز پر

تمام ٹیکسز بحال کر دیے اور حکم امتناع ختم کر دیا۔گزشتہ روز سپریم کورٹ

میں موبائل فون کارڈز پر ٹیکس کٹوتی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی تو اٹارنی

جنرل نے ایک بار پھر عدالتی دائرہ اختیار پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ ٹیکس

کے نفاذ پر ازخود نوٹس کی مثال نہیں ملتی۔ ٹیکسز پر حکم امتناع کے باعث

حکومت اپنی آمدن کے بڑے حصے سے محروم ہے، جسے ٹیکس استثنا چاہیے

متعلقہ کمشنر سے رجوع کرے۔چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ موبائل

فون کارڈ ٹیکس کا نوٹس پانچ ججز کے حکم پر لیا گیا۔ ان لاکھوں لوگوں سے

ٹیکس لیا جا رہا تھا جن پر ٹیکس لاگو نہیں ہوتا۔ ٹی وی لائسنس کا ٹیکس بھی ہر

شہری سے لیا جاتا ہے پانی اور فون پر باتیں کرنے پر تو ٹیکس لگ چکا، اب ہوا

پر ٹیکس لگنا باقی ہے ، ماضی میں مشرقی پاکستان سیلاب ٹیکس نافذ ہوا تھا،

مشرقی پاکستان الگ ہوگیا لیکن فلڈ ٹیکس 90 کی دہائی تک لیا جاتا رہا،۔ ہر ٹی

وی دیکھنے پر انکم ٹیکس لاگو نہیں ہوتا لیکن وہ ٹیکس دیتا ہے۔ جسٹس اعجاز

الاحسن نے کہا کہ جو ٹیکس کے اہل نہیں، ان سے پیسہ لینا بنیادی حقوق کی

خلاف ورزی ہے۔موبائل کارڈ پر ٹیکس بحال ہونے سے حکومت کو ماہانہ سات

اعشاریہ پانچ ارب روپے کی آمدن متوقع ہے۔ پری پیڈ کالنگ کارڈ سے ہونے والی

ٹیکس آمدن جو جون 2018ء￿ سے ہولڈ پر چلی گئی تھی، اب بحال ہو چکی ہے۔

ماہرین کے مطابق اس طرح مئی اور جون میں موبائل کارڈ پر عائد ساڑھے 19

فیصد سیلز ٹیکس اور ساڑھے 12 فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس سے مجموعی طور پر

سرکار کو 15 ارب روپے ملنے کی توقع ہے۔ایک اندازے کے مطابق پری پیڈ

کارڈز پر ٹیکس سے سالانہ 90 ارب روپے کی آمدن ہوا کرتی تھی۔



Please follow and like us:

Leave a Reply