زیادتی کے بعد قتل کا معاملہ ڈاکٹر تاحال فرار

Spread the love

تمام قاتلوں کو گرفتار کیا جائے اور انہیں سزائے موت دی جائے۔لواحقین کا مطالبہ

اہل خانہ کا پولیس تفتیش پر عدم اعتماد۔واقعہ سرکاری اسپتال میں ہوا۔ اسی لئے حکومت بھی ذمہ دار ہے

کراچی(سٹاف رپورٹر)کراچی میں مسیحا درندے بن گئے، کورنگی کے سرکاری اسپتال آنے والی مریضہ کو زیادتی کے بعد قتل کر دیا گیا۔زیادتی اور قتل میں ملوث ڈاکٹر تاحال گرفتار نہ ہو سکا، 3 شریک ملزمان کو ریمانڈ پر جیل بھیج دیاگیا ہے۔26 برس کی عصمت کو زیادتی کے بعد زہریلا انجکشن لگا دیا گیا تھا، لڑکی کے قتل کے خلاف لواحقین نے ابراہیم حیدری میں مظاہرے کا اعلان کیا ہے۔لواحقین کا مطالبہ ہے کہ تمام قاتلوں کو گرفتار کیا جائے اور انہیں سزائے موت دی جائے۔

گزشتہ روز پریس کانفرنس کرتے ہوئے سندھ گورنمنٹ ہسپتال کورنگی میں غلط انجکشن اور مبینہ زیادتی سے جاں بحق عصمت کے اہل خانہ نے پولیس تفتیش پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈاکٹر شکیل، ولی اور ڈاکٹر ایاز لغاری کی گرفتاری تاحال عمل میں نہیں اسکی، واقعہ سرکاری ہسپتال میں ہوا، اسی لئے ذمہ دار حکومت بھی ہے۔غلط انجکشن اور مبینہ زیادتی سے جاں بحق عصمت کے اہل خانہ نے پیر کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے پولیس تفتیش پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈاکٹر شکیل، ولی اور ڈاکٹر ایاز لغاری کی گرفتاری تاحال عمل میں نہیں آسکی، انصاف ملنے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔

اہل خانہ نے الزام عائد کیا ہے کہ کیس سے پیچھے ہٹنے کے لیے دباو ڈالا جارہا ہے، عصمت کی خالہ فریدہ نے الزام عائد کیا کہ ابھی تک اصل ملزم کو گرفتار نہیں کیا گیا، ملزمان کھلے عام گھوم رہے ہیں۔نیشنل کمیشن فارہیومن رائٹس کی نمائندہ انیس ہارون کہا کہ بے ہوشی کا انجکشن لگا کر اس کے ساتھ جو گھناونا کھیل کھیلا گیا، یہ سوال اب قانون بنانے والے پر عائد ہوتا ہے کہ اس درندگی کے حوالے سے قوانین کے مطابق انہیں کس قسم کی سزائیں دی جائیں گی۔سندھ ہیومن رائٹس کی نمائندہ جسٹس ماجدہ رضوی نے کہا کہ اس غیرانسانی اور غیر فطری واقعے کے اصل کرداروں کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے۔وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے کمشنر کراچی سے رپورٹ طلب کرلی اور کہا کہ بتایا جائے مریضہ عصمت سے زیادتی اور قتل میں کون سے عناصر ملوث ہیں؟

انہوں نے کہا کہ دانت کی تکلیف میں مبتلا مریضہ کے ساتھ مبینہ زیادتی اور ہلاکت میرے لیے تکلیف کا باعث ہے۔وزیر اعلیٰ سندھ کا کہنا ہے کہ ہلاکت کا مقدمہ درج ہونے کے باوجود پولیس نے واقعے پر کیا پیشرفت کی ہے؟ اب تک کارروائی کی تفتیشی رپورٹ مجھے ارسال کی جائے، اس طرح کے واقعات ناقابل بردا شت ہیں۔پولیس نے پیر کو گرفتار تین ملزمان عامر، شاہزیب اور ولی محمد کو جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر عدالت میں پیش کیا، جہاں عدالت نے ملزمان کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔کیس کے تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ میں نے تفتیش کے لیے مزید ریمانڈ کی درخوا ست کی تھی ،ملزمان سے تفتیش ادھوری ہے، ملزمان نے مقتو لہ کو غلط انجکشن لگایا جس سے عصمت کی موت واقع ہوئی۔کورنگی نمبر 5 کے سرکاری اسپتال کا ڈاکٹر فرار ہوگیا، ملزم کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے جارہے ہیں

Please follow and like us:

Leave a Reply