غزل

Spread the love

ڈاکٹر فیاض احمد علیگ
اسسٹنٹ پروفیسر ابن سینا طبیہ کالج
بینا پارہ اعظم گڑھ

ہندو مسلم ایکتا ہی بس یہاں کی شان ہے
ہاتھ میں عبدل کے گیتا رام کے قرآن ہے

چار سو تو آدمی کی بھیڑ ہے لیکن میاں
اس کا رتبہ اور ہے جو آدمی انسان ہے

سب یہی کہتے ہیں مجھ سے بھول جاؤں میں اسے
کوئی بتلائے مگر کیا خود کشی آسان ہے

ہم تو ظالم تیری چالوں کو سمجھتے ہیں مگر
دل کا آخر کیا کریں دل تو ابھی نادان ہے

جب سے ظالم وہ گیا ہے شہر میرا چھوڑ کر
محفلیں ہیں ختم ساری شہر بھی ویران ہے

آج اپنےملک میں تو سارے چوکیدار ہیں
رام ہیں جو سب یہاں تو کون ہنومان ہے

ان کا دامن ہاتھ سے کیا چھوٹا ذرا فیاض بس
زندگی بیزار مجھ سے موت بھی حیران ہے ۔

Leave a Reply