196

زیرزمین پانی کے استعمال کاکیس,صوبوں کی ٹیکس لگانے سے متعلق رپورٹس مسترد,چیف جسٹس

Spread the love

سپریم کورٹ نے زیر زمین پانی کے استعمال کے کیس میں صوبوں کی جانب سے ٹیکس لگانے سے متعلق رپورٹس مسترد کردیں۔چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت ہوئی تو اس موقع پر زیر زمین پانی کے استعمال پر صوبوں کی جانب سے ٹیکس لگانے میں پیش رفت نہ ہونے پر چیف جسٹس نے شدید برہمی کا اظہار کیا۔عدالت نے پانی سے متعلق صوبوں کی طرف سے کیے گئے اقدامات پر عدم اطمینان کا اظہار کیا، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ بار بار کہا پانی سے متعلق جنگی بنیادوں پر اقدامات کی ضرورت ہے، کوئٹہ میں زیر زمین پانی 12 سو فٹ پر چلا گیا ہے اور گوادر میں پینے کا پانی دستیاب نہیں ہو رہا۔سیکرٹری لاء اینڈ جسٹس کمیشن نے عدالت کو بتایا کہ ابھی تک صوبوں کی جانب سے کوئی اقدامات نہیں کیے گئے اور نہ ہی اس حوالے سے آگہی مہم شروع ہوسکی ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پانی نایاب ہونا شروع ہو چکا ہے،سونے کی قیمت پر بھی نہیں ملے گا، نہ آپ لوگوں کی نیت ہے نہ صلاحیت، میں کہتا ہوں تو پھر خبر لگ جاتی ہے۔چیف جسٹس نے استفسار کیا منرل واٹر کمپنیاں پانی استعمال کر رہی ہیں، بتایا جائے صوبوں اور وفاق نے کیا میکنزم بنایا ۔اس موقع پر ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا وزیراعلیٰ اور کابینہ کو سمری بھجوا دی ہے جبکہ سیکرٹری لاء اینڈ جسٹس کمیشن نے عدالت کو بتایا کہ پانی کی قیمت اور استعمال سے متعلق رپورٹ دی ہے جس میں چند تجاویز پیش کی گئیں ہیں۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا بوتل کے پانی کے علاوہ صنعتوں میں پانی کے استعمال کی قیمت کا بھی تعین ہونا چاہیے۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا صنعتیں استعمال شدہ پانی کو دوبارہ قابل استعمال بنائیں، لاہور ہائیکورٹ کے جج کی اچھی تجویز ہے کہ مساجد میں وضو کا استعمال شدہ پانی دیگر کاموں میں استعمال کیا جائے۔سپریم کورٹ نے وفاق اور صوبوں کی جانب سے جمع کروائی گئی رپورٹس مسترد کردیں اور قرار دیا کہ رپورٹس آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہیں، عملی طور پر متعلقہ صوبوں اور اسلام آباد انتظامیہ نے کچھ نہیں کیا۔ عدالت نے کہا کہ لاء اینڈ جسٹس کمیشن کی سفارشات پر وفاق اور صوبوں کو عملی اقدامات کا حکم دیا گیا تھا۔سپریم کورٹ نے جمع کروائی گئی رپورٹ مسترد کرتے ہوئے سفارشات پر شق وار جواب طلب کرلیا اور کہا کہ تمام صوبے اور وفاق دو ہفتوں میں عملی اقدامات کر کے جواب دیں۔ملک میں بڑھتی ہوئی آبادی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ آبادی روکنے کیلئے اقدامات نہ کیے تو یہ ملک کی تباہی ہوگی اور اس کے اثرات بہت برے ہوں گے۔ کیس کی سماعت کے سلسلے میں سیکرٹری صحت عدالت میں پیش ہوئے۔سیکرٹری صحت نے عدالت کو بتایا کہ آبادی پر قابو پانے کیلئے ایکشن پلان مرتب کرکے جمع کرادیا ۔چیف جسٹس نے سیکرٹری سے استفسار کیا کہ آبادی سے متعلق سروے قابل اعتبار بھی ہوتے ہیں یا نہیں؟ یہ سروے دفاتر میں بیٹھ کر تو نہیں کیے جاتے؟سیکرٹری نے جواب دیا کہ نجی کمپنیوں سے سروے کرواتے ہیں، اس پر جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ سروے ٹھیک کرانے کی کوشش کریں کیونکہ اس کی بنیاد پر کام کیا جاتا ہے۔چیف جسٹس پاکستان نے سیکرٹری سے مکالمہ کیا کہ آپ نے قلیل المدتی اقدامات بھی تجویز کیے ہوں گے ؟ ہر تین ماہ بعد آپ سے میٹنگ کریں گے، دیکھیں گے کہ کتنے فیصد اقدامات پرعملدرآمد ہوا۔جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ حکومت کو بتا دیں کہ آبادی روکنے کیلئے اقدامات نہ کیے تو یہ ملک کی تباہی ہوگی کیونکہ ہمارے وسائل کم ہو رہے ہیں لہٰذا آبادی کوکنٹرول نہ کیا گیا تو اس کے اثرات بہت برے ہوں گے۔سیکرٹری صحت نے عدالت میں مؤقف اپنایا کہ 2025 تک آبادی میں اضافے کی شرح کو 1.5 فیصد تک لانا ہے۔چیف جسٹس پاکستان نے سیکرٹری صحت کو اس حوالے سے ہر تین ماہ بعد پیش رفت رپورٹ دینے کی بھی ہدایت کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں