گلِ عباس (افسانہ) غلام عباس

17 نومبر 1909 تا 2 نومبر 1982 میں ایک چھوٹے سے کالے کالے بیج میں رہتا تھا۔ یہی میرا گھر تھا۔ اس کی دیواریں خوب مضبوط تھیں اور مجھے اس کے اندر کسی کا ڈر نہ تھا۔ یہ دیواریں مجھے سردی سے بھی بچاتی تھیں اور گرمی سے بھی۔ کچھ دِن تو میں اِدھر اُدھر مزید پڑھیں

نظّارہ درمیاں ہے (افسانہ) قراۃ العین حیدر

 20 جنوری، 1927تا 21 اگست، 2007 تارا بائی صبح کو بیڈ روم میں چائے لاتی ہے بڑی عقیدت سے صاحب کے جوتوں پر پالش اور کپڑوں پر استری کرتی ہے، ان کے شیو کا پانی لگاتی ہے، جھاڑو پوچھا کرتے وقت وہ بڑی حیرت سے ان خوبصورت چیزوں پر ہاتھ پھیرتی ہے، جو صاحب اپنے مزید پڑھیں

زکواۃ (افسانہ) واجدہ تبسم

16 مارچ 1935 تا9 دسمبر 2010 چاند آسمان پر نہیں نیچے زمین پر جگمگا رہا تھا! نواب زین یار جنگ کے برسوں پہلے کسی شادی کی محفل میں ڈھولک پر گاتی ہوئی میراثنوں کے وہ بول یاد آ گئے: کیسے پاگل یہ دنیا، کے لوگاں ماں۔ چھت پوکائے کو تو جاتے یہ لوگاں ماں۔ آنکھا مزید پڑھیں

آپا (افسانہ) ممتاز مفتی

جب کبھی بیٹھے بٹھائے مجھے آپا یاد آتی ہے تو میری آنکھوں کے آگے ایک چھوٹا سا بلوری دیا آ جاتا ہے جو مدھم لو سے جل رہا ہو۔ مجھے یاد ہے ایک رات ہم سب چپ چاپ باورچی خانے میں بیٹھے ہوئے تھے۔ میں ، آپا اور امی جان کہ چھوٹا بدو بھاگتا ہوا مزید پڑھیں

پشاور ایکسپریس (افسانہ) کرشن چندر

دیپک بدکی صاحب نے اپنے مضمون میں پشاور ایکسپریس کاخاص تذکرہ کیا اس لیے کرشن چندر کا یہ افسانہ پیش خدمت ہے جب میں پشاور سے چلی تو میں نے چھکا چھک اطمینان کا سانس لیا۔ میرے ڈبوں میں زیادہ تر ہندو لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔ یہ لوگ پشاور سے ہوئی مردان سے، کوہاٹ سے، مزید پڑھیں

شہزادہ (افسانہ) کرشن چندر

سدھا خوبصورت تھی نہ بدصورت، بس معمولی سی لڑکی تھی۔ سانولی رنگت، صاف ستھرے ہاتھ پاؤں، مزاج کی ٹھنڈی مگر گھریلو، کھانے پکانے میں ہوشیار، سینے پرونے میں طاق، پڑھنے لکھنے کی شوقین، مگر نہ خوبصورت تھی نہ امیر، نہ چنچل، دل کو لبھانے والی کوئی بات اس میں نہ تھی۔ بس وہ تو ایک مزید پڑھیں

ریال و درہم کمانے والوں کی قربانیاں

عزیز اعظمی اصلاحی اسرولی سرائمیر تعلیم سے زیادہ پیسہ اور کتاب سے زیادہ پاسپورٹ کی اہمیت رکھنے والی ہماری سوچ اور روایت کے مطابق ابا نے بھی پڑھائی چھوڑ کر پاسپورٹ بنوایا اور ریال و درہم سے گھر کی تقدیر بدلنے کا خواب سجائے سعودی عرب چلے گئے، اس میں کوئی شک نہیں کہ ریال مزید پڑھیں

گڈریا (افسانہ) اشفاق احمد

اشفاق احمد 22 اگست 1925 تا 7 ستمبر 2004 یہ سردیوں کی ایک یخ بستہ اور طویل رات کی بات ہے۔ میں اپنے گرم گرم بستر میں سر ڈھانپے گہری نیند سو رہا تھا کہ کسی نے زور سے جھنجھوڑ کر مجھے جگا دیا۔ “کون ہے۔”میں نے چیخ کر پوچھا اور اس کے جواب میں مزید پڑھیں

کاغذی پھول (افسانہ) گبرئیل گارسیا مارکیز کے قلم سے

گبرئیل گارسیا مارکیز 17اپریل 2014 کو اس جہانِ فانی کو ہمیشہ کے چھوڑ گئے اور دنیا ایک بڑے ادیب سے محروم ہو گئی۔ ان کی برسی کے موقع پر گبرئیل کا افسانہ پیش کیا جا رہاہے صبح کاذب کے ملگجے اندھیرے میں مینا نے راستہ محسوس کرتے ہوئے اپنا وہ لباس پہنا جس کی آستینیں مزید پڑھیں

راسپوٹین کی موت(افسانہ) منٹو

سعادت حسن منٹو راسپوٹین دنیا کا سب سے بڑا گنہگار اور بدخصلت انسان جو روس میں پیدا ہوا، ولی سمجھا جاتا تھا، مگر درحقیقت وہ ایک شیطان تھا جس کے ہاتھوں زارِ روس کی عظیم الشان سلطنت برباد ہوئی اس کی گناہوں بھری زندگی اس قدر حیرت خیز ہے کہ اس پر کسی خیالی افسانے مزید پڑھیں

توبہ شکن (افسانہ) بانو قدسیہ

28 نومبر 1928ء – تا 4 فروری 2017ء یی بی رو رو کر ہلکان ہو رہی تھی۔ آنسو بے روک ٹوک گالوں پر نکل کھڑے ہوئے تھے۔ “مجھے کوئی خوشی راس نہیں آتی۔ میرا نصیب ہی ایسا ہے۔ جو خوشی ملتی ہے، ایسی ملتی ہے کہ گویا کوکا کولا کی بوتل میں ریت ملا دی مزید پڑھیں

دیوار (افسانہ) ژاں پال سارتر

سارتر کے یوم وفات کے موقع پر ان قارئین کے لیے خصوصی اشاعت سارتر کے بارے میں تفصیلی معلومات کے لیے یہاں کلک کریں یہ افسانہ سرینگر کے ایک استاد ڈاکٹر پرویز احمد کے بلاگ سے لیا گیا ہے اور ان کی باضابطہ اجازت کے ساتھ شائع کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے ہمیں چونے مزید پڑھیں