20

عظیم شاعر فیض احمد فیض کا109واں یوم پیدائش آج

Spread the love

اس سلسلے میں لاہور سمیت ملک بھر میں ادبی حلقوں اور ان کے مداحوں کے زیر اہتمام منعقد کی جائیں گی
لاہور(ادبی رپورٹر سے) اردو ادب کے عظیم شاعر فیض احمد فیض کا109واں یوم پیدائش 13فروری جمعرات کومنایاجائے گا اس سلسلے میں لاہورسمیت ملک بھر میں ادبی حلقوں اور ان کے مداحوں کے زیر اہتمام منعقد کی جائیں گی جس میں سالگرہ کے کیک کاٹے جائیں گے جبکہ ان کی شاعری پر مبنی محافل موسیقی کے پروگرام بھی منعقد ہونگے۔معروف ترقی پسند شاعر فیض احمد فیض13فروری1911ء کو سیالکوٹ کے ایک مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے وہ ترقی پسند شاعر اور دانشور و صحافی تھے وہ بلاشبہ مرزا غالب اور علامہ اقبال کے بعد سب سے زیادہ پڑھے جانے والے اردو شاعر تھے ۔

فیض کی شاعری کے انگریزی،جرمن،روسی،فرنچ سمیت مختلف زبانوں میں تراجم شائع ہو چکے ہیں ان کے مجموعہ کلام میں ’’نسخہ ہائے وفا، نقش فریادی ،نقش وفا،دست صباء،دست تہہ سنگ،سر وادی سینا ،زنداں نامہ ‘‘ اور دیگر قابل ذکر ہیں ۔فیض احمد فیض وہ واحد ایشیائی تھے جنہیں روس کے لینن امن ایوارڈاورنوبل پرائزسے نوازا گیا انہیں پاکستانی امن ایوارڈ،نگار ایوارڈاور سب سے بڑے سول ایوارڈنشان امتیاز سے بھی نوازا جا چکا ہے۔فیض احمد فیض20نومبر 1984ء کو انتقال کر گئے تھے۔

غالب اور اقبال کے بعد اردو کے سب سے عظیم شاعر ہیں۔ آپ تقسیمِ ہند سے پہلے 1911ء میں سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ آپ انجمن ترقی پسند مصنفین تحریک کے فعال رکن اور ایک ممتاز اِشتراکیت سٹالنسٹ فکر کے کمیونسٹ تھے۔

فیض 13 فروری 1911ء کو کالا قادر، ضلع نارووال، پنجاب، برطانوی ہند میں ایک معزز سیالکوٹی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد، سلطان محمد خان، ایک علم دوست شخص تھے۔ وہ پیشے سے ایک وکیل تھے اور امارت افغانستان کے امیر عبدالرحمٰن خان کے ہاں چیف سیکرٹری بھی رہے۔ بعد ازاں، انہوں نے افغان امیر کی سوانح حیات شائع کی۔ آپ کی والدہ کا نام فاطمہ تھا۔

فیض کے گھر سے کچھ دوری پر ایک حویلی تھی۔ یہاں اکثر پنڈت راج نارائن ارمان مشاعروں کا انعقاد کیا کرتے تھے، جن کی صدارت منشی سراج الدین کیا کرتے تھے؛ منشی سراج الدین، مہاراجا کشمیر پرتاپ سنگھ کے منشی تھے اور علامہ اقبال کے قریبی دوست بھی۔ انہی محفلوں سے فیض شاعری کی طرف مرغوب ہوئے اور اپنی پہلی شاعری دسویں جماعت میں قلمبند کی۔

فیض کے گھر کے باہر ایک مسجد تھی جہاں وہ فجر کی نماز ادا کرنے جاتے تو اکثر مولانا محمد ابر مزید پڑھیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں