31

اور شیشہ ٹوٹ گیا(ایک مختصر کہانی)

Spread the love

ایک آدمی ریڑھی پر شیشہ لے کر جا رہا تھا کہ سڑک پر ایک کُھلے گٹر کی وجہ سے اس کی ریڑھی اُلٹ گئی اور سارا شیشہ ٹوٹ گیا، وہ غریب فٹ پاتھ پر سر پکڑ کر بیٹھ گیا اور رونے لگا کہ مالک کو کیا جواب دوں گا۔ لوگ اس کے ارد گرد کھڑے ہوگئے اور ہمدردی تسلی دینے لگے۔

اتنے میں ایک بزرگ آگے بڑھے اور سو روپے اس کے ہاتھ پر رکھتے ہوئے کہنے لگے بیٹا اس سے نقصان تو پورا نہیں ہوگا لیکن رکھ لو۔ بزرگ کی دیکھا دیکھی باقی لوگوں نے بھی اس کے ہاتھ پر سو پچاس کے نوٹ رکھنے شروع کردئیے تھوڑی ہی دیر میں شیشے کی قیمت پوری ہوگئی. اس نے سب کا شکریہ ادا کیا.

تو ایک شخص بولا بھئی شکریہ ان بزرگ کا ادا کرو جنھوں نے ہمیں یہ راہ دکھائی اور خود چپکے سے چل دئیے۔

خود کش جیکٹ کے متعلق حیرت انگیز انکشاف جاننے کے لیے کلک کریں

سب ہی اپنے طور پر نیکی کا کام کرنا چاہتے ہیں،

لیکن سوال یہ ہے کہ پہلا قدم بڑھائے کون، راستہ دکھائے کون؟

آئیے آج سے ہم عہد کریں کہ نیکی کا کام بھی کریں گے۔ لوگوں کو سیدھا راستہ بھی دکھائیں گے.

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم معاشرہ سدھارنے کی بجائے ہم اپنے آپ کو ٹھیک کریں ایسا کرنے سے کم از کم ہم یہ کہنے پر لازمی قادر ہو جائیں گے کہ میں نے اس جہانِ فانی اور مادہ پرست دنیا میں ایک آدمی کو درست کر کے اسے سیدھے راستے پر چلا دیا ہے۔ ہم اپنے اپنے خول میں بند رہتے ہیں اور ہمیں اپنے گرد دوسروں کا کوئی احساس نہیں رہ گیا۔ گذشتہ دور میں جب ہم کسی کو مشکل میں دیکھتے تھے تو اس کی مدد کرتے تھے مگر آج ہم جہاں کسی کو مشکل میں دیکھتے ہیں تو اس کی مدد کرنے کی بجائے اس کی ویڈیو بنانے میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں

معروف روسی ادیب و افسانہ نگار چیخوف کے بارے میں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں

شیشہ ڈاکٹر شاکرہ نندنی

شیشہ ڈاکٹر شاکرہ نندنی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں