41

علامہ کمال الدین الدمیری (1341ء —: 27 اکتوبر 1405ء)

Spread the love

پندرہویں صدی عیسوی میں مصری محدث، محقق، عالم تھے۔ علامہ دمیری کی وجہ شہرت اُن کی تصنیف ’’عطار الجنان‘‘ جس کا اردو ترجمہ حیات الحیوان ہے۔

نام و نسب

علامہ دمیری کا اسم گرامی کمال الدین محمد، کنیت ابوالبقاء اور والد کا نام موسیٰ بن عیسیٰ تھا۔ شجرۂ نسب یوں ہے: کمال الدین محمد بن موسیٰ بن عیسیٰ بن علی الدمیری المصری۔ شمس الدین سخاوی کہتے ہیں کہ علامہ کا نام پہلے کمال الدین تھا لیکن بعد میں اپنا نام کمال الدین محمد رکھا اور خود علامہ نے اپنی تصانیف میں لکھا ہے کہ اِس کی وجہ یہ تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کے ساتھ بطور برکت اِنتساب ہوجائے۔

پیدائش

محقق ابن شہبہ نے طبقات میں لکھا ہے کہ علامہ دمیری کی پیدائش 750ھ میں ہوئی۔ شمس الدین سخاوی اور ابن العماد حنبلی نے آپ کا سال پیدائش 742ھ مطابق 1341ء کا اوائل لکھا ہے اور مقام پیدائش قاہرہ بتایا ہے۔ یہ تطبیق یوں ممکن ہو سکی کہ علامہ دمیری نے اپنی تاریخ پیدائش اپنی کتب میں تحریر کی تھی جہاں سے شمس الدین سخاوی نے نقل کی تھی۔

ابتدائی حالات اور حصول علم

علامہ دمیری کا بچپن قاہرہ میں گزرا اور یہیں ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ جب ہوش سنبھالا تو بطور درزی کے کام شروع کیا۔ چند دِن یہ کام کیا اور پھر اِس سے الگ ہو گئے۔ جب علم و فن کی اہمیت حاصل ہوئی تو جامعۃ الازہر، قاہرہ میں خود کو تعلیم کے لیے وقف کر دیا۔ پھر اِس انہماک کے ساتھ حصولِ علم میں لگے رہے کہ اپنے وقت کے جلیل القدر علما میں شمار ہونے لگے، یہاں تک کہ عہدۂ قضا پیش کیا گیا لیکن علامہ دمیری نے اِس عہدے سے اِنکار کر دیا۔ علامہ دمیری اہل سنت کے مسلک سے وابستہ اور فقہ شافعی کے مفتی تھے۔ تصوف میں درک تھا۔ عابد و زاہد تھے۔ سعودی علما کے مطابق علامہ دمیری اولاً شافعی تھے لیکن بعد ازاں فقہ مالکی کو اِختیار کر لیا تھا۔ لیکن اِس بات کی تائید نہیں ہوتی کیونکہ حیات الحیوان میں جانوروں کے شرعی احکامات کی تفصیلات سے معلوم ہوتا ہے کہ علامہ شافعی المذہب تھے، چنانچہ بعض مقامات میں علامہ دمیری نے شافعی مذہب کی تفصیل اور ترجیح بیان کی ہے۔

علامہ دمیری نے اپنے زمانے کے یکتائے روزگار علما و فقہا سے علوم حاصل کیے۔ علم فقہ میں شیخ بہاء الدین سبکی، جمال الدین اسنوی، کمال الدین نویری المالکی سے حاصل کیا اور اِنہیں اساتذہ سے افتاء و تدریس کی اجازت ملی۔ ادب میں شیخ برہان الدین قیراطی اور شیخ بہاء بن عقیل سے علم حاصل کیا۔ علم حدیث میں جامع الامام الترمذی شیخ علی المظفر عطار المصری، جمال عبدالمعطی بن کمال بن محمد، علی بن احمد فرضی الدمشقی، ابوالفرج بن القاری اور محمد بن علی الحراوی سے تحصیل کی۔

بقول حافظ زیلعی، آپ نے شیخ کمال الدین کے درس ترمذی میں بھی شریک ہوکر استفادہ کیا۔ اِسی طرح شیخ کمال الدین محمد بن عمر بن جیب سے مسند احمد بن حنبل مکہ مکرمہ میں اور مدینہ منورہ میں شیخ عفیف المطری سے پڑھی۔ اِسی طرح دیگر علوم سراج الدین بلقینی سے حاصل کیے۔ شمس الدین سخاوی کا بیان ہے کہ علامہ دمیری نے شیخ بہاء الدین احمد بن تقی السُبکی کی صحبت بابرکت میں رہتے ہوئے زیادہ علم حاصل کیا۔ البدر الطالع کے بیان کے مطابق آپ نے علوم و معارف امام یافعی سے بھی حاصل کیے، جیساکہ کتاب حیات الحیوان کے مطالعہ سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ اوراد و وَظائف اور دیگر عملیات امام یافعی سے لیے گئے۔ اِن تمام علوم سے استفادہ حاصل کرکے علامہ دمیری تفسیر، حدیث، فقہ، فلسفہ اور عربی ادب میں ماہر ہوئے۔

وفات

علامہ دمیری نے بروز منگل 3 جمادی الاول 808ھ مطابق 27 اکتوبر 1405ء کو قاہرہ میں وفات پائی۔

حیات الحیوان

علامہ دمیری نے یہ کتاب اصل میں عربی میں ہے جس کا نام عطار الجنان ہے اور اس کا اردو ترجمہ حیات الحیوان کے نام سے ہوا اور یہ نان اس قدر معروف ہوا ہے کہ اس میں کتاب کا اصل نام گم ہو کر رہ گیا اور آج بہت ہی کم لوگوں کو علم ہے کہ اس کتاب کا اصل نام عطار الجنان ہے۔ علامہ دمیری نے یہ کتاب علم حیوانات پر مرتب کی ہے اور اِس کتاب جیسی دوسری مثال آج تک پیش نہیں کی جاسکی۔ حیات الحیوان اپنی تالیف سے آج تک اِس علم میں ایک نادرروزگار شاہکار سمجھی جاتی ہے۔ اپنے زمانہ ٔ تصنیف سے اب تک اپنی متنوع اور گوناگوں خصوصیات کی بنا پر یہ کتاب مقبولِ عام رہی ہے اور مختلف زمانوں اور مختلف زبانوں میں اِس کے تراجم بھی ہوئے ہیں۔ حیات الحیوان حیوانات کے مفصل تذکرے پر مبنی ایک شاہکار کتاب ہے جس میں 1069 جانوروں کا ذِکر کیا گیا ہے۔ اِن میں سے جن جانوروں کا حلیہ اور تفصیل کا ذِکر ہوا ہے، اُن کی تعداد 731 ہے۔ لیکن چونکہ بسا اوقات مختلف جانوروں کو ایک ہی نام دِیا گیا ہے اور متعدد مقامات پر اِس کے برعکس ایک ہی جانور مختلف عناوین کے تحت بیان کیا گیا ہے، اِس لیے کتاب میں مذکور حیوانات کی اصل تعداد متعین کرنا خاصا دشوار کام معلوم ہوتا ہے۔

اِس کے علاوہ علامہ کمال الدین الدمیری نے اسی کتاب میں خلفاء کی تاریخ ذیل میں 69 خلفاء کا تذکرہ بھی کیا ہے۔ اس کتاب میں خلفا کے باب میں کچھ ایسے بیانات ہی مذکور ہیں جس کا تذکرہ دوسری تاریخ یا سیرت کی کتب میں نہیں ملتا۔ پاکستان میں اس وقت حیات الحیوان کے تین سے چار تراجم دستیاب ہیں مگر ان تراجم میں بہت سے سقم ہیں نہ صرف یہ بلکہ بہت سی معلومات ایسی ہیں جن پر تحقیق کی ضرورت ہے مگر ابھی تک کسی نے اس سلسلہ میں کوئی کام نہیں کیا۔ مذکورہ کتاب میں بہت سی ضعیف احادیث بھی بیان کی گئی ہیں اور یہ بھی حقیقت ہے کہ کہیں کہیں کچھ موضوع احادیث بھی مذکور ہیں۔ حیات الحیوان کی ایک جلد کا ترجمہ کا اعزاز راقم کو بھی حاصل ہوا جو ابھی تک شائع نہیں ہو سکی۔ اس ترجمہ کا پایہ تکمیل تک نہ پہنچنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اس میں تحقیق طلب مسائل پر کوئی سیر حاصل معلومات دستیاب نہیں ہو سکی تھیں۔ اس کے بعد تاریخ فرشتہ کا ترجمہ اور تاریخ اسلام کا حوالہ لکھنے کا کام بھی بہت ہی مشکل اور جانکنی کا کام تھا جس میں کئی سال لگ گئے اور حیوات الحیوان کا جدید ترجمہ نہ ہو سکا۔ اگر اللہ کا منظور ہوا اور زندگی نے وفا کی تو دوسری جلد کا ترجمہ بھی کر کے قارئین کے لیے پیش کیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں