20

پاکستانی سیاست کا ایک اہم مہرہ غلام اسحاق خان

Spread the love

تحریر و تحقیق: مدثر بھٹی

سابق صدر غلام اسحاق کی برسی کے موقع پر خصوصی مضمون

غلام اسحاق خان نے پاکستان بننے کے بعد بطور بیورو کریٹ مختلف عہدوں پر کام کیا وہ 20 جنوری 1915 کو بنوں میں پیدا ہوئے اور انہوں نے تمام عمر سیاسی جوڑ توڑ اور عہدوں کے حصول میں گزاری دو منتخب حکومتوں کو گھر بھیجا ایک بی اے پاس ہونے کے باوجود وہ سٹیٹ بینک کے گورنر رہے ۔ ان کو یہ اعزار بھی حاصل رہا ہے کہ تمام عمر کلیدی عہدوں پر رہنے کے باوجود بھی انہوں نے اپنے علاقے کے لیے کچھ نہیں کیا اور وہ ایسی شخصیت کے مالک تھے جن کے عزیز و اقارب ان کو اپنا عزیز کہنا بھی برا خیال کرتے تھے ان کے قرابت داروں سے اگر کبھی سوال کیا جاتا تو جواب ملتا کہ غلام اسحاق نامی ان کا کوئی رشتہ دار نہین ہے

پاکستان کے سابق صدر تھے۔ انہوں نے سیاست میں آنے سے بہت پہلے سرکاری عہدوں پر خدمات سر انجام دیں۔ ضلع بنوں کے ایک گاؤں اسماعیل خیل میں ایک پشتون گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق پشتونوں کے بنگش قبیلے سے تھا ابتدائی تعلیم کے بعد انہوں نے پشاور سے کیمسٹری اور باٹنی کے مضامین کے ساتھ گریجویشن کی۔ انیس سو چالیس میں انڈین سول سروس میں شمولیت اختیار کی۔

ملازمت

صوبہ خیبر پختونخوا میں وزیر اعلی کے سیکرٹری اور ہوم سیکرٹری جیسے کئی اہم عہدوں پر فائز رہے۔ قیام پاکستان کے بعد سیکرٹری اطلاعات مقرر ہوئے۔ 1955 میں جب ون یونٹ کے تحت مغربی اور مشرقی پاکستان کے نام سے دو صوبے بنائے گئے تو غلام اسحاق خان مغربی پاکستان کے سکریٹری آبپاشی مقرّر ہوئے۔ اس حیثیت میں پاکستان بھارت دریائی پانی کی تقسیم کے معاملات میں وہ سرکاری معاونت کرتے رہے۔ 196ٍ1 میں پانی و بجلی کے وسائل کی ترقی اور نگرانی کے ادارے واپڈا کے سربراہ بنے اور 1965 تک اس عہدے پر فائز رہے۔ اس کے بعد پانچ برس سے زائد عرصے تک سیکرٹری خزانہ رہے۔

بطور سکریٹری خزانہ بھی وہ اتنے بااثر تھے کہ بیس 20 دسمبر 1971 کی جس تصویر میں شکست خوردہ یحیٰ خان ذو الفقار علی بھٹو کو اقتدار منتقل کر رہے ہیں اس تصویر میں تیسرے آدمی غلام اسحاق خان ہیں جو اقتدار کی منتقلی کی دستاویز پر دستخط کروا رہے ہیں۔ بھٹو حکومت کی تشکیل کے بعد غلام اسحاق خان انیس سو پچہتر تک گورنر اسٹیٹ بینک کے طور پر فرائض انجام دیتے رہے۔ پاکستان کی اس سے زیادہ بدنصیبی اور کیا ہو گی کہ روز اول سے لے کر آج تک اس کے اداروں کی سربراہی ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں رہی جن کو ان اداروں کی اے بی سی کا بھی علم نہیں تھا۔ اور یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ موصوف ایک بی اے پاس شخص تھے اور ان کی گریجویشن بھی کسی معاشی مضمون میں نہیں بلکہ کیمسٹری اور باٹنی میں تھی اور قربان جائیں ان محب وطن لوگوں کے جنہوں نے ایسے اعلی شخص کو سٹیٹ بنک کا گورنر مقرر کیا۔

اس کے بعد غلام اسحاق خان کو سکریٹری جنرل دفاع کا قلمدان دے دیا گیا۔ اس حیثیت میں وہ پاکستان کے جوہری پروگرام کے بھی نگراں رہے اور ان کے فوج کی اعلیٰ قیادت سے بھی براہ راست تعلقات استوار ہوئے۔ 1977 میں جب جنرل ضیا الحق نے بھٹو حکومت کا تختہ الٹا تو غلام اسحاق خان پہلے مشیرِ خزانہ اور پھر وزیرِ خزانہ بنائے گئے اور انہوں نے معیشت کو اسلامی طرز پر ڈھالنے کے جنرل ضیا کے ایجنڈے میں معاونت کی۔ ملک کے لیے خدمات کے پیش نظر انہیں ستارہ پاکستان اور ہلال پاکستان کے اعزازات سے بھی نوازا گیا۔

سیاسی زندگی

1984 کے اواخر میں غیر جماعتی انتخابات کے نتیجے میں بحالی جمہوریت کا محدود اور محتاط عمل شروع ہوا تو غلام اسحاق خان کو سینیٹ کا چیئرمین بنایا گیا جو آئینی اعتبار سے صدر کا جانشین عہدہ ہے۔ چنانچہ جب 17اگست 1988 کو غلام اسحاق خان نے بحیثیت قائم مقام صدر مملکت باضابطہ طور پر تصدیق کی کہ صدر ضیا الحق کا طیارہ ہوا میں پھٹ گیا ہے تو اس وقت پورے ملک میں یہ انتظار ہو رہا تھا کہ فوج کب اقتدار سنبھالتی ہے لیکن ایسا نہیں ہوا۔ بلکہ جنرل ضیا الحق کے غیر جماعتی فارمولے کو طاق پر رکھ دیا گیا اور تین ماہ بعد جماعتی بنیاد پر عام انتخابات کے نتیجے میں پیپلز پارٹی اکثریتی جماعت کے طور پر ابھری۔

لیکن اس عرصے میں پیپلز پارٹی کی طاقت کو بیلنس کرنے کے لیے غلام اسحاق خان کی آنکھوں کے سامنے آئی ایس آئی کی مدد سے اسلامی جمہوری اتحاد کی شکل میں ایک قوت بھی کھڑی کردی گئی۔ بہرحال پیپلز پارٹی کو مشروط طور پر اقتدار منتقل کیا گیا۔ اور ڈیل کے تحت غلام اسحاق خان پیپلز پارٹی اور آئی جے آئی کی مشترکہ حمایت سے دسمبر1988 میں نوابزادہ نصراللہ خان کے مقابلے میں پاکستان کے ساتویں صدر منتخب ہو گئے۔

صدر غلام اسحاق خان کو آٹھویں آئینی ترمیم کی شق اٹھاون ٹو بی کے تحت منتخب پارلیمان اور حکومت کو برطرف کرنے کے ساتھ ساتھ عدلیہ کے جج اور مسلح افواج کے سربراہان کی تقرری کا اختیار بھی حاصل تھا۔ لیکن ان کی نہ تو بے نظیر بھٹو سے اور نہ ہی بعد میں نواز شریف حکومت سے نبھ سکی۔ اور اگست انیس سو نوّے میں بے نظیر حکومت اور اپریل انیس سو ترانوے میں نواز شریف حکومت اٹھاون ٹو بی کا شکار ہوگئیں۔

سپریم کورٹ نے 1988 میں اس صدارتی اختیار کے تحت صدر ضیا الحق کے ہاتھوں جونیجو حکومت اور پھر 1990 میں غلام اسحاق خان کے ہاتھوں بے نظیر حکومت کی پہلی برطرفی کو تو غیر آئینی قرار نہیں دیا البتہ نواز شریف حکومت کی برطرفی کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے مئی1993 میں اس کی بحالی کا حکم جاری کر دیا۔ اس کے نتیجے میں وفاقی ڈھانچہ ڈیڈلاک کا شکار ہو گیا۔ چنانچہ بری فوج کے سربراہ جنرل عبد الوحید کاکڑ کے دباؤ پر نو بحال وزیرِ اعظم نواز شریف اور جہاندیدہ صدر غلام اسحاق خان کو گھر جانا پڑا۔

شخصیت

غلام اسحاق خان نے تمام عمر بطور ایک بیوروکریٹ کے گزاری اور ان کے رفقا کے بقول آخری دم تک کے افسر کے طور پر رہے۔ ان سے بیوروکریسی کے طور طریقے شاید ہی کوئی اور بہتر انداز میں جانتا ہو۔ وہ انتہائی محنتی اور سیلف میڈ انسان تھے۔ ان کے بارے میں کوئی سکینڈل سامنے نہیں آیا لیکن ان کے دو داماد انور سیف اللہ اور عرفان اللہ مروت سیاست میں تھے اور ان کے معاملے میں وہ کچھ سیاسی بن گئے۔ سیف اللہ خاندان کی سیاست کو انہوں نے آگے بڑھایا اور عرفان اللہ مروت جو سندھ کی سیاست میں تھے اور جن پر سنگین الزامات لگے، انہوں نے ان کو بچانے کی کوشش کی۔

خدمات

صوبہ خیبر پختونخوا میں ان کا نام غلام اسحاق خان انسٹیٹیوٹ آف انجیئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی جیسے اعلی تعلیمی ادارے کے ٹوپی کے مقام پر قیام کی وجہ سے زندہ رہے گا۔ اس کے علاوہ بھٹو دور میں ایٹمی پروگرام کو آگے بڑھانے میں بھی ان کا کردار کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔

بنوں اور غلام اسحاق

حیرانی کی بات ہے کہ تقریباً کئی عشروں تک اعلی سرکاری عہدوں اور سیاسی عہدوں پر فائز رہنے کے باوجود غلام اسحاق خان بنوں جیسے پسماندہ علاقے کے لیے کچھ بھی کرنے سے قاصر رہے۔ بلکہ ان کے ہی دور صدارت میں انڈس ہائی وے کا نقشہ بدل دیا گیا جس سے ضلع بنوں کو کئی سو سال پیچھے تاریکی میں دھکیل دیا گیا۔ ان کی موت سے ملکی تاریخ پر اثر ضرور پڑے گا لیکن ان کی موت پر ضلع بنوں اور یہاں کے عوام میں کسی قسم کی کوئی گہما گہمی دیکھنے میں نہیں آئی۔ ان کے اپنے رشتے داروں کا تو یہ کہنا تھا کہ غلام اسحاق سے ان کو کوئی رشتہ نہیں وہ اس علاقے میں پیدا ہی نہیں ہوئے۔

انتقال

غلام اسحاق خان جبری ریٹائرمنٹ کے بعد پشاور میں ایسے گوشہ نشین ہوئے کہ نہ تو انہوں نے اپنی سوانح حیات لکھی اور نہ ہی کبھی کوئی انٹرویو دیا۔ حالانکہ اگر وہ چاہتے تو سن انیس سو پچپن سے لے کر تا مرگ پاکستان کی تمام اہم محلاتی جوڑ توڑ کو تاریخ کی عدالت میں سلطانی گواہ کے طور پر بہت اچھے طریقے سے بے نقاب کرسکتے تھے۔ اکتوبر 2006 میں نمونیا کے حملے سے ان کا انتقال ہوا۔ پشاور میں ان کو دفن کیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں