خوابوں کے بند دروازے

Spread the love

معروف ادیب امین بھایانی کا افسانوی مجموعہ ’’ خوابوں کے بند دروازے‘‘ شائع ہوگیا۔ اس تازہ مجموعے میں دس افسانے اور چھ افسانچے شامل ہیں ۔
’’کتاب والا پبلشر ‘‘اور ’’ فضلی سنز ‘‘کے باہمی اشتراک سے امریکہ میں مقیم معروف ادیب امین بھایانی کا تیسرا افسانوی مجموعہ ’’خوابوں کے بند دروازے‘‘ کے عنوان سے شائع ہو گیا ہے ۔

بھایانی کا شمار معاشرے کے نبض شناس مصنفین میں ہوتا ہےان کے کردار کوئی دیومالائی کہانیوں کے کردار نہیں بلکہ اسی معاشرے کے چلتے پھرتے زندہ و جاوید کردار ہیں ان کے افسانے پڑھیں تو اکثر اوقات کرداروں کے بارے میں خیال پیدا ہونے لگتا ہے کہ شاید ہم ان کو جانتے ہیں ان کرداروں میں سے کوئی نہ کوئی ہمارے اردگرد اور قریب ہی ہوتا ہےہمیشہ کی طرح اس کتاب میں بھی انہوں نے لوگوں کے عمومی مسائل کو موضوع بنایا ہے اور ان کی نفسیاتی توضیح بھی کی ہےیہاں یہ کہنا بالکل برمحل ہے کہ ایسا ایک کہنہ مشق ادیب ہی کرسکتا ہے۔

وہ ایک صاحب اسلوب مصنف ہیں اور جانتے ہیں کہ ہر عمر کے لوگوں کی دلچسپی کا سامان کیسے جمع کیا جاتا ہے۔ ان کے ہاں فلسفیانہ سوچ کا فقدان نہیں ہے مگر ان کا فلسفہ ایسا نہیں ہے جو عام قاری کو سمجھ نہ آئے

اس سے قبل مصنف کے دو افسانوی مجموعے ’’ بھاٹی گیٹ کا روبن گوش‘‘ اور ’’ بے چین شہر کی پرسکون لڑکی ‘‘ شائع ہو کر ادبی حلقوں میں داد پاچکے ہیں۔ اس کتاب میں شامل افسانے پاک و ہند کے نامور ادبی جرائد میں شائع ہوکر داد پاچکے ہیں۔مصنف اپنے منفرد طرز تحریر کی بدولت ادبی حلقوں میں اپنا ایک خاص مقام رکھتے ہیں ۔ ان کی کتابوں کا شدت سے انتظار کیا جاتا ہے اور پذیرائی کے اعتبار سے یہ سر فہرست شمار ہوتی ہیں۔ اہل کراچی کے لیے فضلی سنز اور کتاب والا کا نام نیا نہیں ہے۔ اردو بازار لاہور میں واقع الحمد مارکیٹ کی پہلی منزل پر کتاب سرائے بھی کسی تعارف کا محتاج نہیں ہےکہ قاری امین بھایانی کی کتاب وہاں سے خرید نہ سکتا ہو۔

امین بھایانی کے افسانوں پر لاہور سے معروف افسانہ نگار صبا ممتاز نے صرف اردو ڈاٹ کام سے گفتگو کرتے ہوئے جو رائے پیش کی ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اس کو بھی اسی تبصرہ کا حصہ بنایا جائے۔

افسانہ نگار معاشرے کا نباض ہی نہیں مسیحا بھی ہوتا ہے ۔ وہ معاشرتی ناہمواریوںکو دلچسپ پیرائے میں پیش کرنے کے ساتھ ساتھ قاری کے دل و دماغ میں سوچ کی گرہوں کو کھو لتااور انقلابی فکر کو پروان چڑھاتا ہے ۔امین بھایانی صاحب انسانی جذبات و احساسات کی اتنی بھرپور تصویر کشی کرتے ہیں کہ قاری ان کیفیات کو اپنے اوپر طاری محسوس کرتا ہے ۔ وہ کہانی کی صورت میں انسان کی نفسیاتی الجھنوں کی توجیہات پیش کرنے کے علاوہ ان کا حل بھی تجویز کردیتے ہیں جو کہ ایک مشتاق اور ماہر مصنف ہی کرسکتا ہے۔وہ مادیت اور روحانیت کے درمیان پھنسے ہوئے انسان کو روشنی بھی دکھاتے ہیں ۔ ان کے افسانوں میں حزن وملال ، اداسی ، غم اورخوشی غرضیکہ زندگی کے تمام رنگ اپنی تمام تر جولانیوں سمیت موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم ان کے افسانوں سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ ساتھ سوچنے کی طرف بھی مائل ہوتے ہیں ۔

ایک بڑی تحریر وہی ہو تی ہے جو کہ قاری کی سوچ کو متحرک کرے۔ افسانے کا بہترین انداز مقصدیت کا تبلیغی صورت میں نہیں بلکہ کہانی میں رواں دواں انداز میںہونا ہے۔قاری کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ افسانے کے تاثر میں کھو جائے اور اس میں بیان کی گئی حقیقت کو معاشرے کا ایک اہم عنصر تسلیم کرے۔ امین بھایانی صاحب کے افسانے دیرپا اثر کے حامل ہیں۔ کسی افسانے کی اثر پذیری ہی اسے آفاقی بناتی ہے ۔ امین بھایانی صاحب کے افسانے بجا طور پر اس وصف سے مالامال ہیں۔ وہ انسانی شخصیت کی پیچیدگیوں کو بڑے صاف ستھرے اور نکھرے ہوئے اسلوب میں پیش کرتے ہیں۔

وہ سادگی اور بے ساختگی کے ساتھ کمال پرکاری و ہشیاری کی لڑیوں میں پرو کر اپنی کہانی کا تانا بانا بنتے ہیں اور پھر اپنے مدعا کو ایک چونکادینے والے موڑ پر لے آتے ہیں۔ اس سفر میں تخلیقیت کہیں مجروح نہیں ہوتی بلکہ دلکش جملوں میں ڈھل کر قاری کو محظوظ کرتی ہے ۔ ان کا بات کہنے اور سمجھانے کا انداز الجھا ہوا نہیں اور نہ ہی ابہامات کی بھرمار ہے ۔ وہ توازن کے ساتھ انسانی رویوں کو پیش کرتے ہیں۔ ان کی افسانے بھلائے جانے کے لیے نہیں بلکہ یاد رکھے جانے کے قابل ہیں۔کسی تحریر کی کامیابی کا اندازااسی بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہ لوگوں کے اذہان میں زندہ رہتی ہے یا نہیں۔ امین بھایانی صاحب کو ایسی زندہ تحریریں پیش کرنے پر مبارک بادا ور دعائیں۔

Please follow and like us:

اپنا تبصرہ بھیجیں