اشرف صبوحی (افسانہ) ’’بدلتا ہے رنگ آسماں‘‘

Spread the love

آج اشرف صبوحی کا یوم پیدائش ہے اشرف صبوحی 11 مئی، 1905ء کو پیدا ہوئے، ڈپٹی نذیر احمد دہلوی کے خانوادے سے تعلق رکھنے والے پاکستان کے نامور ادیب، صحافی، افسانہ نگار اور مترجم تھے جو اپنی تصنیف دلی کی چند عجیب ہستیاں کی وجہ سے دنیائے اردو میں شہرت رکھتے ہیں۔ ان کا انتقال 22 مئی 1990ء کو ہوا۔ ان کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ان کے یوم پیدائش پر ان کا شہرہ آفاق افسانہ ’’بدلتا ہے رنگ آسماں‘‘ پیش کیا جا رہا ہے ۔

بدلتا ہے رنگ آسماں

ایک بوڑھا ٹانگوں سے اپاہج، ایک بڑھیا اندھی اور ایک سات آٹھ برس کی لڑکی بازاروں میں گا کر بھیک مانگتے پھرتے تھے۔ آگے مرد ہاتھوں کے بل گھسٹتا ہوا چلتا۔ اس کی کمر میں بندھی ہوئی رسی کے سہارے عورت اور پیچھے پیچھے لڑکی خبر نہیں کون تھے۔ ہندو یا مسلمان۔ غریب، محتاج بھکاریوں کی ذات کیا۔ گاناکیا تھا لاچاریاں تھیں مگر آواز میں کچھ ایسا رس اور بولوں میں ایسی کشش تھی کہ جو سنتا آنکھوں میں آنسو بھرے بغیر نہ رہتا۔ جہاں وہ جاتے بھیڑ لگ جاتی تھوڑے دن کے بعد بدھے بڑھیا تو غائب ہو گئے، صرف لڑکی رہ گئی۔ اسے شاید گانا نہیں آتا تھا۔ ان دونوں کے ساتھ آواز ملاتے ملاتے لے آگئی تھی۔ وہ فقط ’’ایک پیسہ دو خدا کی راہ پر‘‘ دہرایا کرتی۔ کچھ تو اس کی آواز کا کھٹکا، کچھ ا س کی موہنی صورت اور کچھ اس کا بچپن۔ ناممکن تھا کوئی اسے دیکھے اور ترس نہ آئے۔

لیکن ہمارے یہاں جتنے بھکاری ہیں اتنے ہی یہاں کے دان پن کرنے والے کٹر ہیں۔ کیا مجال کہ کسی اصلی بھوکے کا پیٹ بھرے اور دھوکا دئیے بغیرکوئی روٹی کا ایک ٹکڑا تو لے لے۔ بجاروں کو کھلائیں، کتوں کو پوریاں دیں، کوؤں کی مہانی کریں، چیونٹیوں کے بلوں میں آٹا ڈالی، امیر مہنتوں ، پیٹو چوبوں کو جمائیں اور نہ پوچھیں تو ان دکھیاروں کو جن کا کوئی آسرا نہیں۔ ہٹیلے فقیر، حرام ڈیل مسٹنڈے، طرح طرح کے ڈھونگ رچا کر مذہب کے نام پر مزے اڑائیں مگر خدا کے لاوارث بندوں کی کہیں بات نہ پوچھی جائے۔ یہ دین دنیا کے ٹھکیدار، میراثی ڈھونگئے خانقاہوں میں بادشاہت کریں، یتیم خانوں میں اینڈیں اور جنہیں کوئی فیل مچانا نہیں آتا، جو سوال کرنا بھی نہیں جانتے، وہ سرچھپانے کے لیے کسی کا دوار، مکان کا ایک کونا، سڑک کی پٹڑی ڈھونڈتے ہیں اور نہیں ملتی۔

لڑکی دن بھر بھیک مانگتی اوررات کو جہاں دوسری فقیرنیاں سوتیں یہ بھی جا پڑتی۔ وہ عام بھکارنیوں کی طرح ہر ایک کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتی تھی۔ اجلے پوشوں بھلے مانسوں سے مانگتی۔ گاتے گاتے خاموش کھڑی ہو جاتی۔ منہ دیکھنے لگتی۔ یہی اس کا سوال تھا۔ کوئی دے دیتا لے لیتی ورنہ صدا لگاتی ہوئی آگے بڑھ جاتی۔ لالچی نہ تھی۔ چٹوری نہ تھی۔ اس لیے کبھی کبھی دو چار آنے اس کے پاس جمع ہو جاتے۔ مگر دنیا کی عجب حالت ہے ۔ بھکاری ہوں یا دیالو کوئی کسی کو دیکھ کر خوش نہیں رہ سکتا۔ اگردولتمند کو دولتمند سے بیرہے تو فقیر بھی فقیر کا لاگو نہیں۔ جب اس کے پاس کچھ پیسے ہوتے اور یہ سو جاتی تو آس پاس والے چرا لیتے۔ چرانے کا موقع نہ ملتا تو زبردستی چھین لیتے اوریہ بیچاری بروں کی جان کو روتی رہ جاتی۔ اس کا معمول تھا کہ صبح کو گیارہ بجے تک کاٹ کے پل پر مانگا کرتی اور دوپہر کے بعد سے گھنٹہ گھر کے پاس آجاتی۔

شوکت ایک دس بارہ برس کا لڑکا، نٹووں کے کوچہ کارہنے والا۔ کشمیری دروازے کے مدرسہ جایا کرتا تھا۔ پل پر سے آمدورفت تھی۔ دس بارہ سال کے لڑکے کی کیا بساط لیکن ہونہار رواکے چکنے چکنے پات۔ شریفو ں کا بچہ، جیسی اس کی صورت پیاری پیاری ویسے ہی اس کے اطوار۔ یہ آتے جاتے اس لڑکی کو دیکھا کرتا اور لڑکی جب وہ گزرتا اس پرنظرجمائے رہتی۔ لڑکی نے اسے بچہ سمجھ کر کبھی اس سے بھیک نہیں مانگی، مگر لڑکا دوسرے تیسرے دن پیسہ دو پیسے جو اس کے پاس ہوتے ضرور دے جاتا۔ ایک دن مینہ برس رہاتھا، لڑکی پل پرکھڑی بھیگ رہی تھی شوکت اسے دیکھ کر ٹھٹھک گیا۔ جیب میں ہاتھ ڈالا ، اکنی تھی۔ کچھ سوچا اور کہنے لگا ’’لڑکی تمہارا کیا نام ہے؟‘‘

لڑکی: میں اپنا نام نہیں جانتی۔

شوکت: تمہارا نام کسی نے نہیں رکھا؟

لڑکی: کون رکھتا؟

شوکت: تمہارا کوئی نہیں؟

لڑکی: ہوتا تو اس طرح کیوں پھرتی؟

شوکت: تم بھیک کیوں مانگتی ہو؟

لڑکی: جب کوئی نام رکھنے والا نہیں تو روٹی کون کھلائے۔ بھیک نہ مانگوں تو کیا کروں؟

شوکت: میں تمہارا نام رکھ دوں؟

لڑکی: تمہارا جی چاہتاہے تورکھ دو۔ پھر تمہیں روٹی بھی کھلانی پڑے گی۔

شوکت: میں تمہیں جمیلہ کہا کروں گا۔

لڑکی: بہت اچھا!

شوکت: تواب تم بھیک نہیں مانگا کروگی؟

لڑکی: نہیں۔

شوکت: پھر کھاؤ گی کہاں سے؟

لڑکی: جس نے نام رکھا ہے وہی کھلائے گا!

مدرسہ کا وقت ہوگیا تھا۔ شوکت نے اکنی لڑکی کے ہاتھ پررکھی اور چلا گیا۔

اب شوکت کا معمول ہو گیا تھا کہ آتے اور جاتے دوچار باتیں جمیلہ سے ضرور کرتا۔ جو کچھ اس کے پاس ہوتا کل کا کل اسے دے جاتا۔ جمیلہ نے بھی صدا لگانی چھوڑ دی اور صاف ستھری رہنے لگی۔ اگر کوئی بھیک دیتا تو بھی نہ لیتی۔ صبح سویرے پل پر پہنچ جاتی۔ شوکت گزر جاتا تو کمپنی باغ میں کہیں جا بیٹھتی۔ مدرسے کی چھٹی سے پہلے پھر آ جاتی۔ مدرسے کے دوسرے لڑکے شوکت کو فقیرنی سے باتیں کرتا دیکھ کر ہنستے مذاق اڑاتے، پھبتیاں کستے لیکن وہ کوئی پروا نہ کرتا۔ اسے جمیلہ کی بھولی بھولی باتوں میں ایسا مزا آتا کہ جب تک اس کے پاس کھڑا رہتا نہ مدرسہ یاد آتا نہ گھر۔ جمیلہ کی دنیا بھی بدل گئی تھی۔ اس کی آنکھوں نے شوکت جیسا نیک محبت کرنے والا کب کوئی دیکھا تھا۔ سدا لوگوں کی گالیاں، جھڑکیاں اور ٹھوکریں ہی کھائی تھیں۔

اس میل جول کا نتیجہ یہ ہوا کہ جمیلہ آٹھوں پہر شوکت کے خیال میں رہنے لگی۔ صابن خریدتی، کپڑے دھوتی، باغ میں سے اچھے اچھے پھول چنتی، ہار بناتی یا شوکت کا انتظار کرتی۔ شوکت آتا تو وہ اپنے ہاتھوں کا گوندھا ہوا ہار اس کے گلے میں ڈالتی اور خوش ہوتی۔ اتنے میں شوکت نے مڈل کا امتحان دیا۔ اول نمبر پاس ہوا۔ شام کو جمیلہ اپنے دستور کے مطابق پھولوں کا ہار لیے کھڑی تھی کہ شوکت بھاگا ہوا جمیلہ کے پاس آیا اور ہنس کر کہنے لگا۔ ’’جمیلہ! میں پاس ہو گیا۔لاؤ میرے گلے میں ہار ڈالو‘‘۔ جمیلہ نے خوش ہو کر جواب دیا ’’میں نے دعا مانگی تھی اب مجھے مٹھائی کھلاؤ‘‘۔ شوکت نے جھٹ جیب میں سے ایک روپیہ نکال کر جمیلہ کو دیا اور بولا ’’لو خوب مٹھائی کھاؤ۔ تمہاری دعا اللہ نے قبول کی۔ لیکن جمیلہ یہ تو بتاؤ کہ تم اس طرح بے گھر بے در کب تک پھرا کرو گی؟‘‘

جمیلہ: پھر کہاں جاؤں۔ کوئی ٹھکانہ بھی ہو۔ اب تم میرے لیے دعا مانگو۔ میں بھی تمہارا منہ میٹھا کرونگی۔

شوکت: اچھا آج میں اماں جان سے کہوں گا۔ وہ ضرور تم کو اپنے ہاں رکھ لیں گی۔

گھر آکر شوکت نے امتحان میں پاس ہونے کی خوشخبری سنائی۔ ماں باپ کا اکلوتا بیٹا تھا۔ ماں نے بلائیں لیں۔ باپ نے پیار کیا۔ خوب خوشیاں منائی گئیں۔ جب اس سے فرصت ملی تو شوکت نے ماں کے گلے میں بانہیں ڈال کر جمیلہ کی داستان سنائی اور کہا ’’اماں جان بڑی اچھی لڑکی ہے۔ بیچاری یتیم کا کوئی نہیں۔ اس کو اپنے ہاں رکھ لو۔ ثواب ہوگا۔‘‘ اس نے پہلے تو ٹالا کہ ’’میاں بازار کی پھرنے والی کا کیا اعتبار خدا جانے کون ہے۔ بچوں کی سی باتیں نہ کرو‘‘۔ مگر جب شوکت بسورنے اور ایک ساں ضد کرنے لگا تو بچے کا دل کڑھنے کا خیال کر کے کہنے لگی ’’اچھا میاں ایسا ہی ہے تو کل اسے ساتھ لیتے آنا۔ دیکھوں وہ کیسی ہے۔ اگر کوئی کام کی ہوئی اور کوئی فی نہ نکلی تو رکھ لوں گی‘‘۔

دوسرے روز اتوار تھی۔ مدرسہ بند تھا۔ شوکت نے سوچا کہ آج وہ پل پر تو شاید نہیں آئے گی۔ باغ میں کہیں ہوگی۔ چلو تلاش توکرو۔ کسی طرف مل ہی جائے گی۔ یہ خیال کر کے شوکت ٹہلتا ہوا باغ میں پہنچا۔ دیکھتا کیا ہے کہ سڑک کے کنارے چمپا کے ایک درخت کے نیچے جمیلہ بیٹھی ہوئی گرے ہوئے پھولوں سے کھیل رہی ہے۔

شوکت: جمیلہ۔ جمیلہ! اٹھو گھر چلو۔ میں نے اماں سے کہا تھا۔ انہوں نے تمہیں بلایاہے۔

جمیلہ: مجھے بلا لیا ہے۔ اب میں تمہارے پاس رہوں گی۔ تمہاری دعا بھی اللہ نے قبول کرلی۔

شوکت: اللہ سب کی دعا قبول کرتا ہے۔

جمیلہ: تم بھی مجھ سے مٹھائی مانگو۔

شوکت: لاؤ کھلاؤ۔ مگر تم کہاں سے کھلاؤ گی؟

جمیلہ نے اپنی ساڑھی کے پلے میں بندھا ہوا وہی روپیہ نکالا جو ایک دن پہلے اسے شوکت نے دیا تھا۔ اور مسکرا کر کہا ’’لو پیٹ بھر کر مٹھائی کھاؤ۔ معصوم جذبات کی یہ نمائش جس قدر دلفریب تھی اسی قدر نتیجہ خیز۔ شوکت جمیلہ کی اس ادا سے بے حد متاثر ہوا۔ دونوں گھر چلے۔ آگے آگے شوکت اور پیچھے جمیلہ۔

شوکت کی بھولی صورت، پیاری وضع، صاف ستھرے پن پر ایسی ریجھی کہ دیکھتے ہی فوراًرکھ لیا۔ اسی دن اپنے پرانے کپڑوں کو کناٹ چھانٹ کر ایک جوڑا بنا دیا۔ جب گھر سے چھٹکارہ ملتا گھنٹوں اس سے باتیں کرتی۔ جہاں اولاد کم ہوتی ہے وہاں چھوکریاں چھوکرے زیادہ قدر سے رکھے جاتے ہیں۔ پھر جمیلہ جیسی لڑکی، شرافت چہرہ سے برستی تھی، کوئی کام بے ڈھنگا نہیں، ادب سے رہنا، سلیقے سے کھانا پینا۔ باتیں کرتی تو ایسامعلوم ہوتا کہ منہ سے پھول جھڑتے ہیں۔ لیکن جمیلہ کو چونکہ شوکت سے خاص دلچسپی تھی۔ شوکت کی خدمت کے سوا اسے کوئی دوسرا کام اچھا نہیں لگتا تھا۔ اس کے کمرہ کو صاف کرتی۔ اس کی میز کو جھاڑتی، کپڑے پہناتی، جوتوں پر پالش پھیرتی۔ وہ کھانا کھاتا تو یہ مکھیاں اڑاتی۔ کتابیں درست کرکے رکھتی۔ صبح سے لے کر رات کو سونے تک اس کا یہی مشغلہ تھا۔ شوکت کو لکھتے پڑھتے دیکھ کر جمیلہ کو پڑھنے لکھنے کا شوق بھی ہوگیا۔ اس نے پڑھنا شروع کیا۔ جتنا وقت بچتا سبق لینے اور یاد کرنے میں صرف کرتی۔

شوکت کے والد کسی تجارتی کوٹھی کے منیجر تھے۔ شاید کوئی تہوار تھا۔ کوٹھی میں چھٹی تھی۔ اتفاق سے ان کے کوئی رشتہ دار ملنے آئے۔ جمیلہ صحن میں بیٹھی کتاب پڑھ رہی تھی۔ انہوں نے جمیلہ کی طرف اشارہ کر کے شوکت کے والد سے پوچھا ’’یہ کون ہے؟‘‘

شوکت کے والد: کسی فقیرنی کی لڑکی ہے۔ شوکت کہیں سے پکڑ لایا تھا۔۔۔۔

رشتہ دار: صورت سے تو کسی بھلے مانس کی لڑکی معلوم ہوتی ہے۔

شوکت کے والد: بھلے مانس کی ہوتی تو یوں ٹکڑ گداؤں کے ساتھ پھرتی۔

رشتے دار: خدا کسی پر برا وقت نہ ڈالے۔ یہ شریف گردی کا زمانہ ہے۔

شوکت کے والد: کیسا ہی زمانہ ہو، شریفوں کی اولاد ذلیل کام کبھی نہیں کرتی۔

رشتے دار: جناب آپ کیا کہتے ہیں۔ مصیبت سب کچھ کرا دیتی ہے۔

شوکت کے والد: باتیں تو واقعی اس کی ایسی ہی ہیں۔

رشتے دار: دیکھئے نا کس ٹھسے سے بیٹھی ہوئی کتاب پڑھ رہی ہے۔

شوکت کے والد: جی ہاں۔ وقت کی خوبی ہے۔ شریفوں کے بچے پڑھنے سے بھاگتے ہیں اور چھوٹی قوموں کا یہ حال ہے۔ مجھے اب اس کی حرکتوں سے ڈر لگنے لگا ہے۔ شوکت جوان ہو چلا ہے۔ موقع دیکھ رہاہوں۔ اس کا گھر میں رہنا مناسب نہیں۔

یہ گفتگو بہت آہستہ ہو رہی تھی لیکن فقیرنی کا نام سنتے ہی جمیلہ چوکنی ہو گئی۔ ا س نے ساری باتیں سن لیں۔ ایک ایک لفظ تیر کی طرح اس کے کلیجے میں اتر گیا۔اس نے بڑی حسرت سے شوکت کے والد کی طرف دیکھا۔ آنکھیں ڈبڈبا آئیں۔ ٹھنڈا سانس بھرا اور چپ ہو گئی۔ سارا دن گزر گیا۔ نہ اس نے روٹی کھائی نہ شوکت سے ہنسی بولی۔ پوچھنے والا کون تھا۔ شوکت یا شوکت کی ماں۔ کھانے کو کہا تو جی متلانے کا بہانہ کردیا۔ چپ چپ رہنے کا سبب دریافت کیا تو ہوں ہاں کر دی۔ رات آئی۔ مایوسیوں نے ہر طرف سے ہجوم کیا۔ دل کا چراغ بچھ چکا تھا۔ دنیا اندھیر ہو گئی۔ وہ سوچنے لگی۔ آخر میں کون ہوں۔ شریف اور رذیل میں کیا فرق ہوتا ہے۔ شوکت کے والد کہتے ہیں اگر میں شریف کی جائی ہوتی تو بھیک نہ مانگتی پھرتی۔ شریف کو کوئی اپنے دامن میں نہ چھپائے۔ اس کو شریف بننے کا موقع نہ دے۔ اس کی بھوک پیاس میں مدد نہ کرے تو وہ بھیک مانگ کر بھی پیٹ نہ بھرے۔ یونہی مرجائے۔ کیوں؟ اس کی جان نہیں۔ لیکن میرا دل کہتا ہے کہ میں شریف ہوں۔ میرے ماں باپ شریف تھے۔ میں نے انہیں نہیں دیکھا نہ سہی۔ ان کی شرافت کا اثرمجھ میں موجود ہے۔ میں نے بڑی بھول کی کہ شوکت کی باتوں میں آگئی۔ کیا کرتی۔ اس نے مجھے موہ لیا تھا۔ خیر۔ اب میں دکھادوں گی۔ مجھے ثابت کرنا ہوگا۔ شریف کے والد صاحب! جمیلہ بھکارن اور بھکاریوں کی اولادنہیں۔ شریف اور شریف زادی ہے۔

دل سے یہ باتیں کرتے کرتے ایک دفعہ ہی وہ کھڑی ہوئی۔ ’’اسی لیے وہ مجھے ذلیل سمجھتے ہیں کہ میں دوسروں کا دیا ہوا ٹکڑا کھاتی تھی اور اب ان کی روٹیوں پر پڑی ہوں۔ بس پھر اس میں میرا کیا قصور۔ کمزور لاوارث چھوٹی سی لڑکی تھی۔ ہاں اب بھی اگر میں پرایا ہاتھ تکوں، دوسروں کی کمائی پر زندہ رہوں تو ضرور رذیل۔ میں ہی نہیں بلکہ میری سات پشت ذلیل‘‘۔ منہ ہی منہ میں کہتی ہوئی اپنی کوٹھڑی سے نکلی۔ شوکت کے کمرے کی طرف دیکھا۔ آنسوؤں سے اپنے من کے دیوتا پر دورہی سے جل چڑھایا اور دبے پاؤں دروازہ کی کنڈی کھول گلی میں آگئی۔ رستوں سے انجان نہ تھی۔ باغ کی دیوار کی کھڑکی سے ہو کر آنریری مجسٹریٹوں کی کچہر ی کے پاس ایک درخت کی چھاؤں میں باقی رات گزار دی۔

شوکت نے ساری رات رنگ برنگ کے پریشان خواب دیکھے۔ اس نے دیکھا کہ جمیلہ کو ابا نے ماراہے اوروہ رو رہی ہے۔ اتنے میں کسی نے اسے آواز دی اور وہ مینا بن کر اڑ گئی۔ برسوں اس کی خبر نہیں ملی۔ پھر یکایک وہو اما ں جان کے پلنگ پر آبیٹھی۔ میں پکڑنے کو دوڑا۔ وہ ہاتھ آگئی۔ پنجرے کی تیلیاں ٹوٹی ہوتی تھیں۔ میں نے جوڑیں۔ وہ ہنسی۔ سارا گھر ہنسنے لگا۔ آنکھ کھل گئی۔ صبح ہو چکی تھی۔ جمیلہ کی کوٹھڑی کے کواڑ بند تھے۔ طبیعت اچھی نہیں۔ شاید سورہی ہو۔ آہستہ سے آواز دی۔ جواب نہ ملا تو جھریوں سے جھانک کر دیکھا۔ اندھیری کوٹھڑی میں کیا سوجھتا۔ کواڑوں کو دھکا دیا۔ کھل گئے۔ پلنگ خالی تھا۔ کہاں گئی؟ کچھ سمجھ میں نہیں آیا۔ چاروں طرف دیکھ رہا تھا کہ تکیہ کے اوپر کھلا ہوا ایک کاغذ دکھائی دیا۔ اٹھایا تو جمیلہ کی تحریر تھی۔ پڑھا ٹوٹے پھوٹے حرفوں میں لکھا تھا ’’شوکت! یہ نہ سمجھنا کہ تمہاری جمیلہ بھاگ گئی۔ وہ بھاگی نہیں۔ اپنی شرافت کا ثبوت دینے جارہی ہے۔ لوگ ہر محتاج کو ذلیل سمجھ لیتے ہیں۔ اللہ میں سب قدرت ہے۔ اگر جیتی رہی تو تمہارے پاس پھر آجاؤں گی۔ تمہیں رنج تو بہت ہوگا مگر میری بھلائی کے لیے صبر کرنا‘‘۔

گھر میں جمیلہ کے غائب ہونے پر کیا باتیں بنیں۔ محلے والوں نے کس قسم کی افواہیں اڑائیں اور شوکت کے دل پر کیا گزری۔ نہ ماں باپ کے خیالات پر اس کا کچھ اختیار تھا نہ غیروں کی زبان پر اختیار۔ سنتا تھا اور اونکھا ہو کر رہ جاتا تھا۔ آخر کب تک؟ ہفتے دوہفتے یہ چرچا ہو کر رہ گیا۔ سب اپنی اپنی جگہ خاموش ہو گئے۔ شوکت کی بے چینی میں بھی کمی آچلی۔ عمر کی خامی، تعلیم اور دوسرے مشاغل نے جمیلہ کو ذرا دور کر دیا۔ اس کی تصویر کسی قدر دھندلی ہو گئی۔ مدرسے جاتا۔ جمیلہ یاد آتی۔ کالج میں داخل ہوا تو بھی پل درمیان تھا۔ ہر فقیرنی پر جمیلہ کا شبہ ہوتا۔ لیکن صرف اس قدر کہ ٹھنڈا سانس لیا اور گزر گیا۔ اسی طرح کئی سال امتحان کی خوشخبریاں لائے۔ مٹھائیاں بٹیں۔ مبارکبادیں سنیں۔ نہ سنی تو جمیلہ کی آواز۔

رفتہ رفتہ شوکت جوان ہوا۔ ایم ۔اے، ایل ایل بی کیا۔ منصفی کاامتحان دیا اور خدا کی قدرت کہ اپنے شہر میں جج بن کر کرسی پر بیٹھا۔ پہلے تو تعلیم کے شغل میں دماغ کو زیادہ فرصت نہ تھی کہ جمیلہ کے تصورات کو اجاگر کرتا۔ اب جو زندگی نے عملی صورت اختیار کی شباب کے ولولے پیدا ہوئے تو محبت کی دبی ہوئی آگ از سرنو بھڑک اٹھی۔ جمیلہ کی تصویر آنکھوں کے سامنے رہنے لگی۔ ماں باپ کی پہلی تمنا یہ ہوتی ہے کہ بچہ پروان چڑھے۔ پھر شوق ہوتا ہے کہ اس کا سہرا دیکھیں۔ بہو بیاہ کر لائیں۔ چنانچہ شوکت کی شادی کابھی فکر ہوا۔ایسے اچھے برسرروزگار ، نک سک سے درست لڑکے کی بات کون پھیرتا۔ بیسیوں خوبصورت سے خوبصورت لڑکیاں تھیں۔ لیکن شوکت کے سامنے جب کبھی ذکر آتا وہ ٹال دیتا اور ماں باپ منہ دیکھتے رہ جاتے۔ اس کا دل ڈانواڈول تھا۔ اس کے پاس جمیلہ کی تحریر موجود تھی۔ اس کو یقین تھا کہ جمیلہ دھن کی پکی ہے۔ اس کی روپوشی کوئی معنی ضرور رکھتی ہے۔ وہ آئے گی ۔ مجھے بھی اس کا انتظار کرنا چاہیے۔

زمانہ اپنے پروں پر اڑتا چلا جاتا تھا۔ سوسائٹی میں شوکت کی ہر دلعزیزی بڑھ رہی تھی۔ شادی سے اسے برابر انکار تھا۔ والدین کو طرح طرح کی بدگمانیاں پیداہو چلی تھیں۔ شوکت جاہ و چشم کا مالک۔ حسین، بظاہر نہایت نیک ، اندھیرے گھر کا چراغ، ماں باپ کا اکلوتا بیٹا۔ باپ تو خیر مرد تھا ، شوکت کی شادی سے بے پرواہی نے اسے زیادہ متاثر نہیں کیا۔ لیکن بڑھیا ماں اس صدمے سے بیٹھ گئی۔آخری نسبت جو اس نے اپنے مرحوم بھائی کی لڑکی سے لگائی تھی اور جو اس کے خیال میں شوکت کا پورا جوڑ تھی۔ جب سرسبز ہوتی معلوم نہ ہوئی۔ شوکت نے کوئی توجہ نہ کی تو اس پرغموں کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ بیماررہنے لگی۔ ضعیفی، بیٹے کا جلاپا گھلتے گھلتے ہڈی سے چمڑا لگ گیا۔ ہزاروں علاج بدلے۔ شہر بھر کے بڑے بڑے حکیم ڈاکٹر بلائے مگر مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔ شوکت نے روپیہ ٹھیکری کر دیا۔ کوئی تدبیر اٹھا نہیں رکھی۔ ہر وقت ماں کی پٹی سے لگا بیٹھا رہتا۔ اسے ہاتھ سے دوا پلاتا۔ پاؤں سہلاتا۔ رات دن تیمارداری کی ہر خدمت انجام دیتا۔ پھر بھی افاقہ کی کوئی صورت نہ تھی۔ اطبا مایوس تھے۔

اسی اثناء میں کسی نے شوکت سے کہا کہ ایک لیڈی ڈاکٹر کہیں سے نئی آئی ہے۔ اس کی حذاقت کے شہر بھر میں چرچے ہیں۔ آج تک جس مریض پر ہاتھ ڈالا ناکام نہیں رہی۔ نہایت شریف عورت ہے۔ غریبوں کا علاج مفت کرتی ہے۔ چندہی روز میں اس نے وہ نام پیدا کیا ہے کہ سارے مقامی ڈاکٹر اس سے مشورہ لینے لگے ہیں۔ شوکت یہ سنتے ہیں بے تاب ہو گیا۔ رات کے آٹھ بج چکے تھے۔ مطب کا یہ کیا وقت تھا۔ لیکن ضرورت کے لیے وقت کا کیا لحاظ۔ فوراً موٹر میں بیٹھ ڈاکٹرنی صاحبہ کے مکان کا پتہ لگا وہاں پہنچے۔ دروازے پر لیڈی ڈاکٹرمس جمیلہ کی تختی دیکھی۔ پرانے زخموں میں ٹھیس لگی۔ دربان سے اطلاع کرائی۔ اندر گئے، ایک سروقد، جوانی میں سرشار، نقاپ پوش عورت کو دیکھا۔ مریضہ کو دیکھنے کی درخواست کی وہ فوراً کھڑی ہو گئی۔ موٹر میں بیٹھے اور مکان پہ آئے۔ ڈاکٹرنی صاحبہ نے مریضہ کا معائنہ کیا۔ دوا دی اور صبح پھر آنے کا وعدہ کر کے چلی گئی۔

خدا کی قدرت کہ رات ہی بھر میں شوکت کی والدہ میں زندگی کے آثار پیدا ہوچلے۔ نیند بھی آئی اور کرب و بے چینی میں بھی فرق رہا۔ صبح ابھی سورج نکلا ہی تھا کہ مس جمیلہ کی موٹر دروازے پر آلگی۔ شوکت اپنے کمرہ سے نکل کر استقبال کو چلے۔ مگر وہ ان سے مخاطب نہ ہوئی۔ سیدھی اندر چلی گئی۔ شوکت کیسے ہی سادہ مزاج سہی، شہر میں حاکم تھے۔ رؤسا امراء سب ان کی عزت کرتے تھے۔ ڈاکٹرنی صاحبہ کی یہ بے رخی دیکھ کر ان کے غرور حکومت کو ٹھیس لگی۔ وہ کچھ غصے اور کچھ رنج میں بھرے ہوئے پیچھے پیچھے ماں کے پاس پہنچے۔ ان کی حالت اب بہتر تھی۔ مس جمیلہ نے مریضہ کی نبض دیکھی۔ نسخہ بدلا اور یہ کہہ کر کہ ’’دوا میرے دوا خانے سے منگائیے گا‘‘ چلنے لگی۔ تو شوکت نے اپنی فیاضی دکھانے یا اس کو مرعوب کرنے کے لیے دووقت کی فیس کے بدلے جو زیادہ سے زیادہ بتیس روپے ہوتے سو روپے کا نوٹ دینا چاہا۔ مس جمیلہ نے نوٹ لینے سے انکار کیا۔ شوکت کو بہت برا معلوم ہوا۔ ان کے ہونٹ ہلتے ہوئے دیکھ کر وہ بولی ’’آپ ناراض نہ ہوں مجھ پر اس گھر کا بہت حق ہے۔ شکر ہے کہ میری دعائیں اللہ نے قبول کیں۔ میرے لیے بڑی دولت آپ کی مہربانیاں ہیں‘‘۔ اور جلدی سے موٹر میں بیٹھ کر رورانہ ہوگئی۔

مسٹر شوکت حیران تھے کہ یہ کس قماش کی عورت ہے۔ نہ اس پر میرے حاکم ہونے کا اثر ہے نہ روپے کا لالچ۔ مغرور البتہ کہہ سکتے ہیں۔ شاید اسے اپنے حسن کا غرور ہو۔ اگر یہ ہوتا تو نقاب پوش نہ رہتی۔ غالباً اس کو اپنے کمال پر ناز ہے لیکن ڈاکٹر اور وکیل کو اتنا اکل کھرا اور بدماغ نہ ہونا چاہیے۔ نہ کسی سے بات چیت نہ مریض کو تسلی تشفی۔ ہوا کی طرح آئی اور چلی۔ میں نے بات کرنی چاہی مجھ سے بھی اینٹھی رہی۔ خیر والدہ کو تو اس نے زندہ کردیا۔ سب جواب دے چکے تھے۔ اس کے اس احسان کا بدلہ تو کسی نہ کسی طرح ہو ہی جائے گا۔ اچھا۔ اس نے یہ کیوں کہا کہ اس گھر کا مجھ پر بہت حق ہے، اور اس کی وہ کیا دعائیں تھیں جو اللہ نے قبول کیں۔ کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔ ہو سکتا ہے کہ اس نے ٹالنے اور ایک جج پر احسان رکھنے کی غرض سے یہ فقرے گھڑے ہوں ورنہ ہمارے گھر کا اس سے کیا تعلق۔ شوکت صاحب انہی خیالات میں غلطاں و پیچاں تھے۔ ملازم نے دوا کی شیشی اور ایک لفافہ لا کر دیا۔

شوکت: اچھا دوا لے آئے، اتنی جلدی۔

ملازم: حضور موٹر میں گیا موٹر میں آیا۔

شوکت: گئے تو ڈاکٹرنی صاحبہ کے ساتھ تھے۔ آئے کس طرح؟

ملازم: ڈاکٹرنی صاحبہ نے کہا کہ دوا کی جلد ضرورت ہے ۔ میری موٹر تمہیں پہنچا آئے گی۔

شوکت: عجیب! اور خط کیسا ہے؟

ملازم: ان ہی نے دیا ہے کہ اپنے صاحب کو دے دینا۔

دوا اندر بھیج کر شوکت نے خط کھولا۔ لکھا تھا ’’جج صاحب ! رات کو بجلی کی روشنی اور آج دن کے اجالے میں آپ کی زیارت ہوئی۔ جی بہت چاہا کہ آپ سے باتیں کروں مگر ہمت نہ ہوئی۔ ایک فقیرنی میں اتنی جرأت کہاں کہ شہر کے جج سے آنکھیں ملا کر گفتگو کر سکے۔ کل سویرے میں پھر آؤں گی۔ (آپ کی جمیلہ)

خط پڑھ کر شوکت کا دل بے قابو ہو گیا۔ دیوانوں کی طرح اچھلنے لگے۔ دوڑے ہوئے گھر میں گئے۔

شوکت: اماں جان! آپ جانتی ہیں یہ ڈاکٹرنی کون ہے؟

والدہ: کوئی عیسائی ویسائی ہوگی۔ مگر میاں میرے حق میں تو غیبی فرشتہ ہوگئی۔

شوکت: اے بی نہیں۔ عیسائی ویسائی کیسی یہ تو جمیلہ ہے۔

والدہ: کون جمیلہ؟

شوکت: وہی جس کو میں پل پر سے لایا تھا۔

والدہ: ہونے ہی کو ہورہی ہے۔ خدا کو دیکھا نہیں عقل سے تو پہچانا ہے۔ وہ بیچاری خدا جانے کہاں اپنی تقدیر کو رو رہی ہوگی۔

شوکت: اللہ کی قسم جمیلہ ہے۔

والدہ: ہاں اس کا نام بھی جمیلہ ہوگا۔

شوکت: وہی جمیلہ جو تمہارے ہاں رہتی تھی اور اباجان کا طعنہ سن کر چلی گئی تھی۔

والدہ: سچ! تم نے کیوں کر جانا۔ وہ تو۔۔۔

شوکت: ابھی ابھی دوا کے ساتھ اس نے ایک خط بھی بھیجا ہے۔

والدہ: جب ہی اس نے ہم سے فیس نہیں لی۔بڑی گن ماننے والی شریف لڑکی معلوم ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔ اصل سے دغا نہیں کم اصل سے وفا نہیں۔ لیکن بیٹا مجھے ابھی یقین نہیں آتا۔

صبح کو حسب وعدہ جو مس جمیلہ آئی تو شوکت نے دانستہ اس سے بات نہ کی۔ جب وہ مریضہ کے پاس جا کر کھڑی ہوئی تو چپکے سے اس کی نقاب اتار لی۔ شوکت کے والد بھی موجود تھے۔ فرط ندامت سے ان کی آنکھیں جھک گئیں اور شوکت خوشی کے مارے پھولا نہ سمایا۔ اب جو جمیلہ چلی تو شوکت بھی ساتھ تھے۔ دونوں کی محبت مستقل۔ دونوں کی زندگیاں بنی ہوئی، دونوں کے دامن پاک، دونوں اپنے مختار۔ سرجڑنے میں کیا دیر تھی۔ ایک ہفتہ کے اندر اندرمس جمیلہ مسز شوکت بن گئیں۔ ماں کو تو بیٹے کی دلہن سے غرض تھی۔ ہاں باپ نے بہت سے روایتی عیب نکالے۔ کنبے والوں میں مطعون ہونے کا ڈر دکھایا، بگڑے رہے لیکن وہ جو کہتے ہیں ایک چپ سو کو ہرائے۔ شوکت کی خاموشی اورجمیلہ کی شریف فطرت نے آخر صرف والدین ہی کو نہیں بلکہ سارے کنبے کو اپنا لیا اور آج جیسی پر امن زندگی دونوں کی گزر رہی ہے خدا حوا کے بیٹے بیٹیوں کو نصیب کرے۔

Please follow and like us:

اپنا تبصرہ بھیجیں