5 اپریل کے واقعات ایک نظر میں

Spread the love

Imrooz

واقعات

1242ء ٹیوٹانک نائٹس نے ایک روسی حملے کو روک دیا

1654ء معاہدہ ویسٹ منسٹر پر دستخط کے تحت پہلی برطانوی و ولنگدیزی جنگ ختم ہو گئی۔

1804ء پہلا شہابی پتھر اسکاٹ لینڈ میں گرا

1879ء چلی نے بولیویا اور پیرو کے خلاف جنگ کا اعلان کیا

1893ء نیویارک اسٹارک ایکسچینج کریش کرگئی ،امریکی مالیاتی منڈی کساد بازاری کا شکار

1897ء یونان اور سلطنت عثمانیہ کے درمیان جنگ کا آغاز ہوا

1904ء پہلا رگبی میچ انگلینڈکے سینٹرل پارک میں برطانیہ اور ویلز اور اسکاٹ لینڈکے کھلاڑیوں کے درمیان کھیلا گیا

1930ء ہندوستان میں سول نافرمانی کی مہم میں گاندھی جی نے سمندر پر جا کر نمک بنایا اور اس طرح برطانوی قوانین کی خلاف ورزی کی۔

1948ء پاکستان اور بیلجیئم کے درمیان ہوا بازی کے شعبے میں تعاون کے لیے معاہدہ

1948ء کونسل آف یورپ کے قیام کا باضابطہ اعلان

1952ء پاکستان اور سویت یونین کے درمیان پہلا براہ راست ریڈیو، ٹیلی گرافک رابطہ

1955ء اپنی بگڑتی ہوئی صحت کی وجہ سے ونسٹن چرچل برطانیہ کے وزیر اعظم کے عہدے سے مستعفی ہو گئے۔

1973ء پیئیر میسیمر فرانس کے وزیز اعظم بن گئے۔

1980ء برطانوی اسپیشل ایئر سروسز ایس اے ایس نے ایران میں محصور سفارت خانے کے عملے کی بازیابی کے لیے

1998ء نیہون (جاپان) میں آکاشی کائکیو پل مکمل ہو گیا۔ یہ دنیا کا سب سے لمبا سسپنشن پل ہے۔

آپریشن ختم کر دیا۔

2002ء فرانسیسی صدر یاک شیراک دوسری مدت کے لیے صدرمنتخب ہوئے۔

ولادت

1479ء گرو امر داس، تیسرے سکھ گرو

1818ء معروف جرمن سیاسی فلسفی کارل مارکس پروشیا میں پیدا ہوئے

1906ء ڈاکٹر سید محمد عبد اللہ اورینٹل کالچ، لاہور میں مختلف خدمات انجام دیے جن میں تدریس کے علاوہ صدر لائبریرئین شامل ہیں۔ اس کے علاوہ جامعہ پنجاب کے دائرۃ المعارف الاسلامیہ کے صدرنشین اور مدیر اعلیٰ بھی رہے اور اس منصوبے پر انہوں نے کافی محنت کی تھی۔

ان کے بارے میں مزید معلومات کے لیے یہاں کلک کریں۔

1908ء اسلم خان خٹک، پاکستانی سیاستدان اور بیورکریٹ۔ 5 اپریل 1908ء کو کرک میں پیدا ہوئے۔ والد کا نام محمد قلی خان تھا جو خود بھی صوبہ خیبر پختونخوا کے سیاسی رہنما تھے۔ اسلم خٹک نے اکسفورڈ یونیورسٹی سے ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ اسی زمانے میں چوہدری رحمت علی کے اس مشہور کتابچے اب یا کبھی نہیں کی تدوین میں ان کا ہاتھ بٹایا، جس میں پہلی مرتبہ لفظ پاکستان تجویز کیا گیا۔ اس کے علاوہ رائل سوسائٹی لندن کے فیلو بھی رہے۔ حصول تعلیم کے بعد ریڈیو سٹیشن پشاور کے پہلے ڈائریکٹر مقرر ہوئے۔ بعد ازان محکمہ تعلیم صوبہ سرحد کے ڈائریکٹر مقرر ہوئے۔ ڈائریکٹر صنعت و حرفت کی حیثت سے ریٹائر ہوئے۔ 1957ء تا 1959ء افغانستان اور 1960ء تا 1961ء عراق میں پاکستان کے سفیر رہے۔ 1965ء میں مغربی پاکستان اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 1971ء میں سرحد اسمبلی کے رکن بنے۔ مئی 1972ء تا فروری 1973ء سرحد اسمبلی کے سپیکر رہے اور 1973 تا مئی 1974ء صوبہ سرحد کے گورنر رہے۔ جنرل ضیاالحق کے مارشل لا کے دور میں مجلس شوری کے رکن اور صوبہ سرحد مجلس شوری کے نائب چیرمین نامزد ہوئے۔ 1985ء کی غیر جماعتی الیکشن میں قومی اسمبلی کے رکن بنے۔ محمد خان جونیجو کی کابینہ میں شامل ہوئے۔ نواز شریف کے دور حکومت میں بھی کابینہ میں شامل رہے۔ مواصلات جیسی اہم وزارت ان کے پاس رہی۔ بعد کے الیکشنز میں نواز شریف سے علاحدہ ہو کر آزاد حیثیت سے الیکشن لڑا مگر کامیاب نہ ہو سکے۔ ان کے داماد نوابزادہ محسن علی خان بھی صوبہ سرحدکے وزیر خزانہ رہ چکے ہیں۔ عمرکے آخری حصے میں سیاست سے دستبردار ہو گئے۔ اپنے علاقے کرک کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ انڈس ہائی وے جیسا منصوبہ بھی ان کی وزارت میں شروع ہوا۔ جس نے کرک جیسے پست ماندہ علاقے کی ترقی میں بنیادی کردار ادا کیا۔ اس کے علاوہ پانی اور بجلی کی سہولیات کے نظام کو بھی کرک میں بہتر بنایا گیا۔ متعدد کتابوں کے مصنف رہے۔ اردو پنجابی، پشتو، انگریزی، فرانسیسی اور فارسی بولنے اور لکھنے میں مہارت رکھتے تھے۔ ان کا انتقال دس اکتوبر 2008ء میں ہوا۔

1923ء گوئن وان تھیو، جنوبی ویتنام کے سابق صدر

1929ء ایور گیور ایک امریکی ناروے طبیعیات دان تھے۔ انھوں نے طبیعیات کا نوبل انعام بھی جیتا یہ انعام 1973 میں انھوں نے اپنے ہم وطن سائنسدانوں برائن ڈیوڈ جوزف سن اور لیو اسکائی کے ہمراہ سوپر کنڈکٹیوٹی سوپر کنڈکٹیوٹی اور سیمی کنڈکٹر پر کام کے عوض ملا۔

1931ء احمد خان مدہوش پاکستان سے تعلق رکھنے والے سندھی زبان کے بڑے کہنہ مشق اور مقبول شاعر تھے۔ وہ کئی کتب کے مصنف تھے۔ ان کا شمار سندھی زبان کے بڑے غزل گو شعرا میں ہوتا ہے۔1960ء میں شاعری کی شروعات کی اور مدہوش تخلص اختیار کیا۔ 1993ء میں بطور پرائمری استاد ریٹائرڈ ہوئے۔ مدہوش سندھی ادبی بورڈ جامشورو کے بورڈ آف گورنرز کے رکن رہے۔ شاعری میں اس کے استاد فیض بخشاپوری تھے۔ ان کا انتقال 26 جون، 2010ء

1952ء بھارتی نژاد امریکی سائنسدان ۔ 2009ء میں ان کو کیمیا کا نوبل انعام دینے کا اعلان کیا گیا۔ان کو اسرائیلی خاتون سائنسدان ادا یونوتھ، اور امریکہ کے تھومس سٹیز کے ساتھ اس اعزاز کے لیے متنخب کیا گیا ہے۔ اکٹر راماکرشنن کی سربراہی میں کام کرانے والی سائنسدانوں کی اس ٹیم کو رائبوسومز کے مطالعے پر یہ انعام دیا گیا۔ رائبوسومز انسان کے جسم میں پروٹین بناتا ہے۔تینوں سائنسدانوں نے تھری ڈائمینشنل تصاویر کے ذریعے پوری دنیا کو سمجھایا کہ کس طرح رائبوسومز الگ الگ کمییکل کے ساتھ کام کرتے ہیں۔ ان سائنسدانوں نے سائنس کی دنیا میں بنیادی کردار ادا کیا اور ان کے اس کام کی وجہ سے بہت ساری بیماریوں کا علاج اینٹی بائیٹک دوائیوں کے ذریعے کیا جاسکتا ہے۔ ارت میں پیدا ہوئے راماکرشنن اس وقت برطانیہ کی جامعہ کیمبرج سے منسلک ہیں۔ ستاون سالہ راما کرشنن جامعہ کیمبرج کے ایم آر سی لیباریٹریز آف مالیکولر بائیولوجی کے سٹرکچرل سٹیڈیز سیکشن کے چیف سائنسدان ہیں۔ 2010ء میں اُنہں بھارت کا اعزار پدم بھوشن دیا گیا۔

1982ء ولی خان بابر ایک معروف پاکستانی صحافی تھے۔ ولی خان جیو نیوز کے لیے کام کرتے تھے۔ ایک دن ولی خان کراچی کے علاقے لیاقت آباد میں جار رہے تھے کہ اچانک صولت مرزا اور فیصل موٹا نامی اشخاص نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔ 10 مارچ 2015 کو انسداد دہشت گردی عدالت نے ولی خان کے قاتل صولت مرزا کو پھانسی کا حکم سنادیا۔ صولت مزرا ایک ٹارگٹ کلر تھا جس کا تعلق متحدہ قومی موومنٹ سے تھا۔

4 اپریل کے واقعات پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

وفات

902ء المعتضد باللہ، خلافت عباسیہ کا سولہواں خلیفہ تھا جس نے 892ء سے 902ء تک حکومت کی۔

معتضد کے بارے میں مزید معلومات کے لیے یہاں کلک کریں

1679ء چارلز نہم، سویڈن کے بادشاہ

1821ء نپولین بونا پارٹ کی جلاء وطنی کے دوران جزیرہ سینٹ ہیلینا میں وفات۔

1941 پروین اعتصامی ایران کی شاعرہ ہیں ماہر لسانیات علی اکبر دہخدا کے مطابق پروین اعتصامی کا اصل نام ” رخشندہ ” تھا۔ 1926ء میں پروین کو اِیران کے شاہی دربار سے مستقبل کی ملکہ کی اتالیق کے عہدے کی پیشکش کی گئی مگر پروین نے اِنکار کر دیا۔ 1934ء میں پروین کی شادی ہوئی اور وہ کرمان شاہ منتقل ہوگئیں۔ مگر یہ شادی صرف دس ہفتوں تک رہ سکی اور وہ واپس تہران آگئیں۔ 1938ء-1939ء میں وہ کافی مہینے ایک لائبریری ” دانش گاہِ سرائے عالی ” میں ملازمت کرتی رہیں جو اَب تہران کی تربیت معلم یونیورسٹی کہلاتی ہے۔ 1938ء میں پروین کے والد مرزا یوسف اعتصامی آشتیانی کا اِنتقال ہوا جب پروین کی عمر 31 سال تھی۔ پورین سات یا آٹھ سال کی تھیں جب اُن کا شاعری میں ذوق نمایاں ہونے لگا تھا۔ اُن کے والد نے اُن کا یہ ذوق دیکھتے ہوئے حوصلہ افزائی کی۔ 1921ء-1922ء میں اُن کی پہلی ایک شعری نظم ایک رسالہ بہار میں چھپی۔ 1935ء میں پروین کا شعری مجموعوں پر مبنی دِیوان شائع ہوا جس میں 156 نظمیں تھیں۔ اِس دیوان کے لیے ایک تقریظ مشہور فارسی شاعر محمد تقی بہار نے بھی لکھی۔ 1941ء میں پروین کے اِس دِیوان کا دوسرا ایڈیشن اُن کے بھائی مرزا ابو الفتح اعتصامی نے پروین کی وفات کے بعد شائع کیا۔ یہ ایڈیشن سابقہ کے مقابلے میں ضخیم تھا، اِس میں 209 مختلف شعری مرکبات جن میں قصیدہ، غزل، قطع اور رباعیاں شامل تھیں اور کل اشعار کی تعداد 5606 تھی۔
اپنی مختصر سی حیات میں پروین بڑے شعرا کے مدِ مقابل آ گئی تھیں۔ اُن کی شاعری میں فارسی کے کلاسیکی دور کی جھلک واضح دکھائی دیتی ہے۔ اُن کے شعری مجموعوں میں 42 قصیدے اور قطع ایسے ہیں جن کا کوئی عنوان منتخب نہیں کیا گیا۔ یہ قدیم فارسی شعرا سنائی اور ناصر خسرو کی مطابقت رکھتے ہیں۔ بعض دوسرے قصیدے فطرت، حالات زندگی کو نمایاں کرتے ہیں۔ پروین کے دِیوان میں کچھ غزلیں عشیقہ زندگی کے متعلق بھی ہیں جو اُن کے رومان پسند ہونے کی نشان دہی کرتی ہیں۔ پروین کے دِیوان میں مناظرے کی شاعری زیادہ مفصل انداز میں پائی جاتی ہے۔ مناظرے کے انداز میں کل 65 نظمیں موجود ہیں۔ پروین اعتصامی کا اِنتقال 34 سال کی عمر میں بروز ہفتہ 8 ربیع الاول 1360ھ مطابق 5 اپریل 1941ء کو شہر قم، ایران میں ہوا۔ پروین کو قم میں اُن کے والد کے قریب دفن کیا گیا۔

1967ء ہرمن جوزف میولر ایک امریکی ماہر جینیات اور معلم تھے جنھوں نے 1946 کا نوبل انعام وصول کیا تھا انھوں نے تابکاری کے اثرات کے متعلق تحقیق کی تھی۔ وہ 21 دسمبر 1890ء کو پیدا ہوئے۔

1975ء – چانگ کائی شیک، کوو من تانگ کے سربراہ

2011ء باروچ سیمیول بلوم برگایک امریکی جینیٹکس اور فعلیات دان تھے جنھوں نے 1976ء کا نوبل انعام حاصل کیا تھا۔

Please follow and like us:

اپنا تبصرہ بھیجیں