23 اپریل کے واقعات ایک نظر میں

Spread the love

واقعات

1014ء جنگ کلانٹارف میں برائن بورو کی فوج نے وائکنگز کو ہرا دیا۔

1533ء چرچ آف انگلینڈ نے کیتھرین آف آراگون اور شاہ ہنری ہشتم کی شادی کالعدم قرار دے دی

1660ء پولینڈ کا پرچمپولینڈ اور سویڈن کا پرچمسویڈن کے درمیان معاہدہ اولیوا۔

1661ء چارلز دوم برطانیہ کے بادشاہ بن گئے۔

1948ء عرب اسرائیل جنگ فلسطین نے حیفہ شہر پر قبضہ کر لیا

1968ء سلطنت متحدہ برطانیہ میں نئے اعشاری سکوں کا نفاذ

1984ء ایڈز کا باعث بننے والا مہلک ایچ آئی وی وائرس دریافت ہوا

1990ء جہانگیر خان نے مسلسل نویں مرتبہ برٹش اوپن اسکوائش چیمپن شپ جیتی

1990ء نمیبیا اقوام متحدہ کا 160 واں اور دولت مشترکہ کا 50 واں رکن بن گیا۔

1993ء اقوام متحدہ کی ذیر نگرانی رائے شماری میں ارٹریئنوں نے حبشہ سے آزادی کا اظہار کیا۔

2005ء یوٹیوب پر پہلی ویڈیو آپ لوڈ کی گئی

2006ء القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن نے عیسائیوں کے خلاف جہاد کا اعلان کیا

2007ء امریکی خلائی ایجنسی ناسا نے اسٹیریو اسپیس کرافٹ سے حاصل شدہ سورج کی پہلی تھری ڈی تصاویر جاری کیں

ولادت

1185ء الفونسو دوم، پرتگال کے بادشاہ

1564ء – ولیم شیکسپیئر، برطانوی ادیب

1676ء – فریڈرک اول، سویڈن کا بادشاہ

1823ء سلطنت عثمانیہ کے 31 ویں سلطان تھے جنہوں نے 2 جولائی 1839ء کو اپنے والد محمود ثانی کی جگہ تخت سلطانی سنبھالا۔ ان کا دور حکمرانی قوم پرستوں کی تحریکوں کے آغاز کا زمانہ تھا۔ سلطان نے “عثمانیت” کے فروغ کے ذریعے قوم پرستی کو روکنے کی ناکام کوشش کی حالانکہ انہوں نے نئے قوانین اور اصلاحات کے ذریعے غیر مسلم اور غیر ترک اقوام کو عثمانی معاشرے میں ضم کرنے کی بھرپور سعی کی۔ انہوں نے مغربی یورپ کی اہم سیاسی قوتوں برطانیہ اور فرانس کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کیے اور انہی اتحادیوں کے ذریعے روس کے خلاف جنگ کریمیا لڑی۔ 30 مارچ 1856ء کو معاہدۂ پیرس کے ذریعے سلطنت عثمانیہ کو یورپی اقوام کا باقاعدہ حصہ قرار دیا گیا۔ عبد المجید کی سب سے بڑی کامیابی تنظیمات کا اعلان اور نفاذ تھا جس کا آغاز ان کے والد محمود ثانی نے کیا تھا۔ اس طرح 1839ء سے ترکی میں جدیدیت کا آغاز ہو گیا۔ ان کا انتقال 25 جون 1861 کو ہوا۔

1867 وہانس فائبگر ڈنمارک کے ایک جراثمیات کے معلم ،سائنس دان اور طبیب تھے جنھوں نے طب و فعلیات کا نوبل انعام 1926 میں جیتا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ انھوں نے ایسے جانوروں کا سراغ لگایا تھا جو خرگوش اور چوہوں میں سرطان کا سبب بنتے ہیں۔ ان کا انتقال 30 جنوری 1928 کو ہوا۔

1858ء نوبل انعام یافتہ جرمن ماہر طبیعیات اور کوانٹم نظریے کے خالق میکس پلانک کی پیدائش

وفات

1014ء برائن بورو، آئرلینڈ کا بادشاہ

1124ء ایلکزینڈر اول، اسکاٹ لینڈ کا بادشاہ

1616ء (جولین کیلنڈر کے مطابق) ولیم شیکسپیئر، برطانوی ادیب

1616ء (جولین کیلنڈر کے مطابق) میگیہ سروینٹیس، ہسپانوی ادیب

1850ء ولیم ورڈزورتھ، انگریزی شاعر

1968ء استاد بڑے غلام علی خان، پٹیالا گھرانے سے تعلق رکھنے والے ہندوستانی کلاسیکی گلوکار تھے۔ اپنے کمال فن کے باعث آپ کو متعدد اعزازات سے نوازا گیا۔

استاد بڑے غلام علی خان کے بارے تفصیل کے لیے یہاں کلک کریں

1991ء عزیز حامد مدنی پاکستان کے معروف شاعر، محقق، نقاد اور ماہرِ لسانیات ہیں۔ وہ 15 جون 1922 کو پیدا ہوئے۔

1998ء امریکی انسانی حقوق کے رہنما مارٹن لوتھر کنگ کا قاتل جیمز ارل رائے عمر قید کے دوران جیل میں انتقال کرگیا

2002ء تاج سعید، پاکستان سے تعلق رکھنے و الے اردو زبان کے ممتاز نقاد، شاعر، صحافی اور مترجم تھے۔

2013ء ملا عمر، ملا محمد عمر افغانستان کی طالبان تحریک کے رہنماء تھے۔ وہ 1996ء سے 2001ء تک افغانستان کے حکمران رہے۔ پھر امریکی و نیٹو افواج نے ان کی حکومت کا خاتمہ کر دیا۔ 2015ء میں ان کے مرنے کی تصدیق ہوئی۔

تعطیلات و تہوار

یونسیکو نے 23 اپریل 1995ء و کتاب کا عالمی دن منانے کا اعلان کیا یہ دن انگریز ڈراما نگار ولیم شیکسپیئر اور ہسپانوی ادیب سروانٹس سے منسوب ہے جن کا انتقال تئیس اپریل سولہ سوسولہ کو ہوا

پاکستان سمیت دنیا بھرمیں قومی حاکمیت کا عالمی دن

پاکستان سمیت دنیا بھر میں انگلش زبان کا عالمی دن

Please follow and like us:

اپنا تبصرہ بھیجیں