17 اپریل کے واقعات ایک نظر میں

Spread the love

واقعات


624 ءمعرکہ بدر لڑا گیا

1492ء ہسپانیہ (اسپین) اور کرسٹوفر کولمبس نے ایشیا کا راستہ ڈھونڈنے کا معاہدہ کر لیا۔

1821ء مانی کا خلافت ِ عثمانیہ کیخلاف جنگ کا اعلان جنگ ِ آزادی یونان پر منتج ہوا

1906ء امریکی شہر سان فرانسسکو میں شدید زلزلہ اور تباہی

1921ء دوسری جمہوریہ پولینڈ نے دستورِ مارچ اختیار کیا

1929ء مقبول کارٹون پوپائے داسیلر مین کا کردار پہلی بارامریکہ کے تھمبل تھیٹر میں اداکیا گیا

1941ء دوسری جنگ عظیم میں ڈوئچ لینڈ (جرمنی) نے یوگوسلاویا کو ہرا دیا

1948ء فرانس،بیلجیئم، نیدر لینڈز، لکسمبرگ اور برطانیہ نے معاہدہ برسلز پر دستخط کیے جس کے تحت آئندہ پچاس برسوں کے دوران پانچوں ممالک دفاعی، معاشی اور معاشرتی شعبوں میں تعاون کریں گے

1951ء چین نے کوریا میں جنگ بندی سے انکار کر دیا

1953ء پاکستانی وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین کی حکومت ملک غلام محمد نے تحلیل کردی۔

1953ء محمد علی بوگرہ تیسرے پاکستانی وزیر اعظم نامزد۔

1959ء چودہویں دلائی لاما تِن زن گیا تسو، تبت سے ہجرت کرکے ہندوستان آ گئے

1961ء امریکہ کا کیوبا پر بے آف پگز حملہ

1966ء چار ہائیڈروجن بموں سے لیس امریکی بمبار طیارہ اسپین میں اپنے ریفیولنگ جہاز سے ٹکرا گیا جس سے زمین پر ریڈیو ایکٹو پلوٹونیم پھیل گیا

1971ء بنگلہ دیش کا قیام عمل میں آیا

1975ء کمبوڈیا میں خمیر روج کی حکومت شروع ہوئی۔

1995ء جاپان میں سات اعشاریہ تین کی شدت کا زلزلہ آیا جس سے چھ ہزار چار سو تینتیس افراد ہلاک ہوئے اور بڑے پیمانے پر مالی نقصان ہوا

1996ء سری لنکا نے آسٹریلیا کو ہرا کر کرکٹ ورلڈ کپ جیت لیا

ولادت

1894ء روسی سربراہ نیکیتا کروشیو

1920ء قوم پرست رہنما اور بنگلہ دیش کے پہلے وزیر اعظم شیخ مجیب الرحمان بنگال کے علاقے گوپال گنج میں پیدا ہوئے

1921 ڈاکٹر آغا افتخار حسین، پاکستان سے تعلق رکھنے و الے نامور محقق، مؤرخ،ناول نگار، ڈراما نویس، سول سرونٹ، مترجم اور قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے وزیٹنگ پروفیسر تھے۔
قوموں کی شکست و زوال کے اسباب کا مطالعہ (تاریخ)، فلسفہ فرہنگ (فلسفہ)، یورپ میں تحقیقی مطالعے (تحقیق)، یورپ میں اردو (تحقیق)، مخطوطات پیرس (تحقیق)، پیرس میں ایک رات (ناول)، بادشاہ کا خون (ناول)، نکتہ چیں ہے غم دل (جارج برناڈشا کے ڈرامے مین اور سپر مین کا ترجمہ)،ان کی تصانیف ہیں۔ حکومت پاکستان کی طرف سے انہیں تمغا قائد اعظم کا اعزاز عطا کیا گیا۔ آغا افتخار حسین 31 مئی، 1984ء کو اسلام آباد، پاکستان میں وفات پا گئے۔ وہ اسلام آباد کے مرکزی قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔

1946ء جارجز جے ایف کوہلرایک جرمن ماہر حیاتیات تھے جنھوں نے 1984ء کا نوبل انعام حاصل کیا تھا۔

1942ء عزیز میاں، پاکستان کے چند مقبول ترین قوالوں میں سے ہیں۔ ان کی پیدائش بھارت کے شہر دہلی میں ہوئی۔ عزیز میاں کا شمار قدرے روایتی قوالوں میں ہوتا تھا۔ ان کی آواز بارعب اور طاقتور تھی۔ لیکن ان کی کامیابی کا راز صرف ان کی آواز نہیں تھی۔ عزیز میاں نہ صرف ایک عظیم قوال تھے بلکہ ایک عظیم فلسفی بھی تھے، جو اکثر اپنے لیے شاعری خود کرتے تھے۔ عزیز میاں نے پنجاب یونیورسٹی، لاہور سے اردو اور عربی میں ایم اے کیا ہوا تھا۔ ان کا اصل نام عبد ا لعزیز تھا۔ “میاں” ان کا تکیہ کلام تھا، جو وہ اکثر اپنی قوالیوں میں بھی استعمال کرتے تھے، جو بعد میں ان کے نام کا حصہ بن گیا۔ انہوں نے اپنے فنی دور کا آغاز “عزیز میاں میرٹھی” کی حیثیت سے کیا۔ میرٹھی کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ قیام پاکستان کے بعد عزیز میاں نے بھارت کے شہر میرٹھ سے اپنے وطن کی طرف ہجرت کی تھی۔ انہیں اپنے ابتدائی دور میں “فوجی قوال” کا لقب ملا کیونکہ ان کی شروع کی سٹیج کی بیشتر قوالیاں فوجی بیرکوں میں فوجی جوانوں کے لیے تھیں۔ مختلف قسم کے معمولی الزامات پر انہیں کئی دفعہ گرفتار کیا گیا لیکن بعد ازاں بری کر دیا گیا۔ عزیز میاں کی قوالیوں میں زیادہ توجہ کورس گائیکی پر دی جاتی تھی جس کا مقصد قوالی کے بنیادی نکتہ پر زور دینا تھا۔ عزیز میاں کو شاعری پڑھنے میں کچھ ایسی مہارت حاصل تھی جو سامعین پر گہرا اثر چھوڑ جاتی تھی۔ ان کی بیشتر قوالیاں دینی رنگ لیے ہوئے تھیں گو کہ انہوں نے رومانی رنگ میں بھی کامیابی حاصل کی تھی۔ عزیز میاں کی مقبول ترین قوالیاں “میں شرابی میں شرابی” (یا “تیری صورت”) اور “اللہ ہی جانے کون بشر ہے” شامل ہیں۔ یہ معروف قوال 6 دسمبر 2000 کو انتقال کر گئے۔

1959ء مجید مجیدی ایران سے تعلق رکھنے والے فلم ساز ہیں جنہوں نے عالمی معیار کی فلمیں بنائی ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے مسلمانوں کے پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی زندگی پر محمد نامی فلم بنائی ہے۔ 1992ء میں اُن کی پہلی فلم ٰ بابکٰ منظرِ عام پر آئی جس کا سکرپٹ بھی انھوں نے خود لکھا تھا۔ 1997ء میں اُن کی فلم ٰ بچّہ ہائے آسمانٰ نے ساری دُنیا میں دھُوم مچادی۔ یہ عالمی سطح پر تمام بڑے بڑے فلمی میلوں میں دکھائی گئی اور بہترین غیر ملکی فلم کے طور پر آسکر ایوارڈ کے لیے نامزد ہوئی۔

اس کے دو برس بعد اُن کا ایک اور شہکار سامنے آیا یعنی: رنگِ خدا۔ یہ فلم ایک نابینا بچّے کے بارے میں تھی جس کا باپ اسے ایک بوجھ سمجھتے ہوئے خود سے دور رکھنا چاہتا ہے، لیکن بچّہ بینائی سے محروم ہونے کے باوجود ایک عام انسان کی زندگی گزارنا چاہتا ہے اور دِن رات کی جد و جہد کے بعد بالآخر اس میں کامیاب بھی ہوجاتا ہے۔ اس سے پہلے بننے والی فلم بچّہ ہائے آسمان بھی بچّوں ہی کے بارے میں تھی اور ایک انتہائی غریب گھر کا نقشہ پیش کرتی تھی جس میں دو بچّے ہیں لیکن اُن کے پہننے کے لِئے صرف ایک جوڑا جُوتیوں کا ہے۔ نئے جوتے حاصل کرنے کے لِئے بچّہ کیا کیا پاپڑ بیلتا ہے، فلم اسی بھاگ دوڑ کی کہانی ہے۔

1959ء وسنتاکماری بھارت کی ریاست تمل ناڈو کے شہر چینائی میں ایک بس ڈرائیور ہیں اور ان کا یہ کام ہی ان کی شہرت کا سبب ہے۔ واضح رہے کہ وسنتا کماری اشیاء کی پہلی خاتون بس ڈرائیور ہیں۔ وسنتاکماری کو ان کے عزم وحوصلہ اور عمدہ خدمات کی وجہ سے 2016ء میں رین ڈراپس وومن اچیور ایوارڈ (Raindropss Women Achiever Award) سے نوازا گیا ہے۔

وفات

1826ء نواب صادق محمد خان دوم ریاست بہاولپور کے پانچویں نواب تھے۔ آپ نواب بہاول خان دوم کے دوسرے بیٹے تھے۔ آپ نے تقریباً سولہ سترہ سال حکومت کی۔

تفصیلی مضمون کے لیے یہاں کلک کریں

1942ء جین باپٹسٹ پیرین فرانس کے کے ایک طبیعیات دان تھے، جنھیں ان کے کام پر 1926ء کو انھیں نوبل انعام برائے طبیعیات دیا گیا۔ وہ 30 ستمبر 1870 میں پیدا ہوئے۔

1944ء راجر والکاٹ سپیری ایک امریکی ماہر عصبیاتی فعلیات اور عصبیاتی حیاتیات دان تھے جنھوں نے 1981ء کا نوبل انعام حاصل کیا تھا۔ وہ 20 اگست 1913 کو پیدا ہوئے۔

2006ء – فاضل حسین علوی، 10 اکتوبر، 1953ء کو گڑھ مہاراجہ ضلع جھنگ میں پیدا ہوئے۔ اخباری اہل تشیع کے ایک بڑے عالم دین اور مناظر تھے۔ مبلغِ اعظم مولانا مُحمد اسماعیل دیوبندی کے شاگرد تھے۔17 اپریل، 2006ء بروز منگل فیصل آباد میں ان کا قتل ہوا تھا۔ اُن کے شاگردوں میں سید علی حسنین نقوی، بشیر حُسین سالک، آغا ثقلین موسوی، ضیغم عباس ملہی شامل ہیں۔ علامہ محمد فاضل علوی دوپہر کو قائم سائیں کے مزار پر اپنے کسی دوست سے ملنے کے بعد اپنی گاڑی میں بڑی امام بارگاہ حسین پورہ کی طرف لوٹ رہے تھے۔ ان کی گاڑی جب یونیورسٹی روڈ پر پہنچی تو مسلح موٹر سائیکل سواروں نے چلتی کار پر فائرنگ کر دی۔

2014ء گیبریل گارشیا مارکیز 6 مارچ 1927ء کولمبیا، میں پیدا ہوئے۔ لاطینی امریکہ کے ناول نگار، صحافی اور مصنف تھے۔ گیبریئل مارکیز ہسپانوی زبان کے بہترین مصنفوں میں سے ایک تھے اور ان کا ناول ’ون ہنڈرڈ یئرز آف سولیچیوڈ‘ (تنہائی کے سو سال) دنیا بھر میں بہت معروف ہے۔ 1967ء میں شائع ہونے والے اس ناول کی تین کروڑ جلدیں فروخت ہو چکی ہیں۔ مارکیز کو 1982ء میں ادب کا نوبل انعام دیا گیا۔

گیبرئیل گارسیا مارکیز کا شہرہ آفاق افسانہ کاغذی پھول پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

تعطیلات و تہوار

پاکستان سمیت دنیا بھر میں امراض خون سے متعلقہ بیماری ہیموفیلیا سے آگاہی کا عالمی دن

Please follow and like us:

اپنا تبصرہ بھیجیں