یمن جنگ میں بھی امریکہ نے ہاتھ کھڑے کر دیئے

Spread the love

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکا کے ایوانِ نمائندگان نے یمن میں جاری جنگ میں امریکا کا کردار ختم

کرنے کی قرارداد منظور کر لی ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکہ کے ایوانِ نمائندگان نے یمن

میں جاری جنگ میں امریکہ کا کردار ختم کرنے کی قرارداد منظور کر لی،ایوانِ نمائندگان نے قرارداد

175کے مقابلے میں247ووٹوں سے منظور کی۔ ڈیموکریٹس کی اکثریت والے ایوان میں 16ری پبلکن ارکان

نے بھی قرارداد کے حق میں ووٹ دیا۔اس سے قبل امریکی سینیٹ بھی گزشتہ ماہ اس قرارداد کی منظوری دے

چکی ہے۔ مذکورہ قرارداد 1973 کے’’وار پاور ایکٹ‘‘ کے تحت پیش کی گئی تھی جس کے ذریعے امریکی

صدر کو پابند کیا گیا کہ وہ بیرونِ ملک کسی تنازع میں امریکی فوج کو کانگریس کی اجازت کے بغیر استعمال

نہیں کرے گا۔امریکا کی سیاسی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے جب کانگریس نے اس قانون کا استعمال کیا ہے لیکن

وائٹ ہائوس کہہ چکا ہے کہ صدر ٹرمپ اس قرارداد کو ویٹو کر دیں گے کیوں کہ اس سے امریکا اور سعودی

عرب کے تعلقات خراب ہو سکتے ہیں۔قرارداد کے مخالف ری پبلکن ارکان کا موقف ہے کہ یمن کی جنگ پر

‘وار پاور ایکٹ’ کا اطلاق نہیں ہوتا کیوں کہ وہاں امریکی فوج براہِ راست سرگرم نہیں بلکہ اس کا کردار

سعودی عرب اور اس کے ا تحادی ملکوں کو انٹیلیجنس اور اسی نوعیت کا تعاون فراہم کرنے تک محدود

ہے،لیکن ڈیموکریٹس اور جنگ کے مخالف ری پبلکن ارکان کا کہنا ہے کہ قوی امکان ہے کہ سعودی عرب اور

ان کے اتحادی یمن میں امریکا کے تیار کردہ میزائل اور اسلحہ استعمال کر رہے ہیں جو ان کے بقول عام

شہریوں کی جانیں لینے کا سبب بن رہا ہے۔

Please follow and like us:

اپنا تبصرہ بھیجیں