کوئٹہ ،ہزار گنجی دھماکہ، ہزارہ برادری کا دھرنا تیسرے روز بھی جاری رہا

Spread the love

دھرنے میں خواتین اور بچوں کی بھی بڑی تعداد موجود، مغربی بائی پاس بند،ٹریفک روانی متاثر

پولیس اور ایف سی اہلکاروں کی بڑی تعداد کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے نمٹنے کیلئے موجود رہی

کوئٹہ (سٹاف رپورٹر)بلوچستان کے علاقہ ہزار گنجی میں خودکش دھماکہ کے خلاف ہزارہ قبیلے کا تیسرے

روز بھی دھرنا جاری رہا۔ہزار گنجی واقعہ کے خلاف مظاہرین نے کوئٹہ کے مغربی بائی پاس پر گذشتہ تین

روز سے دھرنا دے رکھا ہے۔ دھرنے میں خواتین اور بچوں کی بھی بڑی تعداد موجود ہے۔پولیس اور ایف سی

اہلکاروں کی بڑی تعداد بھی کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے نمٹنے کے لیے موجود ہے جبکہ دھرنے کی وجہ

سے کوئٹہ کا مغربی بائی پاس بند ہے جس سے ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے۔ بلوچستان میں دو مختلف

مقامات پر دھماکے ہوئے تھے،بلوچستان کے علاقہ ہزار گنجی میں خودکش دھماکے سے 20 افراد جاں بحق

اور48 زخمی ہوئے جبکہ چمن دھماکہ میں 1 نوجوان جاں بحق اور 2 ایف سی اہلکاروں سمیت 15 افراد

زخمی ہوئے تھے۔وزیرداخلہ بلوچستان نے کہا تھا کہ دھماکے میں ہر کمیونٹی کے افراد متاثر ہوئے، کسی

مخصوص کمیونٹی کو نشانہ نہیں بنایا گیا، دھماکے میں سب سے زیادہ ہزارہ کمیونٹی کے افراد متاثر ہوئے۔

وزیر داخلہ نے پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ دھماکہ خودکش تھا جب کہ اس سے قبل ڈی آئی جی کوئٹہ پولیس

عبد الرزاق چیمہ نے میڈیا کو بتایا کہ دھماکہ آلو کے گودام میں دھماکہ خیز مواد پھٹنے سے ہوا تھا۔واضح رہے

کہ فروٹ منڈی کوئٹہ سے 20 کلو میٹر کے فاصلے پر ہے جہاں سندھ اور پنجاب سے فروخت کے لیے مال

لایا جاتا ہے۔ دھماکہ اس وقت ہوا جب لوگوں کی بڑی تعداد خرید و فروخت کے لیے منڈی میں موجود تھی۔ہزار

گنجی دھماکے کا مقدمہ محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی)تھانے میں نامعلوم افراد کے خلاف ایس ایچ او

شالکوٹ کی مدعیت میں درج کیا گیا۔ مقدمہ کی دفعات مِں قتل، اقدام قتل، انسداد دہشت گردی اور ایکسپلوزو

ایکٹ شامل کی گئیں

Please follow and like us:

اپنا تبصرہ بھیجیں