پنجاب,بلوچستان میں شدید آندھی ،بارشیں ،14افراد جاں بحق،

Spread the love

بلوچستان میں بارشوں کے باعث حب، دکی اور نوشکی میں ٹریفک حادثات اور مکانات گرنے سے بچے سمیت

6 افراد جاں بحق اور 29 زخمی ہوگئے۔دریائے ناڑی،دریائے بولان اور دریائے لہڑی میں نچلے درجے کے

سیلابی ریلے گزر رہے ہیں ۔محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران جیوانی میں 90، تربت

39، گوادر 32، پسنی 19، بارکھان اور کوئٹہ 17 جبکہ سبی میں 9 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی جا چکی ہے۔

بارشوں کے باعث اندرون بلوچستان ندی نالوں میں طغیانی آگئی، دریائے بولان میں اونچے درجے کا سیلاب ہے۔

کوئٹہ کے علاقے تارو چوک پر سڑک کا بلیک ٹاپ پانی میں بہہ گیا جبکہ ٹرانسپورٹروں کو مشکلات کا سامنا

ہے، سیوریج لائنیں ابل پڑیں، گندہ پانی سڑکوں پر آنے سے شہریوں کی پریشانی بڑھ گئی شدید بارشوں کے

باعث کوئٹہ میں بجلی کے کئی فیڈر بھی ٹرپ کر گئے اور کئی علاقوں میں 8سے 10گھنٹوں سے بجلی کی

فراہمی معطل ہے جس سے شہریوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے

کراچی کے مختلف علاقوں میں تیز گرد آلود ہوا ﺅ ں کے باعث مختلف واقعات میں 3افرادجاں بحق جبکہ سکول

کی چھت گرنے اور مختلف واقعات میں 5طالبعلموں سمیت 20افراد زخمی ہوگئے، فضا میں دھول مٹی کی مقدار

معمول سے کئی گنا بڑھ گئی ہے اور حد نگاہ کم ہوگئی ، کئی علاقوں میں بجلی کی تاریں ٹوٹنے سے بجلی کی

فراہمی متاثر ہو گئی ۔سمندر میں چلنے والی طوفانی ہواﺅںکی وجہ سے 2کشتیاں ڈوب گئیں،3ماہی گیروں کو بچا

لیا گیا جبکہ 12ماہی گیر تاحال لا پتہ ہیں جن کی تلاش کا کام جاری ہے۔تفصیلات کے مطابق مغربی ہوا ﺅ ں کا

سسٹم شہر میں (آج) منگل تک موجود رہے گا ۔ تفصیلات کے مطابق شہر قائد میں گزشتہ رات سے تیز ہوا ﺅ ں

کا سلسلہ جاری ہے جس کی وجہ سے بجلی کے تار ٹو ٹنے سے کئی علاقوں میں بجلی غائب ہوگئی جب کہ فون

لائن اور انٹر نیٹ سروس بھی متاثر ہے۔فضا میں دھول مٹی کے باعث حد نگاہ کم ہوگئی جس کے باعث پروازیں

تاخیر کا شکار ہیں۔ریسکیو ذرائع کے مطابق پیپلز چورنگی کے قریب درخت گرنے سے ایک شخص جاں بحق

ہوگیا جب کہ ٹیپو سلطان سگنل کے قریب سکول کی چھت گرنے سے 5طالبعلم زخمی ہوگئے جنہیں ہسپتال منتقل

کردیا گیا۔ریسکیو ذرائع کا کہنا ہے کہ لانڈھی تین نمبر میں گھر کی دیوار کا حصہ گر گیا جس کے بعد 2 افراد

زخمی ہوئے، سرجانی ٹان سیکٹر 7ڈی میں گھر کی چھت کا حصہ گرنے سے دو افراد زخمی ہوئے۔لیاری

چاکیوڑا میں مدرسے کی چھت گر گئی جبکہ تیز جھکڑ سے جامع مسجد فش ہاربر کی عارضی چھت اڑ گئی جس

سے مذن زخمی ہوگیا جسے ہسپتال منتقل کردیا گیا۔ محکمہ موسمیات کا کہنا ہے آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران گرج

چمک کے ساتھ ہلکی بارش کا امکان ہے، زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 34 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا

امکان ہے۔ڈائریکٹر محکمہ موسمیات سردار سرفراز کا کہنا ہے کہ کل رات گرد و غبار کا طوفان توقع سے زیادہ

تھا جس کے دوران ہوائیں 65 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلیں۔سردار سرفراز کا مزید کہنا تھا کہ مغربی

ہوا ﺅ ں کا سسٹم شہر میں موجود ہے جو(آج) شام تک نکل جائے گا تاہم آج بھی ہواں کی رفتار زائد رہے گی۔

سمندر میں چلنے والی طوفانی ہواﺅںکی وجہ سے 2کشتیاں ڈوب گئیں،3ماہی گیروں کو بچا لیا گیا جبکہ 12ماہی

گیر تاحال لا پتہ ہیں جن کی تلاش کا کام جاری ہے۔چیئرمین فشر مینز کو آپریٹو سوسائٹی عبدالبر نے المناک

حادثے پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔تفصیلات کے مطابق اتوار اور پیر کی درمیانی شب سمندر میں چلنے

والی طوفانی ہواﺅں کی وجہ سے ساحلی علاقے گاڑو کے قریب ڈبہ اور چھان کے مقام پر لنگر انداز الجیلانی

چھوٹی کشتی نمبر 17176رات 2بجے کے قریب ڈوب گئی۔کشتی میں سوار 11ماہی گیر لاپتہ ہو گئے۔سمندری

حدود کی نگرانی کے ذمہ دار ادارے لاپتہ ماہی گیروں کو تلاش کر رہے ہیں۔

ل صوبہ پنجاب میں شدید آندھی اور بارش کے باعث 5افراد جاں بحق جبکہ درجنوں افراد زخمی بھی ہوگئے۔

نجی ٹی وی کے مطابق خانیوال میں مختلف علاقوں میں گھروں کی چھتیں گر گئیں جس کے باعث چار افراد جاں

بحق جبکہ 13 افراد زخمی ہوگئے۔ریسکیو 1122 نے ابتدائی طبی امداد کے بعد متاثرہ افراد کو مختلف اسپتالوں

میں منتقل کردیا۔ادھر صوبائی دارالحکومت لاہور میں شدید آندھی کے دوران چھتیں اور دیواریں گرنے کے

نتیجے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ 16 افراد زخمی ہوگئے۔لاہور مےںآندھی کے باعث لےسکو کے

150سے زائد فےڈر ٹرپ کرگئے ، شہر اندھےرے مےں ڈوب گےطوفان سے ریجن بھر کے 110 فیڈرز سے

بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی۔

Please follow and like us:

اپنا تبصرہ بھیجیں