پروین بوبی 4 اپریل 1949 تا 20 جنوری 2005

Spread the love


لاہور (مدثر بھٹی سے) بالی وڈ کی معروف اداکارہ۔ جونا گڑھ میں پیدا ہوئیں۔ پروین احمد آباد یونیورسٹی میں پڑھ رہی تھیں کہ فلم چریتا میں کام کیا لیکن یہ فلم ناکام رہی۔ اسی طرح ان کی دوسری فلم دھویں کی لکیر بھی ناکام رہی۔ لیکن امیتابھ بچن کی ساتھ ان کی اگلی فلم ’مجبور‘ نے انہیں بالی وڈ میں ہیروین کے طور پر بے پناہ شہرت بخش دی۔

75ء میں دیوار کیا ریلیز ہوئی انڈین فلم انڈسٹری کو ایک ایسی ہیروین مل گئی جو نہ صرف دیکھنے میں خوبصورت تھی بلکہ کھلے بالوں اور کم لباسی کے ساتھ ساتھ وہ کردار ادا کرنے کو تیار تھی جو سن ستر کی دوسری ہیروینوں کے لیے بہت ’’بولڈ‘‘ تھے۔ دیوار کے بعد’ امر اکبر انتھونی ان کی ایک اور سپر ہٹ فلم رہی۔ انڈین فلم انڈسٹری پر پروین بابی کے اثرات کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہو سکتا ہے کہ امریکی جریدے ’’ٹائم‘‘ نے اپنے سرورق پر ان کی تصویر شائع کی۔ فلموں سے ریٹائرمنٹ کے بعد تنہائی کی وجہ سے نفسیاتی مریض بن گئیں۔ اور اپنے فلیٹ میں ان کا انتقال ہوا۔ وہ جس فلیٹ میں رہتی تھی اس کی سوسائیٹی کے مینیجر نے جب دیکھا کہ تین دن کے پیپراور دودھ کے پیکٹ اس کے دروازے پر جمع ہیں تو اس نے پولیس کوفون کیا۔ فلیٹ کا دروازہ توڑ کر سڑی ہوئی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیجا گیا۔

وفا اور بیوفائی کی اس داستان میں پروین بوبی وہ ہیروئن تسلیم کی جاتی تھی جسے دنیا کاتمام عیش و آرام و دولت میسر تھاجبکہ موت انتہائی کسمپرسی کی حالت میں ہوئی۔ امر اکبر انتھونی،نمک حلال،کالیا،دیوار،سہاگ،دی برننگ ٹرین،خودار،رضیہ سلطان جیسی سپر ہٹ فلموں کی ہیروئن جس کی تصویر دنیا کی مشہور رسالہ ٹائم میگزین نے اپنے سرورق پر شائع کی تھی ‘سن 70 و80 کے دہائی کی یہ گلیمر گرل،سیکس سنبل اور کروڑوں دلوں کی دھڑکن شمار کی جاتی تھی جو اپنے فلیٹ سے اس حالت میں مردہ پائی گئی کہ شوگر میں مبتلا ہو گئی۔

جسم میں پیدا ہونے والے زخموں گینگرین Gangrene کی وجہ سے اس کے پورے جسم میں کیڑے پڑ چکے تھے۔ اس کی لاش کے قریب وہیل چیئر سے پتہ چلتا تھا کہ اپنی عمرکے آخری ایام میں وہ چلنے پھرنے سے بھی معذور تھی۔ پیٹ پھولاہوا ہونے کے علاوہ جسم سے اٹھنے والے شدیدتعفن کی وجہ سے موقع پر موجود لوگوں کا کمرے میں کھڑا ہونا مشکل ہو رہا تھا۔ تفتیش کہ بعد پتہ چلا کہ90 کی دہائی میں بڑھتی عمر،ناکام معاشقوں اورپست مالی حالت کے سبب پروین بوبی گمنامی کی دنیا میں چلی گئی،کسی کو بھی علم نہیں تھا کہ وہ کہاں گئی اور اس کیساتھ کیا بیتی،فلیٹ سے لاش ملنے کے بعد بھید کھلا کہ معروف اداکارہ یہاں تن تنہا رہتی تھی جبکہ ذیابیطس نے اسے توڑ کر رکھ دیا تھا۔گجرات کے جونا گڑھ کے مسلم کنبہ میں4 اپریل 1949ء کو پیدا ہونے والی انگریزی پوسٹ گریجوٹ خاتون کا عبرتناک انجام ہوا۔ فلیٹ سے اٹھنے والی سڑاند اور بدبو‘ دروازے کے باہر مجتمع اخباروں اور دودھ کے پیکٹوں نے‘ جو روزانہ اس کے گھر آتے تھے‘ پڑوسیوں کو متوجہ کر دیا۔3 دن تک لگنے والے اسی ڈھیر کی وجہ سے انھوں نے پولیس کو اطلاع دی جس کے بعد پروین بوبی کے موت کا راز22 جنوری 2005ء کو فاش ہوا۔ اپنی اداوں سے کروڑوں لوگوں کے دلوں کی ملکہ بننے والی اس طرح مردہ پائی گئی کہ لاوارث جانوربھی شرما جائے۔ کوپر اسپتال Cooper Hospital میں پوسٹ مارٹم کے بعد پتہ چلا کہ وہ 3 دن سے فاقہ کی شکار تھی اور اس کے پیٹ میں دوا کے جز الکحل کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔

Please follow and like us:

اپنا تبصرہ بھیجیں