پاکستان فارما سیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کا 395ادویات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان

Spread the love

کراچی(سٹاف رپورٹر)پاکستان فارما سیوٹیکل مینوفیکچررزایسو سی ایشن نے

حکومت کے دباؤ ، صارفین کی پریشانی کو مد نظر رکھتے ہوئے 395ادویات کی

قیمتوں میں کمی کا اعلان کردیا۔اس کمی کا اطلاق آئندہ 15روز کے دوران

ہوگااور قیمتوں میں کمی کا اطلاق ہارڈشپ کیسز سمیت تمام ادویات پر ہوگا۔یہ بات

پی پی ایم اے کے چیئرمین زاہد سعید نے مقامی ہوٹل میں ایک پریس کانفرنس

سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔زاہد سعید نے کہا کہ 45ہزار ادویات کی قیمتوں میں

صرف 15فیصد جبکہ صرف 105اوویات میں 50فیصد اضافہ کیا گیا ہے مگر

میڈیا میں اس اضافے کو 200فیصد بیان کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پچھلے ڈیڑھ

سال سے ملک معاشی مشکلات کا شکار ہے روپیہ کی قدر میں مسلسل کمی ہو ئی

ہے جو کہ 104سے 143فی ڈالر پہنچ چکی ہے۔اس صورتحال سے خام مال،

پیکنگ میڑیل، گیس، بجلی، سروسز اور بینک مارک اپ(جو کہ 6%سے

12%فیصد ہوچکا ہے)میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہی نہیں بلکہ وہ

مصنوعات اور اجناس جو 100%لوکل اور ملکی پیداوار ہیں افراط زر کی زد میں

آئی ہیں۔میڈیا میں ادویات کی قیمتوں میں 200%اضافے کی سرخیاں لگائی گئیں

جو کہ بہت محدود تعداد میں ہیںیا تو پاکستان میں بنتی نہیں یا ان کے خام مال کی

بین الاقوامی قیمتوں سے کئی گنااضافہ ہواہے۔45000ادویات کی قیمتیں 15%کے

اندر اضافے میں شامل ہیں جو کہ SRO35بمطابق 10جنوری 2019ہے۔

464ادویات کو ہارڈشپ کے تحت اضافہ دیا گیا جو کہ SRO1610بمطابق

31دسمبر2018ہے اس میں صرف 105ایسی ہیں جن میں 50%سے زیادہ اضافہ

کیا گیا ہے۔جن 395ادویات کی قیمتیں SRO1610میں وفاق نے کم کی ہیں ان کو

فارما انڈسڑی تسلیم کرتی ہے اور فوری طور پر اس کمی کو نافذ کیا جارہا ہے یہ

کثرت سے استعمال ہوتی ہیں اور نامور ادویات ہیں۔اس اقدام سے عوام کی ادویات

تک رسائی میں آسانی پیدا ہوگی۔جن 464ادویات کی قیمتوں میں ہارڈشپ کے تحت

اضافہ کیا گیا ہے وہ اس زمرہ میں آتی ہیں جو ناقابل پیداوار تھیں اور انتہائی

ضروری ہیں۔اس کے باوجود وزیر صحت کے انتہائی اصرار و دباؤ اور عوام تک

ادویات کی رسائی کو سہل بنانے کیلئے ان قمیتوں میں رضاکارانہ طور پر کمی

کی جارہی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ان میں موجود نفع ختم ہو جائے گا اور یہ

قیمت لاگت پر فروخت کی جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ یہ فیصلے آج سے نافذ العمل

ہیں اور نئے اسٹاک کی فراہمی 15دن کے عرصے میں مکمل کرلی جائے گی

کیونکہ دوردراز علاقوں تک پہنچنا ایک دشوار طلب کام ہے۔



Please follow and like us:

اپنا تبصرہ بھیجیں