ناکردہ گناہ(افسانہ) ٹالسٹائی

Spread the love

لیو ٹالسٹائی

28 اگست 1828 – 20 نومبر 1910

عرصہ دراز پہلے ولادی میر آکسینوف نامی ایک نوجوان تاجر رہتا تھا۔ وہ دو عدد دکانوں اور ایک مکان کا مالک تھا۔ اس کا رنگ سرخی مائل سفید تھا اور بال گھنگھریالے۔ ہنس مکھ ہونے کے ساتھ ساتھ وہ خوش گلو بھی تھا۔ اوائل جوانی میں وہ حد درجہ عیاش اور بلا نوش تھا مگر جب اس کی شادی ہوگئی تھی اس نے اپنی عادتیں سنوار لیں اور شراب نوشی ترک کردی۔ اب وہ کبھی کبھی ایک آدھ پیگ پی لیتا تھا اور بس۔

ایک دفعہ گرمیوں میں اس نے نثرنی کے عظیم الشان میلے میں جانے کا ارادہ باندھا۔ جب وہ اپنے گھرانے کو خدا حافظ کہنے لگا تو اس کی بیوی نے کہا:

“ایوان دمتریوچ، آج مت جاؤ۔ میں نے ایک خواب دیکھا ہے۔ میں نے دیکھا کہ تم پر کوئی مصیبت نازل ہونے لگی ہے۔”

آکسینوف نے اس کی ہنسی اڑائی اور بولا: “تمہیں یہی دھڑکا لگا رہتا ہے کہ میں شراب نوشی کے مقابلے میں نہ جا بیٹھوں!”

اس کی بیوی نے کہا: “مجھے معلوم نہیں ہے مجھے کس بات سے ڈر لگ رہا ہے، مگر خواب تھا ہی اتنا عجیب۔ میں نے دیکھا کہ تم شہر سے گھر لوٹے ہو، تم نے اپنا ہیٹ اتارا ہے، اور تمہارے سر کے تمام بال سفید ہوچکے ہیں۔”

آکسینوف نے قہقہہ لگایا: “اس کا مطلب تو خوش بختی ہے۔ اچھا اب میں چلتا ہوں۔ واپسی میں تمہارے لیے کچھ قیمتی اور یادگار تحفے لاؤں گا۔”

یوں اس نے اپنے کنبے کو خدا حافظ کہا اور میلے میں شرکت کے لیے روانہ ہوگیا۔

جب وہ آدھا سفر طے کر چکا تو اس کی ملاقات ایک شناسا تاجر سے ہوگئی۔ دونوں نے ایک ہی سرائے میں رات گزارنے کا فیصلہ کیا۔ شام کو انہوں نے اکٹھے چائے پی اور ایک دوسرے سے ملحق کمروں میں سونے کے لیے چلے گئے۔

آکسینوف زیادہ دیر تک سونے کا عادی نہیں تھا۔ آدھی رات کے بعد وہ جاگ اٹھا۔ اس خیال کے ساتھ کہ وہ ٹھنڈے وقت سفر کا ایک اچھا آغاز کرسکتا ہے، اس نے اپنے کوچوان کو جگایا اور اسے بگھی تیار کرنے کا حکم دیا۔ اس کے وہ زیریں حصے میں گیا اور سرائے کے مالک کو اپنا بل ادا کیا۔ اس اثناء میں بگھی تیار ہوگئی۔ اس نے اپنا مختصر اسباب سمیٹا اور منہ اندھیرے وہاں سے روانہ ہوگیا۔

جب اس نے چالیس میل کی مسافت طے کرلی تو اس نے ایک بار پھر کھانے پینے کے لیے ایک جگہ رکنے کا ارادہ کیا۔ کچھ دیر اس نے سرائے میں جاکر آرام کیا اور جب دوپہر ہوگئی تو وہ باہر دروازے کے پاس پہنچا اور سماوار تیار کرنےکا آرڈر دیا۔ اس کے بعد اس نے اپنا گٹار نکالا اور اسے بجانے لگا۔ یکایک ایک سرکاری بگھی سرائے کے دروازے کے سامنے نمودار ہوئی اور اس سے ایک پولیس آفیسر کود کر نیچے اترا۔ اس کے ساتھ دو سپاہی بھی تھے۔ آفیسر سیدھا آکسینوف کے پاس آیا اور بولا:

“تم کون ہو اور کہاں سے آئے ہو؟”

آکسینوف نے بلا جھجک اس کے سوال کا جواب دیا اور پوچھا کہ کیا وہ اس کے ساتھ چائے کا ایک گلاس پینا پسند نہیں کرے گا۔
مگر پولیس آفیسر نے سوالات کا سلسلہ جاری رکھا: “تم نے گذشتہ رات کہاں گزاری تھی؟ تم اکیلے تھے یا تمہارے ساتھ کوئی تاجر بھی تھا؟ کیا تم نے اس صبح اس تاجر سے ملاقات کی؟ آج صبح تم اتنی جلدی اس سرائے سے کیوں روانہ ہوگئے تھے؟”

آکسینوف حیران تھا کہ اس سے ایسے سوالات کیوں کیے جارہے ہیں، مگر اس نے ہر سوال کا بلا جھجک ٹھیک ٹھیک جواب دیا اور پھر اس سے پوچھا:

“تم مجھ سے اتنے سوال کیوں کررہے ہو؟ میں کوئی چور یا قاتل تو نہیں۔ میں اپنے کاروباری سفر پر جارہا ہوں اور اس کے بارے میں پوچھ گچھ کا کسی کو کوئی حق نہیں۔”

پولیس آفیسر نے اس کی بات کا کوئی فوری جواب نہیں دیا۔ اس نے پہلے سپاہیوں کو طلب کیا اور پھر بولا:

“تم نے یہ تو دیکھ ہی لیا ہے کہ میں پولیس انسپکٹر ہوں۔ تم سے یہ سوالات میں نے اس لیے کیے ہیں کہ جس تاجر کے ساتھ تم نے گذشتہ رات گزاری ہے اسے چھرا گھونپ کر ہلاک کر دیا گیا ہے۔ تمہیں اپنے سامان کی تلاشی دینا ہوگی۔” پھر اس نے سپاہیوں کو حکم دیا: “اس کے سامان کی اچھی طرح تلاشی لو۔”

دونوں سپاہی سرائے میں داخل ہوئے اور آکسینوف کا صندوق اور بیگ اٹھا لائے۔ جب وہ تلاشی لے رہے تھے تو پولیس انسپکٹر نے دفعتاً بیگ میں ہاتھ ڈال کر ایک چاقو باہر نکالا اور اس کی طرف قہر آلود نگاہوں سے دیکھتے ہوئے پوچھا: “یہ چاقو کس کا ہے۔۔؟”

آکسینوف نے جب یہ دیکھا کہ اس کے بیگ سے بڑے پھل کا ایک خون آلود چاقو برآمد ہوا ہے تو وہ حیران اور خوفزدہ ہوگیا۔

“۔۔۔ اور اس پر خون کس کا ہے؟” انسپکٹر نے اگلا سوال پوچھا۔

آکسینوف نے جواب دینے کی کوشش کی مگر الفاظ اس کے حلق میں اٹک گئے: “میں۔۔۔ میں ۔۔۔ کچھ نہیں ۔۔۔ جانتا ۔۔۔۔ یہ ۔۔۔۔ یہ چاقو ۔۔۔۔مم ۔۔۔۔ میرا نہیں ہے۔”

پولیس آفیسر بولا: “آج صبح تاجر اپنے کمرے میں مردہ پایا گیا ہے۔ اسے کسی نے چاقو گھونپ کر ہلاک کیا ہے۔ تمہارے سوا کوئی دوسرا شخص قاتل نہیں ہوسکتا۔ سرائے کا دروازہ اندر سے مقفل تھا اور تمہارے سوا کوئی دوسرا شخص اندر نہیں تھا۔ اب یہ خون آلود چاقو بھی تمہارے بیگ سے برآمد ہوگیا ہے۔ تمہارا زرد چہرہ اس بات کی چغلی کھارہا ہے کہ تم مجرم ہو۔ اب سیدھی طرح سے اعتراف کرلو کہ تم ہی نے اسے قتل کیا ہے۔ بتاؤ اس کی کتنی رقم تم نے لوٹی ہے؟”

آکسینوف نے قسمیں کھا کر اسے یقین دلانے کی کوشش کی کہ وہ تاجر کا قاتل نہیں ہے۔ اس نے گزشتہ شام اس کے ساتھ چائے ضرور پی تھی مگر اس کے بعد ان دونوں کی کوئی ملاقات نہیں ہوئی تھی۔ اس نے انسپکٹر کو بتایا کہ اس کے پاس جو آٹھ ہزار روبل تھے، وہ اس کی اپنی رقم تھی جو وہ گھر سے لے کر چلا تھا۔ جہاں تک چاقو کا تعلق تھا، وہ اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتا تھا۔ وہ چاقو اس کا نہیں تھا۔

مگر یہ سب کچھ کہتے ہوئے اس کی آواز کپکپارہی تھی، اس کا چہرہ ہلدی کی طرح زرد تھا اور وہ سخت خوفزدہ نظر آتا تھا، جیسے واقعی مجرم ہو۔

پولیس انسپکٹر نے سپاہیوں کو حکم دیا کہ وہ اسے ہتھکڑی لگائیں اور بگھی میں لاد دیں۔ جب انہوں نے اسے بیڑیاں پہنا کر بگھی میں بٹھایا تو وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔

انہوں نے آکسینوف کی رقم اور اشیاء ضبط کرلیں اور اسے قریبی شہر کی جیل میں بند کردیا۔ پھر تحقیقات شروع ہوئیں۔ تحقیقاتی ٹیم کے کارندے ولادی میں گئے اور آکسینوف کے کردار کے بارے میں تحقیق کی۔ تمام تاجروں اور شہریوں نے ایک ہی بات کی کہ اوائل جوانی میں آکسینوف خاصا بلا نوش تھا مگر اب وہ سدھر گیا تھا۔ اس کے بعد اسے عدالت میں پیش کیا گیا۔ حالات و واقعات کی روشنی میں اس سے قتل اور لوٹ مار کا الزام ثابت ہوگیا۔ اسے تاجر کے قتل اور بیس ہزار روبل لوٹنے کے الزام میں سخت سزا سنائی گئی۔

آکسینوف کی بیوی اس واقعے سے سکتے میں آگئی تھی۔ اسے کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ اسے کیا کرنا چاہیے۔ اس کےچھوٹے چھوٹے بچے تھے۔ ایک تو شیر خوار تھا۔ اس نے تمام بچوں کو ساتھ لیا اور اس شہر پہنچی جہاں اس کے خاوند کو قید کیا گیا تھا۔

جب اس نے اسے قاتلوں کے ساتھ سلاخوں کے پیچھے بند دیکھا تو وہ غش کھا کر زمین پر گر گئی۔ خاصی دیر کے بعد اسے ہوش آیا تو اس نے غم سے نڈھال ہوکر اس کی بپتا سنی اور اپنی سنائی۔ بچے اس کے چاروں طرف فرش پر بیٹھے تھے اور منہ بسور بسور کر رو رہے تھے۔

جب آکسینوف اپنی کہانی سنا چکا تو اس نے اپنے خاوند سے سوال کیا: “اب کیا ہوگا؟”

“ہمیں زاد سے اپیل ضرور کرنی چاہیے۔” آکسینوف بولا۔ “یہ کبھی نہیں ہوسکتا کہ ایک بے گناہ شخص خواہ مخواہ سزا پائے۔”

اس کی بیوی نے اسے بتایا کہ وہ پہلے زار سے اپیل کرچکی تھی، مگر اپیل مسترد کر دی گئی تھی۔
آکسینوف نے جواب میں کچھ نہیں کہا۔ وہ حد درجہ مایوسی سے دوچار ہوگیا تھا۔

اس کی بیوی نے اسے یاد دلایا: ” میں نے تمہیں اپنے خواب کے بارے میں بتایا تھا مگر تم نے میری بات مذاق میں اڑا دی تھی۔ میں نے تمہارے سر کے بال سفید دیکھے تھے، جو فکر کی وجہ سے ابھی سے سفید ہونے لگے ہیں۔ کاش تم میری بات مان لیتے اور میلے میں شرکت کے لیے نہ جائے۔” یہ کہہ کر وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ پھر اس نے آنسوؤں کے درمیان اپنے خاوند کو دوبارہ مخاطب کیا: “دانیا، میرے محبوب شوہر، اپنی بیوی کو سچ سچ بتاؤ کہ تم نے واقعی یہ جرم کیا ہے یا نہیں؟”

آکسینوف نے دکھ سے اس کی طرف دیکھا اور کہا: “تمہیں بھی مجھ پر یقین نہیں۔” اور پھر وہ اپنے بازوؤں میں سر دے کر رونے لگا۔

اس لمحے ایک سپاہی آگے بڑھا اور اس کی بیوی کو بتایا کہ ملاقات کا وقت ختم ہوگیا ہے اور یوں آکسینوف نے آخری مرتبہ اپنے کنبے کو خدا حافظ کہہ دیا۔

جب اس کی بیوی چلی گئی تو آکسینوف گہری سوچ میں ڈوب گیا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ اس کی بیوی نے بھی اس پر اعتبار نہیں کیا تھا۔ اب اس نے خود سے کہا: “خدا کے سوا کسی کو حقیقت کی خبر نہیں۔ مجھے اسی مدد اور رحم طلب کرنا چاہیے۔ کسی اور سے امید لگانے کا کوئی فائدہ نہیں۔”

اس وقت کے بعد اس نے کوئی اپیل دائر کرنے کا خیال ترک کردیا۔ اس نے خدا سے دعا کرنے کی عادت اپنالی۔ اسے سائبیریا میں بامشقت جلاوطنی کی سزا سنائی گئی تھی۔

آکسینوف نے سائبیریا کی کانوں میں چھبیس برس مشقت کی۔ اس کے سر کے بال اس عرصے میں برف کی طرح سفید ہوگئے تھے اور اس کی داڑھی سفید لمبی اور تپلی ہوگئی تھی۔ اس کی خوش طبعی رخصت ہوچکی تھی۔ اس کی کمر جھک گئی تھی، چال میں آہستگی آگئی تھی اور وہ بہت کم گو ہوگیا تھا۔ وہ کبھی مسکراتے نہیں دیکھا گیا۔ اس کا زیادہ وقت عبادت میں گزرتا تھا۔

جلاوطنی کے دوارن اس نے جفت سازی سیکھ لی تھی۔ اس کی آمدنی سے اس نے “شہیدوں کی کتاب” خریدلی تھی، جسے وہ اس وقت تک پڑھنے میں مشغول رہتا، جب تک اس کی کوٹھڑی میں روشنی ناکافی نہ ہوجاتی۔ چھٹی کے دن وہ جیل کے گرجا گھر میں جاتا اور صحائف پڑھتا یا مقدس گیت گاتا، کیونکہ اس کی آواز میں ابھی تک کھنک تھی۔

انتظامیہ کے لوگ آکسینوف کی تابع دار طبیعت کی بدولت اسے پسند کرتے تھے اور جیل کے ساتھی اس کی عزت کرتے اور اسے “دادا جان” اور “خدا کا برگزیدہ” کہہ کر بلاتے تھے۔ جب بھی انہیں انتظامیہ کو کوئی درخواست پیش کرنا ہوتی، وہ اسے ہی اپنا نمائندہ بناتے۔ اسی طرح جب قیدیوں میں کوئی جھگڑا ہوجاتا تو وہ اسے ہی منصف بناتے تھے۔

آکسینوف کو گھر سے کبھی کوئی خط موصول نہیں ہوا تھا۔ اسے کچھ معلوم نہ تھا کہ آیا اس کی بیوی اور بچے زندہ ہیں یا مرچکے ہیں۔

ایک بار چند مجرم جیل میں لائے گئے۔ شام کے وقت تمام پرانے قیدی ان نئے قیدیوں کے گرد جمع ہوگئے اور ان سے پوچھنے لگے کہ وہ کن علاقوں سے تعلق رکھتے تھے اور ان سے کیا کیا جرائم سرزد ہوئے تھے۔

اس وقت آکسینوف ان اجنبی آدمیوں کے نزدیک ہی بیٹھا تھ اور سر جھکائے ان کی باتیں سن رہا تھا۔

نواردوں میں سے ایک ساٹھ سالہ دراز قد آدمی تھا، جس نے ہلکی ڈاڑھی بڑھا رکھی تھی۔ وہ بتا رہا تھا کہ اسے کس لیے گرفتار کیا گیا تھا۔ اس کہا:

“بھائیو! مجھے بے گناہ یہاں بھیجا گیا ہے۔ میں نے ایک ڈاکیے کی گاڑی کے آگے جتا ہوا گھوڑا کھولا تھا اور انہیں نے مجھے پکڑ لیا۔ وہ کہتے ہیں کہ میں چور ہوں حالانکہ بات اتنی سی ہے کہ مجھے کہیں پہنچنے کی جلدی تھی۔ جس ڈاکیے کی گاڑی سے میں نے گھوڑا کھولا تھا وہ میرا دوست تھا، میرا ارادہ چوری کا ہر گز نہیں تھا میں یہ کہتا رہا مگر انہوں نے میری ایک نہ سنی اور مسلسل چور کہتے رہے۔

انہیں یہ بالکل معلوم نہ تھا میں نے کہاں کہاں اور کیا گیا چرایا تھا۔ میں نے زندگی میں اس سے پہلے بے شمار اسیے کام کیے تھے جس کی پاداش میں مجھے یہاں بھیجا جاسکتا تھا مگر کسی کو میرے مجرم ہونے کا علم نہ ہوسکا۔ اور اب انہوں نے مجھے بغیر کسی حقیقی جرم کے یہاں بھیج دیا ہے مگر واویلا کرنے سے کیا فائدہ ہے؟ میں پہلے بھی سائبیریا میں وقت گزارچکا ہوں۔ اگرچہ انہوں نے مجھے یہاں زیادہ عرصہ کے لیے نہیں بھیجا تھا۔”

“تم کہاں سے آئے ہو؟” ایک قیدی نے سوال کیا۔

“میں ولادی میر شہر سے آیا ہوں اور میرے باپ کا نام سمعیون تھا۔”

آکسینوف نے اپنا سر اٹھایا اور پوچھا:

“مجھے بتاؤ سمعیون، کیا تم نے کبھی خانوادۂ آکسینوف کے بارے میں سنا ہے۔ یہ لوگ ولادی میر میں تجارت کرتے ہیں؟ کیا وہ زندہ ہیں؟”

“ہاں، میں نے ان کے متعلق سن رکھا ہے! وہ امیر تاجر ہیں اور ان کا باپ ادھر سائبیریا میں ہی سزا بھگت رہا ہے۔ معلوم ہوتا ہے وہ بھی ہم گناہگاروں جیسا مجرم ہوگا۔ اور اب دادا، تم بتاؤ تمہیں کس جرم میں یہاں بھیجا گیا ہے؟”

آکسینوف کو اپنی بدقسمتی کے متعلق بات کرنا پسند نہیں تھا۔ اس نے آہ بھری اور کہا:

“چھبیس برس پہلے اپنے گناہوں کی پاداش میں اس قیدِ بامشقت کی سزا سنائی گئی تھی۔”

میکار سمعیون نے کہا: “مگر تمہارا جرم کیا تھا؟”

آکسینوف نے جواب دیا: “میں! سمجھو سزا کا حق دار تھا۔”

وہ اس کے سوا کچھ بتانے پر تیار نہ تھا، تاہم دوسرے مجرموں نے بتایا کہ اسے سزا کیوں ملی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ کیسے ایک سرائے میں کسی ایک تاجر کو چھرا گھونپ کر ہلاک کردیا اور آلۂ قتل اس کے بیگ میں رکھ دیا اور کس طرح ایک پولیس انسپکٹر نے اسے پکڑ کر حکام کے حوالے کردیا۔

جب میکار نے یہ سنا تو اس نے اکسینوف کی طرف دیکھا، اپنے گھٹنوں کے گرد اپنے بازوؤں کا حلقہ بنایا اور کہا: “کیسا عجیب اتفاق ہے! تم یہاں بڑھاپے کو پہنچ گئے، دادا!”

دوسرے قیدیوں نے اس پوچھا کہ عجیب اتفاق کیا تھا اور اس نے آکسینوف کو اس سے پہلے کہاں دیکھا تھا مگر میکار نے اس سوال کا کوئی جواب نہیں دیا۔ اس نے پھر دہرایا:

“معجزہ ہے بھائیو! کیسا عجب اتفاق ہے کہ ہم دوبارہ ایک دوسرے سے مل رہے ہیں۔”

“بے شک میں نے اس جرم کے متعلق سنا تھا۔ پورے ملک میں اس پر تبصرے ہوئے تھے لیکن چونکہ اس واقعے کو عرصہ دراز ہوچکا ہے۔۔۔۔ اس لیے مجھے ٹھیک طرح یاد نہیں کہ میں نے کیا سنا تھا۔” میکار نے جواب دیا۔

“شاید تم نے یہ سنا ہوگا کہ تاجر کو کس نے قتل کیا تھا؟” آکسینوف نے کہا۔

میکار نے ہنسا اور بولا: “بھائی جس کے بیگ میں سے خون آلود چاقو نکلا تھا اسی نے قتل کیا ہوگا۔ کسی نے چاقو تمہارے بیگ میں رکھا تھا، مگر پکڑا نہیں گیا، یہ ناممکن ہے کیونکہ کوئی شخص تمہارے بیگ میں چاقو رکھ کس طرح سکتا تھا؟ کیا بیگ تمہارے سرہانے نہیں رکھا تھا؟ کوئی اسے کھولتا تو کھٹکے سے تم بیدار نہ ہوجاتے؟”

جونہی آکسینوف نے اجنبی شخص کے منہ سے یہ الفاظ سنے، اسے یقین ہوگیا کہ تاجر کو قتل کرنے والا آدمی وہی تھا۔

وہ اپنی جگہ سے اٹھا اور وہاں سے پرے ہٹ گیا۔ ساری رات اسے نیند نہیں آئی۔ گہرے دکھ نے اسے اپنی لپیٹ میں لے لیا اور وہ ماضی کی یادوں میں کھو گیا۔

اسے اپنی بیوی یاد آئی کہ کس طرح الوداعی ملاقات میں وہ اس سے بچھڑتے ہوئے گریہ و زاری کررہی تھی۔ اس کے ذہن کے پردے پر اس کی واضح تصویر ابھی آئی تھی، وہ اس کے خوبصورت جسم، اس کے چہرے اور اس کی آنکھوں کو اس طرح دیکھ سکتا تھا جیسے وہ زندہ اس کے سامنے کھڑی ہو۔ اسے اس کے الفاظ اور اس کی ہنسی صاف سنائی دے رہی تھی۔

پھرا س کے ذہن کے منظر نامے پر اسے بچے نمودار ہوئے۔ فرکوٹ میں ملبوس ایک چھوٹا سا لڑکا اور ماں کی چھاتیوں سے لپٹا ہوا ایک نوزائیدہ بچہ اور اس نے تصور ہی تصور میں خود کو دیکھا۔ اسے اپنا آپ جوان اور توانا نظر آیا، جیسا کہ وہ اس زمانے میں ہوا کرتا تھا۔ اس یاد آیا کہ کیسے وہ سرائے کے دروازے پر بیٹھا خوشی خوشی گٹار بجا رہا تھا، جب انہوں نے اسے گرفتار کیا تھا۔

اسے اپنی چھبیس سالہ قید کا ایک ایک لمحہ یاد آرہا تھا اور وہ تمام تر مشقتیں، اذیت ناک تنہائی اور کڑی سزائیں اسے کچوکے لگا رہی تھیں جو اس پر وارد ہوئی تھیں۔ یہ سب کچھ یاد کرکے اس پر ایسی گھمبیر مایوسی طاری ہوئی کہ اس کا جی چاہا وہ اپنی زندگی کا خاتمہ کرلے۔

مجھے یہ سب کچھ اس مجرم شخص کی وجہ سے سہنا پڑا۔” اس نے خود کلامی کی۔

اور اس کے بعد اس شخص پر اتنا غصہ آیا کہ اگر وہ اس کے سامنے ہوتا تو وہ اس کا بھرکس نکال دیتا۔ اس نے تمام رات عبادت میں گزاری مگر اسے پھر بھی سکون نصیب نہیں ہوا۔ دن کی روشنی ظاہر ہوئی تو اس کا گزر میکار کے قریب سے ہوا مگر اس نے اس کی طرف نہیں دیکھا۔

ایک رات وہ جیل کے غسل خانے سے اپنی کوٹھڑی کی جانب آرہا تھا۔ جب وہ میدان سے گزرا تو اسے زمین کھودنے کی آواز آئی۔ وہ رک گیا اور بغور کوٹھڑی کی طرف دیکھنے لگا۔ اچانک ایک پتھر کی سل کے عقب سے میکار رینگتے ہوئے برآمد ہوا اور آکسینوف کو دیکھ کر ٹھٹک گیا۔ اس کے چہرے کا رنگ زرد پڑگیا تھا۔

آکسینوف انجان بن کر آگے بڑھنے لگا مگر میکار نے اس کا بازو پکڑ لیا۔ اس نے اسے بتایا کہ کیسے وہ چار دیواری کے نیچے سے ایک سرنگ کھودنے کی کوشش میں ہے اور کیسے وہ روزانہ مشقت کے دوران کھودی ہوئی مٹی اپنی جیبوں اور جرابوں میں بھر کر، میدان میں پھیلا دیتا ہے۔ پھر اس نے کہا:

“بڑے میاں! اگر تم اپنی زبان بند رکھو تو میں اسی سرنگ سے تمہیں بھی نکال لے جاؤں گا لیکن اگر تم نے انہیں یہ راز بتادیا تو وہ اگرچہ مار مار کر میری چمڑی ادھیڑ دیں گے مگر میں پھر بھی زندہ تو رہوں گا۔ میں اس حرکت پر تمہیں موت کے گھاٹ اتاردوں گا۔

جب آکسینوف نے اپنے دشمن کے چہرے پر نگاہ ڈالی تو اس کا جسم انتقام کی آگ میں جلنے لگا۔ اس نے بمشکل اپنا غصہ ضبط کیا اوراپنا بازو چھڑا کر بولا:

“مجھے یہاں سے فرار ہونے کی کوئی خواہش نہیں۔ رہا مسئلہ مجھے ہلاک کرنے کا تو مجھے موت کے گھاٹ اتار کر تم مجھے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکو گے۔ تم نے تو مجھے بیس سال پہلے ہی مار دیا تھا۔ رہا مسئلہ تمہارے فرار کی کوشش کے متعلق حکام کو بتانے کا تو میں وہی کروں گا جو خدا کو منظور ہوگا۔”

اگلے روز جب سپاہی قیدیوں کو مشقت کے لیے میدان میں لے گئے تو انہیں معلوم ہوگیا کہ کوئی قیدی سرنگ کھودنے کی کوشش کررہا ہے۔ انہیں وہ سوراخ مل گیا تھا جو میکار نے کھودا تھا۔

چیف وارڈن نے جیل کے اندر قیدیوں کو جمع کیا اور سختی سے پوچھا کہ کون سرنگ کھودرہا تھا؟ سب نے لاعلمی کا اظہار کیا۔ جنہیں علم تھا انہوں نے بھی میکار کا نام نہیں لیا، کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ اگر انہوں نے بتا دیا تو سپاہی کوڑے مار مار کر اس کی کھال ادھیڑ دیں گے اور بعید نہیں کہ وہ معذور ہوجائے۔

پھر چیف آکسینوف کے قریب آیا۔ وہ جانتا تھا کہ آکسینوف سچا آدمی ہے اس نے کہا:

“بڑے میاں تم ایک سچے انسان ہو۔ خدا کو حاضر ناظر جان کر بتاؤ کہ وہ شخص کون ہے؟”

میکار قریب کھڑا تھا اس کا دل بری طرح دھڑک رہا تھا۔ اسے آکسینوف کی طرف دیکھنے کی ہمت نہیں ہورہی تھی۔

آکسینوف کے ہاتھ اور ہونٹ کانپے۔ اسے جواب دینے میں قدرے تامل ہوا۔ وہ سوچنے لگا۔ اگر میں اسے بچا لوں ۔۔۔۔؟” مگر میں اسے معاف کیوں کروں؟ جب اس نے مجھے تباہ کردیا تو میں اسے کیوں چھوڑدوں؟ اسے بھی میری تکالیف کے بدلے میں کچھ سزا ملنی چاہیے! مگر کیا میں اس کے بارے میں بتاسکوں گا؟ وہ اسے مار مار کر ادھ موا کردیں گے۔ کیا میرے لیے ایسا کرنا آسان ہے؟”

چیف نے اسے خاموش دیکھ کر ایک بار پھر پوچھا۔

“بڑے میاں، سچ بتادو! سرنگ کس نے کھودی ہے؟”

“میں کچھ نہیں بتا سکتا جناب محترم! خدا نے مجھے اس کا حکم نہیں دیا۔ میں نہیں بتاؤں گا۔ آپ لوگ میرے ساتھ جیسا سلوک چاہو کرو۔ میں آپ کے رحم و کرم پر ہوں۔”

چیف کی تمام تر کوشش کے باوجود آکسینوف نے مزید کچھ نہیں کہا۔ اس طرح وہ یہ جاننے سے قاصر رہے کہ سرنگ کس نے کھودی تھی؟

اگلی رات جب آکسینوف اپنے بینچ پر سویا ہوا تھا، اسے محسوس ہوا کہ کوئی اس کے قدموں میں آکر بیٹھ گیا ہے۔ اس نے اندھیرے میں گھور کر دیکھا تو وہ میکار تھا۔

آکسینوف نے پوچھا:

“تم مجھ سے کیا چاہتے ہو؟ تم یہاں کیوں آئے ہو؟

میکار خاموش رہا۔ آکسینوف اٹھ بیٹھا اور کہا:

”تم کیا چاہتے ہو؟ یہاں سے چلے جاؤ ورنہ میں گارڈ کو بلاتا ہوں۔”

میکار آکسینوف کے قریب کھسک گیا اور سرگوشی میں کہا:

“ایوان دمتریوچ، مجھے معاف کردو!”

آکسینوف نے کہا: “میرے معاف کرنے کی وجہ!”

“اس تاجر کو میں نے قتل کیا تھا۔ میں نے ہی وہ خون آلود چاقو تمہارے بیگ میں رکھا تھا اور کھڑکی کے راستے فرار ہوگیا تھا۔”

آکسینوف نے جواب میں کچھ نہیں کہا۔ اسے کچھ سجھائی نہیں دے رہا تھا کہ وہ اسےکیا کہے۔ میکار زمین پر بیٹھ گیا اور اس کے پاؤں پکڑ کر بولا:

“ایوان، دمتریوچ مجھے معاف کردو۔ یسوع مسیح کے صدقے مجھے معاف کردو۔ میں اعترافِ جرم کرلوں گا۔ اس تاجر کو میں نے ہی قتل کیا تھا۔ ۔۔۔ وہ تمہیں معافی دے دیں گے۔ تم اپنے گھر جا سکو گے۔”

“تمہارے لیے یہ کہنا بہت آسان ہے مگر میں کیسے اسے سہار سکتا ہوں؟ میں اب کہاں جاؤں، میری بیوی مرچکی ہے، میرے بچے مجھے بھلا چکے ہیں۔ میرا اب کوئی ٹھکانا نہیں۔”

میکار زمین سے نہیں اٹھا۔ اس نے بنچ سے اپنا سر ٹکرایا اور کہا:

“ایوان دمتریوچ، مجھے معاف کردو! اگر وہ کوڑوں سے مجھے چھلنی کردیں تو وہ میرے لیے برداشت کرنا آسان ہوگا، مگر تمہاری موجودہ حالت دیکھنا میرے لیے اذیت ناک ہوگیا ہے۔ اس تمام کے باوجود تم نے مجھ پر رحم کیا۔۔۔۔ تم نے ان کے سامنے میرا نام نہ لیا۔ یسوع مسیح کے واسطے مجھے معاف کردو! مجھے معاف کردو اگرچہ میں ایک لعنتی اور بد کردار ہوں۔” یہ کہہ کر وہ سسک سسک کر رونے لگا۔

جب آکسینوف نے اسے روتے دیکھا تو اس کی آنکھوں کے سوتے بھی پھوٹ بہے۔ اس نے کہا:

“خدا تمہیں معاف کرے۔ شاید میں تم سے زیادہ برا آدمی ہوں۔”

یہ کہنے کے بعد اسے یکایک روحانی سکون حاصل ہوگیا۔ اس کے بعد اس نے کبھی اپنے گھر بار اور ماضی کو یاد نہ کیا۔ اب وہ صرف اپنی آخرت کے بارے میں سوچتا تھا۔

لیکن میکار نے اس کی بات نہیں مانی اور حکام کے سامنے اپنے جرم کا اعتراف کرلیا۔ جب حکام بے گناہ آکسینوف کو اس کی رہانی کی خوشخبری سنانے آئے تو وہ اپنے بنچ پر ابدی نیند سویا ہوا تھا۔

Please follow and like us:

اپنا تبصرہ بھیجیں