شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین پھر آمنے سامنے

Spread the love

اسلام آباد ،لاہور (سٹاف رپورٹر ،)تحریک انصاف کے رہنما و وزیر خارجہ شاہ

محمود قریشی اور جہانگیر ترین ایک مرتبہ پھر آمنے سامنے آگئے۔لاہور میں

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ جہانگیر ترین کی بے

پناہ کاوشیں ہیں جن کا کل بھی معترف تھا اور آج بھی ہوں لیکن ان کے سرکاری

اجلاسوں میں بیٹھنے پر (ن) لیگ کو بولنے کا موقع ملتا ہے۔شاہ محمود قریشی نے

کہا کہ جہانگیر ترین پی ٹی آئی کے مخالفین کو موقع دے رہے ہیں اور کارکن

ذہنی طور پر اسے قبول نہیں کر پا رہے جب کہ (ن) لیگ سوال اٹھاتی ہے کہ یہ

توہین عدالت نہیں تو اور کیا ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ باسٹھ ون ایف اگر نواز

شریف پر لگ جائے تو وہ نہ پارٹی اور نہ سرکاری عہدے کے لیے اہل رہتے

ہیں، جب باسٹھ ون ویف ہم پر لاگو ہوجائے تو اس کا معیار کچھ اور ہوجاتا ہے،

جہانگیر ترین سوچیں جب وہ سرکاری اجلاسوں میں بیٹھتے ہیں تو مریم

اورنگزیب کو بولنے کا موقع ملتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہانگیر ترین اپنی تجاویز

ضرور دیں لیکن پس پردہ رہ کر، جب وہ سامنے آتے ہیں تو سوال اٹھتے ہیں۔

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ملتان ضمنی انتخابات میں عوام نے

مسلم لیگ (ن)اور پیپلز پارٹی کے الحاق کو مسترد کر دیا ہے، (ن) لیگ اور پیپلز

پارٹی نے سیاسی دیوالیہ پن کا مظاہرہ کیا ، مخالفین کو ضمنی انتخاب سے سبق

سیکھنا چاہیے، یوسف رضا گیلانی کے بچے(ن)لیگ کی جانب دیکھ رہے ہیں،

پنجاب کی سیاست (ن) لیگ اور تحریک انصاف کے درمیان ہے، عمران خان کی

قیادت میں عوامی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے،پنجاب میں سیاست (ن) لیگ

اور پی ٹی آئی کے درمیان ہو رہی ہے، پیپلز پارٹی کہیں نظر نہیں آرہی، یوسف

رضا گیلانی کے بچے سیاست میں رہنے کیلئے نیا فیصلہ کرنے والے ہیں اور

(ن) لیگ کی طرف جا رہے ہیں، ہم عمران خان کی قیادت میں عوامی خدمت کا

تسلسل جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا نام

تبدیل کرنے کا فیصلہ سیاسی طور پر درست نہیں ، مسئلہ نام کا نہیں کام کا ہے،

کام کرکے دکھانا ہے اور غریب کے مسائل کا حل کرنا ہے،بے نظیر انکم سپورٹ

پروگرام کا دائرہ کار محدود ہے اور احساس پروگرام کا دائرہ کار وسیع ہے، میں

پارٹی قیادت کے سامنے اپنا نقطہ نظر رکھوں گا۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی

کے بیان پر جہانگیر ترین نے اپنے ردعمل میں کہا کہ جہاں بھی جاتا ہوں عمران

خان کی مرضی اور خواہش سے جاتا ہوں، مجھے پاکستان کی خدمت سے کوئی

نہیں روک سکتا۔جہانگیر ترین نے اس حوالے سے ایک ٹوئٹ بھی کی اور کہا کہ

صرف ایک ہی شخص ہے جسے اپنا لیڈر تصور کرتا ہوں اور اْسی کو جوابدہ

ہوں، اس کا نام عمران خان ہے۔جہانگیر ترین نے کہا کہ اپنی آخری سانس تک

عمران خان کے ہر مشکل اور اچھے وقت کے ساتھ کھڑا ہوں، دوسرے اس

حوالے سے کیا کہتے ہیں اس سے مجھے کوئی غرض نہیں۔ شاہ محمود قریشی

اور جہانگیر ترین کی باہمی چپقلش اور لفظی گولہ باری کے جواب میں پی ٹی

آئی کے متعدد رہنمائوں نے جہانگیر ترین کے حق میں آواز بلند کردی ۔ اس

سلسلے میں وفاقی وزیر فیصل واڈا نے کہا کہ جہانگیر ترین نے بغیر کسی

غرض کے پارٹی کے لئے خدمات انجام دیں، ان کی سینیئر ساتھی ہونے کی

حیثیت سے احترام کرتے ہیں اور ان کے تجربات سے استفادہ کرتے ہیں۔ پارٹی

میں کوئی ہمیں ڈکٹیٹ نہیں کر سکتا، وزیراعظم عمران خان ہمارے لیڈر ہیں، ہم

صرف ان سے ہی ہدایات لیتے ہیں۔دوسری جانب وزیر خزانہ خیبر پختونخواہ

خزانہ تیمور خان جھگڑا نے بھی جہانگیر ترین کے حق میں آواز بلند کردی۔ ان

کا کہنا تھا کہ جہانگیر ترین سے بہت کچھ سیکھا۔وزیراعلیٰ کے مشیر عون

چوہدری نے کہا کہ جہانگیر ترین نے پا رٹی کے لئے بہت کچھ کیا، جہانگیر ترین

کی ملک اور پارٹی کے لئے لازوال خدمات ہیں۔عون چوہدری کا مزید کہنا تھا کہ

.اجلاسوں میں جہانگیر ترین کی شرکت سے فائدہ ہوتا

Please follow and like us:

اپنا تبصرہ بھیجیں