شاہزادی جہاں آرا بیگم صاحب

Spread the love

(اپریل 2، 1614 – ستمبر 16, 1681)

مغل سلطان شاہ جہاں اور ممتاز محل کی دختر۔ اورنگ زیب کی بڑی بہن۔

لاہور( صرف اردو ڈاٹ کام) ممتاز محل کی وفات 1631ء میں ہوئی، اس وقت جہاں آرا کی عمر 17 سال کی تھی، تب مغلیہ سلطنت کی شاہزادی کہلانے لگیں۔ اپنے بھائی بہنوں کی دیکھ بھال کے ساتھ اپنے شفیق والدِ محترم کی بھی دیکھ بھال اپنے سر لیں۔

جب ان کی ماں کا انتقال ہوا، تو ان پر بہت ساری ذمہ داریاں تھیں، ان میں ایک یہ کہ اپنے بھائی دارا شکوہ کی سرمِ منگنی اور ’’نادرہ بانو‘‘ سے نکاح، جو ممتاز محل کا ہی ارادہ تھا۔

ممتاز محل اپنے 14ویں بچے کی تولید کے وقت انتقال ہوا۔ مانا جاتا ہے کہ ممتاز محل کے نجی زروزیور کی قیمت اس دور کے 1 کروڑ روئے تھے، جنہیں شاہجہاں نے دو حصوں میں تقصیم کیا، ایک حصہ جہاں آرا کو اور دوسرا حصہ بقیہ بچوں میں تقسیم کیا۔ شاہ جہاں اکثر اپنی بیٹی جہاں آرا سے رائے مشورے لیتے تھے اور سرکاری انتظامیہ کے امور میں اکثر جہاں آرا کا دخل بھی ہوا کرتا تھا۔ اپنی عزیز بیٹی کو شاہ جہاں ’’صاحبات الزمانی“،’’پادشاہ بیگم“،’’بیگم صاحب“ جیسے القاب سے پکارا کرتا تھا۔ جہاں آرا کو اتنا اختیار بھی تھا کہ وہ اکثر قصر آگرہ سے باہر بھی جایا کرتی تھیں۔

سنہ 1644 میں،جہاں آرا کی 30ویں سالگرہ کے موقع پر، ایک حادثہ ہوا جس میں جہاں آرا کے کپڑوں کو آگ لگ گئی اور وہ جھلس کر زخمی ہو گئیں۔ شاہ جہاں اس بات سے نہایت رنجیدہ ہوا اور انتظامی امور دوسروں کو سونپ کر اپنی بیٹی کی دیکھ بھال کرنے لگا۔ اور اجمیر شریف میں خواجہ معین الدین چشتی کی زیارت پر گیا۔
جب جہاں آرا ٹھیک ہوئیں، شاہ جہاں انہیں قیمتی ہیرے جواہرات اور زیورات تحفے میں دئے اور سورت بندرگاہ سے آنے والی آمدنیات کو بھی تحفے میں پیش کی۔ جہاں آرا بعد میں اجمیر شریف کی زیارت بھی کی، جو ان کے پر دادا شاہنشاہ اکبر کا طور تھا۔

کئی انکشافات بھی اس بات کی ہیں کہ جہاں آرا اپنے بھائی اورنگ زیب کو’’سفید سانپ“ (ہو سکتا ہے اورنگ زیب کے چہرے کی رنگت کی وجہ سے ہو) ہہ کر پکارا کرتی تھیں، کبھی کبھی، شیر اور چیتا کے نام سے بھی بلایا کرتی تھیں۔اپنی بہن ’’روشن آرا“ سے بھی کچھ ان بن ہوا کرتی تھی۔ وجہ یہ کہ جہاں آرا کی مقبولیت سے روشن آرا حسد کرتی تھیں۔ سلطنت کی دیکھ بھال کے لیے جہاں آرا کا میلان’’دارا شکوہ“ کی طرف تھا، تو روشن آرا اورنگ زیب کو سلطان دیکھنا چاہتی تھیں۔ جب اورنگ زیب مغلیہ سلطنت کا جانشین ہوا تو شاہ جہاں قید کیا گیا، جہاں آرا اپنے والد کے ساتھ قید میں رہا کرتی تھیں اور والد کی بیمار پرسی کیا کرتی تھیں اور شاہ جہاں کی وفات تک جہاں آرا اپنے والد کی خدمت کرتی رہیں۔ شاہ جہاں کی وفات کے بعد، اورنگزیب اور جہاں آرا کے درمیان رہی کشیدگی کم ہوئی، اورنگزیب نے جہاں آرا کو صاحب-شاہزادی کا لقب دیا۔ جہاں آرا روشن آرا کو شاہزادی بناکر خود خاموش رہ گئیں۔ جہاں آرا کو اتنے اختیارات تھے کہ وہ اورنگزیب کی نکتہ چینی کرتیں اورنگزیب کے انتظامی طریقوں پر تنقید بھی۔

جہاں آرا کی وفات پر، اورنگ زیب نے انہیں’’صاحباۃالزمانی“ لقب دیا۔ جہاں آرا کی تدفین حضرت خواجہ نظام الدین کی درگاہ کے قریب ہوئی۔ ان کے مزار پر ذیل کا کتبہ لکھا ہوا ہے جو ان کی سادہ زندگی کی عکاسی کرتا ہے۔

Please follow and like us:

اپنا تبصرہ بھیجیں