حمزہ شہبازشریف نے گرفتاری سے بچنے کے لئے عورتوں اور بچوں کا ڈھال کے طورپر استعمال کیا، فواد چوہدری

Spread the love

شریف خاندان کو گھبرانے کی کیا ضرورت ہے ان کو تو ویسے بھی ہمیشہ ریلیف ملتا رہا
سامنے آئیں پیسے واپس کریں یا جیل کاٹیں اس کے علاوہ کوئی اور آپشن نہیں ہے
ساٹھ ارب ڈالر کا زیادہ حصہ ان کی جیبوں میں گیا اور جب قانون ہاتھ ڈالتا ہے تو یہ پارلیمنٹ اور جمہوریت کے پیچھے چھپنے کی کوشش کرتے ہیں
آصف علی زرداری اتنی دھمکی دیں جتنی برداشت کرسکیں
ایک مولانا فضل الرحمن ہیں۔ پارلیمنٹ سے نکل کر پاگل پن کا شکار ہیں
شریف خاندان اور آصف علی زرداری چوری چھپانے کے چکر میں ادھر ادھر بھاگ رہے ہیں
حکومت نے بیرون ملک اثاثے لانے کے لئے ایمنسٹی سکیم لانے کا فیصلہ کیا ہے
وفاقی وزیراطلاعات ونشریات کی پریس کانفرنس

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک، نمائندہ خصوصی)وفاقی وزیراطلاعات ونشریات فواد چوہدری نے کہا کہ حمزہ شہبازشریف نے گرفتاری سے بچنے کے لئے عورتوں اور بچوں کا ڈھال کے طورپر استعمال کیا،شریف خاندان کو گھبرانے کی کیا ضرورت ہے ان کو تو ویسے بھی ہمیشہ ریلیف ملتا رہا سامنے آئیں پیسے واپس کریں یا جیل کاٹیں اس کے علاوہ کوئی اور آپشن نہیں ہے، ساٹھ ارب ڈالر کا زیادہ حصہ ان کی جیبوں میں گیا اور جب قانون ہاتھ ڈالتا ہے تو یہ پارلیمنٹ اور جمہوریت کے پیچھے چھپنے کی کوشش کرتے ہیں آصف علی زرداری اتنی دھمکی دیں جتنی برداشت کرسکیں۔

ایک مولانا فضل الرحمن ہیں پارلیمنٹ سے نکل کر پاگل پن کا شکار ہیں، شریف خاندان اور آصف علی زرداری چوری چھپانے کے چکر میں ادھر ادھر بھاگ رہے ہیں۔ ہفتہ کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ شریف خاندان اور آصف علی زرداری کے خلاف جب بھی نیب کا شکنجا کسنے لگتا ہے تو انہیں جمہوریت اور پارلیمنٹ یاد آ جاتی ہے۔

1947ء سے 2008ء تک 37 ارب ڈالر کا قرضہ لیا گیا۔ تربیلا منگلا موٹرویز اور بڑے بڑے منصوبے بھی بنے۔ 2008ء سے 2018ء تک ساٹھ ارب ڈالر کا قرضہ لیا گیا۔ یہ قرضہ کہاں گیا جب ہم پوچھتے ہیں تو اس کا کوئی جواب نہیں آتا۔ اتنے بڑے قرضے کا بڑا حجم کی ان کی جیبوں میں گیا ہے۔ عمران خان کی کسی کے ساتھ کوئی ذاتی لڑائی نہیں ہے وہ چاہتے ہیں کہ ملک کا لوٹا گیا پیسہ واپس آئے۔ لوٹ مار کی وجہ سے پاکستان میں مہنگائی ہے، گیس بجلی مہنگی ہے۔

ساٹھ ارب ڈالر کا زیادہ حصہ ان کی جیبوں میں گیا اور جب قانون ہاتھ ڈالتا ہے تو یہ پارلیمنٹ اور جمہوریت کے پیچھے چھپنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کی لوٹ مار کے بارے میں عوام کو بھی سوچنا چاہئے۔ حمزہ شہباز شریف کی گرفتاری کے لئے قانون کے مطابق آپریشن ہوا۔ ان کو سامنے آنا چاہئے۔ یہ بھی بتانا چاہتا ہوں کہ یہ وہ آپریشن نہیں ہے جو ماڈل ٹاؤن میں ہوا تھا جب براہ راست گولیاں برسائی گئیں اور سولہ بے گناہ لوگوں کو قتل کر دیا گیا۔ دو روز سے نیب گرفتاری کی کوشش کر رہی ہے۔

حمزہ شہباز شریف بچوں اور عورتوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کر رہے ہیں یہ اس خاندان کی پرانی روایت ہے۔ نوازشریف نے بھی ’’جاگ پنجابی جاگ تیری پگ نوں لگ گیا داغ‘‘ کے اشتہارات شائع کروائے۔ ان کی حرکتوں کی وجہ سے پنجاب کی پگ پر داغ لگا ہے اب وقت آ گیا ہے کہ جرم اور سیاست میں فرق کیا جائے۔

اس حوالے سے میڈیا اور رائے عامہ بنانے والوں کو سوچنا چاہئے۔ جرم کے لئے سیاست کو ڈھال نہیں بننا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی لوٹ مار کی وجہ سے ملک کو قوم کا نقصان ہوا ہے۔ موجودہ حکومت بدعنوانی کے خاتمے کا پختہ یقین رکھتی ہے۔ ایک طرف احتساب دوسری طرف غنڈہ گردی ہے حسن اور حسین نواز نے بھی یہی کہا تھا کہ ہم اپنی بے گناہی عدالتوں میں ثابت کریں گے اور کچا چٹھا بیان کر دیں گے مگر اب وہی خود کو برطانوی شہری قرار دے رہے ہیں۔ لگتا ہے کہ حمزہ شہباز شریف بھی باہر نکلیں گے تو کہیں گے کہ وہ تو کیوبا کے شہری ہیں۔

کیس واضح ہے فضل داد اور قاسم نامی دو افراد نیب نے گرفتار کئے۔ انہوں نے نیب کو بیان دیا کہ وہ شریف خاندان کے لئے کام کرتے تھے اور حمزہ شہباز کے کہنے پر اربوں روپے پاکستان سے باہر بھیجے۔ حمزہ شہباز شریف کے 85 ارب روپے کے اثاثے باہر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حمزہ کے لئے ایک قانون اور شہریوں کے لئے دوسرا قانون نہیں ہو سکتا۔ شریف خاندان اور عام لوگوں کے لئے ایک ہی قانون لاگو ہو گا۔

اسلامی نظریاتی کونسل کا بھی بیان سامنے آیا ہے کہ یہ خلاف اسلام ہے۔ میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ کب اس ملک میں امیر لوگوں کو جیلوں میں ڈالا گیا ہے۔ جیلوں کو جا کر دیکھیں 70 سے 75 سال ہو گئے ہیں۔ کون امیر آدمی جیل میں گیا۔ اب اسلام بھی زندہ ہو گیا ہے اور حرام بھی قرار دیا جا رہا ہے۔ بدقسمتی سے اس ملک میں غریب اور امراء کے لئے الگ الگ قانون کے طور پر ٹریٹ کیا گیا۔ بدقسمتی سے امیر کو ذہنی ٹینشن پر ضمانت بھی مل جاتی ہے۔ دس دس بارہ بارہ دن وہ باہر بھی رہتے ہیں۔ نوازشریف کے حوالے سے 300 ارب روپے کا معاملہ ہے۔ یہ رقم پاکستان کی ہے۔

شہباز شریف پر بھی اربوں روپے کی لوٹ مار کا معاملہ ہے۔ آصف علی زرداری پر پانچ ارب روپے کی منی لانڈرنگ کا معاملہ ہے یہ پیسے واپس کریں یا پھر جیل کاٹیں گے اور کوئی آپشن نہیں ہے۔ یہ تو نہیں ہو سکتا کہ کچھ بھی نہ کریں اور یہ چلے جائیں پلی بارگین سے فائدہ اٹھائیں حکومت رکاوٹ نہیں بنے گی۔ ان دونوں کے کرتوتوں کی وجہ سے پاکستان دیوالیہ ہونے لگا تھا۔

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات نے بتایا کہ حکومت نے بیرون ملک اثاثے لانے کے لئے ایمنسٹی سکیم لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ موجودہ حکومت کے اہم فیصلوں کی وجہ سے معاشی استحکام آ رہا ہے۔ درآمدات کم اور برآمدات بڑھ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک مولانا فضل الرحمن ہیں۔ پارلیمنٹ سے نکل کر پاگل پن کا شکار ہیں۔ ہم انہیں 1988ء سے برداشت کرتے آئے ہیں وہ ہمیں سات ماہ بھی برداشت نہیں کر رہے۔

شریف خاندان اور آصف علی زرداری چوری چھپانے کے چکر میں ہیں ادھر ادھر بھاگ رہے ہیں حمزہ شہباز شریف سامنے آئیں الزامات کا سامنا کریں جواب دیں ویسے بھی پاکستان میں شریف خاندان کو ریلیف ملتا رہا ہے۔ شریف خاندان کو گھبرانے کی کیا ضرورت ہے۔ پلی بارگین کے قانون سے فائدہ اٹھائیں۔ انہوں نے کہا کہ مریم اورنگزیب کی وہی صورتحال ہے کہ جو عراق کے وزیر خارجہ طارق عزیز کی تھی کہ جب عراق میں لوگوں کو مار پڑ رہی تھے وزیر خارجہ کہہ رہے تھے کہ ہم مار رہے ہیں۔

مریم اورنگزیب الٹی گنگا بہانے کی کوشش نہ کریں۔ فواد چوہدری نے ایک بار پھر حکومت کی طرف سے اس پیشکش کا اعادہ کیا کہ یہ اسلام آباد دھرنے کے لئے آئیں انہیں کھانا بھی دیں گے اور کنٹینر بھی دیں گے۔ آصف زرداری اور شریف خاندان جتنا رو لیں پیٹ لیں کوئی سم کارڈ استعمال کرے احتساب کا سلسلہ جاری رہے گا۔ ویسے بھی آصف علی زرداری دھمکی کے بعد دو تین سال کے لئے دبئی چلے جاتے ہیں اور معذرت اور ضمانت کے بعد واپس آتے ہیں۔ یہ لوگ اتنی ہی دھمکی دیں جتنی برداشت کر سکیں۔

Please follow and like us:

اپنا تبصرہ بھیجیں