تین قوتیں اور ہمارا مستقبل

Spread the love

ایک فکر انگیز تحریر صرف ان کے لیے جو سوچنے سمجھنے کی صلاحیت نہیں کھو چکےجو اپنے ماضی سے سیکھ کر اپنے بہتر مستقبل کے لیے حال کو ٹھیک کرنے کے خواہشمند ہیں

عقیلہ منصور جدون

ہمارے ملک میں تین فیصلہ کن قوتیں ہیں جو اس ملک کے ماضی ،حال ،مستقبل کو سنوارنے اور بگاڑنے کے زمہ دار ہیں ۔

بظاہر دو قوتیں سیاستدان اور اسٹیبلشمنٹ نمایاں اور باہم دست و گریباں رہیں .لیکن جب کبھی کوئی فوجی آمر بر سر اقتدار آتا تو اسٹیبلشمنٹ غائب ہو جاتی اور سیاستدان اور فوجی آمر آمنے سامنے ہوتے۔

ایسے تمام بحرانوں کا جو قیام پاکستان سے لے کر اب تک جاری ہیں ،کا جب بھی تجزیہ کیا جاتا تو بڑے نپے تلے انداز میں عدالتی فیصلوں کا بھی تذکرہ ہوتا کہ کس طرح عدالتی فیصلوں سے حالات کدھر چل پڑے۔بہت ہی محتاط گفتگو ہوتی۔ لیکن سب سے زیادہ لعن طعن یا تو سیاستدانوں پر ہوتی یا پھر فوجی آمر پر۔

ضیا ا لحق کے آنے، ذوالفقار علی بھٹو کے پھانسی چڑھنے میں عدلیہ کے کردار سے حالات میں تبدیلی سے تیسری قوت کا واضح اشارہ ملا۔ لیکن پھر بھی ملک میں دو ہی متحارب اور فیصلہ کن قوتیں سامنے رہیں، سیاستدان اور فوجی آمر۔

کہنے کو تو تیسری قوت عوام کو مانا جاتا رہا، لیکن عملی طور ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ عوام کی محبت اور یکجہتی کے بعد آنے والے ادوار میں فوجی آمروں کے لے پالک اس طرح عوامی لیڈر بن کر سامنے آئے کہ خود عوام ہی اپنے انتخاب پر جواب دہی کے قابل نہ رہی۔

نواز شریف اور بے نظیر کے ادلتے بدلتے ادوار سے عوام کو سیاستدانوں سے متنفر کرنے کی بھرپور کوشش کے بعد پھر وہی فوجی آمر مسلط ہوا۔ بے نظیر قتل ہوئیں اور اس فوجی آمر کو کسی سیاستدان نے نہیں بلکہ ایک اعلی عدالتی جج نے عوامی تحریک سے گھر بھیجا اور اس طرح عدلیہ ملک کے سیاہ و سفید کے فیصلے کرنے والی قوتوں میں تیسری بڑی قوت بن کر ابھری۔ اس’’عوامی جج‘‘ نے جس طرح پاکستان پیپلز پارٹی کی منتخب حکومت کو اپاہج کیا، جس طرح ان کے ہر حکومتی فعل، ہر حکومتی پالیسی کو Suo Moto ایکشن لیتے ہوے ناکام کیا اور جس جوڈیشل ایکٹوازم کی بنیاد ڈالی، آج پوری قوم اسے بھگت رہی ہے۔

اس وقت پی پی پی کا ساتھ دینے کی بجائے ن لیگ جس طرح شادیانے بجاتی رہی اس سے قوم کا اعتبار دونوں سیاسی پارٹیوں سے اٹھتا چلا گیا۔
اس سیاسی خلا کو تیسری سیاسی پارٹی ’’تحریک انصاف‘‘ نے پر کرنا شروع کر دیا، تو ن لیگ نے اپنی توپوں کا رخ اسٹیبلشمنٹ (جسے اب کھلم کھلا فوج کا ہم معنی قرار دیا جانے لگا) موڑ دیا۔

ہمارے دانشور جو ملک سے باہر مقیم تھے ان کے ذریعے سال 2018 کے الیکشن کو ن لیگ بمقابلہ فوج قرار دلوانے کی بھونڈی کوشش کی گئی۔ ایسے میں ملک کے اندرونی حالات دنیا میں موجود مذہبی و سامراجی قوتوں کے عزائم کا تجزیہ نہیں کیا گیا اور اگر کسی نے کوشش کی تو اسے مذہبی بنیاد پرست اور مغرب مخالف قرار دیتے ہوے سننے سے انکار کیا گیا۔

روس کی سپر پاور ختم ہونے سے دنیا میں طاقت کا جو توازن بگڑا اس کا سب سے زیادہ نقصان مسلم دنیا کو پہنچا ہے، تباہی و بربادی کی ایسی داستانیں شروع ہوئیں جو اس سے قبل مسلم دنیا نے نہیں دیکھی تھیں۔

ان حالات میں پاکستانی فوج نے جس طرح پچھلے تیس سالوں سے جاری افغانستان میں امریکہ اتحادی افواج اور دہشت گردی کا مقابلہ کیا، پاکستان کو عراق۔ شام ،لبیا، یمن بننے نہیں دیا۔ اس کے لیے پاکستانی قوم عوام کے کردار کو سراہتی ہے اور کھل کر سامراجی کھیل کہ عوام اور فوج کو خانہ جنگی میں الجھا کر اپنے اپنے ناپاک عزائم پورے کرنے کو ناکام بنا دیا

سال 2018 کے الیکشن میں فوج کے خلاف پروپیگنڈا جس سیاسی پارٹی کی طرف سے شروع ہوا اسے خود مکافاتِ عمل سے گزرنا پڑا، وہ خود فوجی آمروں کی گود میں پلی بڑھی تھی اور ملک کو لوٹنے کھسوٹنے میں ہر حد پار کی۔

تاریخ ذوالفقار علی بھٹو کو خراج تحسین پیش کرتی ہے جس نے نے مزدور کا شعور بلند کیا۔

تاریخ ن لیگ کو یہ کریڈٹ دے گی کہ اس نے پوری قوم کو کرپشن کی راہ پر لگایا اور عمران خان کو یہ کریڈٹ ملے گا کہ اس نے عوام میں کرپشن کے خلاف شعور اور آگاہی دی۔

واپس اپنی اصل بات کی طرف آتے ہیں کہ ملک کے بگاڑنے یا سنوارنے میں تین قوتیں شامل ہیں
۱۔ سیاستدان

۲۔ اسٹیبلشمنٹ جس کو ہمارے ہاں فوج تصور کیا گیا ہے۔

تیسری قوت جو شروع سے ہر تاریخی موڑ پر موجود رہی اور اہم کردار ادا کرتی رہی لیکن بوجوہ اس طرح تنقید کا نشانہ نہیں بنی جس طرح سیاستدان اور فوج بنے۔ لیکن اب بغیر شک و شبہ کے تیسری قوت’’عدلیہ‘‘ہے

’’عوامی جج صاحب نے کھل کر پی پی پی کے پانچ سالہ دور حکومت میں اپنی طاقت دکھائی۔ اپنے اختیارات سے تجاوز کرکے حکومتی اختیارات میں دخل اندازی کرتے ہوے جمہوری حکومت کو مفلوج کیا اور آنے والی عدلیہ کے لئے ویسی ہی مثال قائم کی جو پہلے فوجی آمر نے پہلی جمہوری حکومت ختم کر کے آئندہ کی فوجی آمریتوں کے لئے راہ ہموار کی۔

جس طرح 2018 کے الیکشن کے بعد جوڈیشل ایکٹوازم میں اضافہ ہو رہا ہے، موجودہ حکومت کے ہاتھ پاؤں باندھے جا رہے ہیں بالکل اسی طرح جس طرح پی پی پی کی زرداری حکومت کی شہرت بنائی گئی کہ پرفارم /ڈیلیور نہیں کر سکی (جبکہ انہیں ڈیلیور کرنے نہی دیا گیا اور ان کا وجود جسے بڑے سے بڑا فوجی آمر ختم نہیں کر سکا ) جوڈیشل ایکٹوازم نے ختم کر دیا۔

بالکل اسی طرح موجودہ حکومت کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ملکی مفاد میں اپنی سیاسی، مذہبی وابستگیوں سے بالا تر ہو کر اندرونی حالات کا تجزیہ کریں۔ بیرونی قوتوں کے مقاصد کو سمجھیں اور اس تیسری قوت کو اپنی حدود میں رہنے پر مجبور کرنے کے لئے مشترکہ لائحہ عمل ترتیب دیں۔

تینوں بڑی سیاسی پارٹیوں کو بوتل سے نکلے اس جن کو واپس بوتل میں بند کرنا ہو گا اور ہمیشہ کے لئے کرنا ہو گا۔ تاکہ طاقت کا توازن قائم رہے۔ کیونکہ یہ تیسری قوت پہلی دو میں سے جس کے ساتھ مل جاتی ہے پلڑا ادھر جھک جاتا ہے۔

اور اس بارے میں بھی لازمی سوچنا چاہیے کہ پاکستان میں سے اس قدر محبت کرنے والے اور اپنے دورِ اقتدار میں اپنے دورِ ملازمت میںاس ملک کے عوام کے پیسوں سے ہر چیز خریدنے والے جج جرنیل اور دیگر لوگ آخر ملک چھوڑ کر یورپ امریکہ آسٹریلیا وغیرہ کیونکہ منتقل ہو جاتے ہیں اور اپنی پنشن وہاں بیٹھ کر وصول کرتے ہیں۔ ان کی حب الوطنی اس قدر کیوں رہ جاتی ہے کہ وہ اپنی اولاد کو وصیت کرتے ہیں کہ ہمارے تدفین پاکستان میں کی جائے۔

Please follow and like us:

اپنا تبصرہ بھیجیں