اے حمید (سوانحی خاکہ)

Spread the love

25 اگست 1928 تا 29 اپریل 2011

شبانہ صدیق

تحریر و تحقیق: شبانہ صدیق

کسی بھی ادیب یا شاعر کی تحریر کو بہتر طریقے سے جاننے کے لیے اس کی شخصیت، ماحول، خاندانی پس منظر اور تعلیم وغیرہ کو جاننا ضروری ہے۔ افسانہ نگار کی شخصیت، اس کی زندگی کے نشیب و فراز اور زندگی میں پیش آنے والے واقعات و مسائل کو جاننے کے بعد اس کی تحریر کا تجزیہ زیادہ بہتر انداز میں کیا جاسکتا ہے۔ کیونکہ وہ جو کچھ لکھتا ہے اسے عموماً زندگی کے مشاہدات و واقعات ہی سے اخذ کرتا ہے۔ افسانہ نگار کی سوانح ہمیں بعض امور میں خاصی مدد دے سکتی ہے۔

اے حمید کا اصل نام عبدالحمید ہے اور وہ ادبی دنیا میںاے حمید کے نام سے تصنیف و تالیف کرتے تھے۔ اے حمید کے آبا و اجداد ۱۸۵۷ء سے پہلے کشمیر سے ہجرت کر کے امرتسر میں آباد ہو گئے تھے۔ اے حمید اپنے دادا سے کافی متاثر تھے اور اکثر اوقات اپنے دادا جان کی عظمت، خودداری اور خود اعتمادی کا ذکر کرتے رہتے تھے۔

اے حمید کی ناکام داستان محبت پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

اے حمید کے والد کا نام خلیفہ عبدالعزیز تھا۔ ان کے والد بھی اپنے والد کی طرح شالوں کی رفوگری کا کا کام کرتے تھے۔ ان کے والد رفوگر کے علاوہ مشہور پہلوان بھی تھے۔ ان کے والد کی آرزو تھی کہ میرا بیٹا پہلوان بنے۔

انتظار حسین اپنی کتاب’’ملاقاتیں‘‘ میںلکھتے ہیں کہ:۔

’’خلیفہ عبدالعزیز امرتسر والے خود بڑے پہلوان تھے۔ بیٹے کو پہلوان بنانے کے در پے تھے مگر بیٹا آوارہ ہو گیا۔ عاشق پیشہ بنا اور افسانہ لکھنے لگا‘‘۱؎

’’………. والد صاحب منہ اندھیرے اٹھ کر اکھاڑے زور کرنے جایا کرتے تھے اور مجھے بھی انگلی پکڑ کر ساتھ لے جاتے کیونکہ باقی بھائیوں میں سے وہ صرف مجھے ہی پہلوان بنانا چاہتے تھے‘‘۲؎

بہر حال اے حمید اکھاڑے کے پہلوان تو نہ بن سکے لیکن ادبی اکھاڑے کے پہلوان ضرور بنے۔ اے حمید کے والد صاحب’’میر‘‘ خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور والدہ ’’بٹ‘‘برادری سے تعلق رکھتی تھیں۔ اے حمید لکھتے ہیں کہ میں ذات پات کے چکر میں کبھی نہیں پڑا۔ اِس لیے میں اپنے نام کے ساتھ نہ تو’’میر‘‘ لکھتا ہوں اور نہ ہی ’’بٹ‘‘ میں صرف اے حمید ہوں۔

اے حمید کہتے ہیں!

’’میرے والد صاحب مجھے بہت مارتے تھے اس کے باوجود میرے دل میں ان کے خلاف کبھی نفرت پیدا نہیں ہوئی تھی اور میں ان کی آخری عمر تک ان کا احترام کرتا تھا‘‘۔۳؎

اے حمید دسمبر ۱۹۲۴ء میں امرتسر کے محلہ کٹڑہ مہاں سنگھ میں پیدا ہوئے۔ وہ رسالہ’’ادب لطیف‘‘ میں اپنا تعارف اس طرح کرواتے ہیں۔
’’حالات اس سے زیادہ اور کچھ نہیں ہیں کہ ۱۹۲۴ء کو امرتسر میں پیدا ہوا اور اب لاہور میں اپنے ماں باپ کے ساتھ رہتا ہوں۔‘‘۴؎

وہ اپنی پیدائش کے متعلق نوائے وقت کے جمعہ میگزین میں لکھتے ہیں۔

’’میں بنیادی طور پر شہر کا رہنے والا ہوں۔ ایک ایسے شہر میں پیدا ہوا جس کا تمدن، عمل و ثقافت کی دولت سے مالامال تھا۔ ایک متوسط کشمیری گھرانے میں پیدا ہوا . . . . . . . . ‘‘؎۵

اے حمید نے پرائمری تعلیم محلے کے مشن سکول سے حاصل کی اور ایم۔ اے۔ او۔ ہائی سکول سے آٹھویں کا امتحان پاس کیا۔ وہ اپنی ابتدائی تعلیم اور بچپن کی شرارتوں کے متعلق کہتے ہیں۔’’میں نے چوتھی جماعت محلے کے مشن سکول میں پاس کی تو مجھے ایم۔ اے۔ او۔ ہائی سکول میں داخل کرا دیا گیا سکول کی چھٹی ہوئی، کشادہ ڈیوڑھی میں داخل ہوتے ہی میرا دل اداس ہو گیا۔ سکول بچپن ہی سے میرے لیے ایک ایسی چار دیواری ہوا کرتی تھی جس کے اندر مجھے ایک خاص وقت کے واسطے بند کر دیا جاتا اور جہاں ہر آدھ پون گھنٹے کے بعد میری پٹائی شروع ہو جاتی۔ میں پڑھائی میں نکما نہیں تھا۔ پٹائی اس لیے ہوئی تھی کہ میں شرارتیں بہت کرتا تھا۔ پڑھائی کے وقت کھڑکی سے باہر دیکھتا رہتا۔ منہ بند رکھ کر ایسی ڈراونی آواز نکالتا کہ ماسٹر صاحب حیران ہو کر اِدھر اُدھر تکنے لگتے کہ یہ آواز کہاں سے آئی۔ ڈیسک کے نیچے سے آگے بیٹھے ہوئے لڑکوں کو پاوں مارتا رہتا۔ دوسرے لڑکوں پر چاک کے ٹکڑے پھینکتا۔ جب تک ماسٹر صاحب نہ آتے بلیک بورڈ کے سامنے کھڑے ہو کر ان کی نقلیں اتارتا اور جب پکڑا جاتا تو پٹائی ہوتی‘‘۔۶؎

اے حمید پڑھائی کے دوران اکثر سکول سے بھاگ کر بمبئی (موجودہ ممبئی) یا لاہور چلے جاتے اور سکول سے ان کا نام خارج ہو جاتا۔ والدین اور اساتذہ واپسی پر پٹائی سے استقبال کرتے۔ سکول سے بھاگنے کی ایک وجہ تو یہ ہو سکتی ہے کہ وہ ایک سیلانی قسم کے آدمی تھے اور سکول میں زیادہ عرصہ پڑے رہنے سے اُکتا جاتے۔ دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ انہیں پڑھنے کا کوئی خاص شوق نہیں تھا، بلکہ بقول اے حمید:

’’میں بچپن میں پینٹر بننا چاہتا تھا یا خراد کا کام سیکھنا چاہتا تھا جو مجھے بچپن میں ہی بڑا اچھا لگتا تھا‘‘۔۷؎
اس کے علاوہ فلم ایکٹر بننے کی دھن بھی انہیں اکثر بمبئی، کلکتہ یا پھر لاہور کی طرف لے جاتی تھی۔ ’’لاہور کی یادیں‘‘ میں وہ لکھتے ہیں کہ
’’فلم ایکٹر بننے کا شوق یا خبط تو مجھے بھی شروع ہی سے تھا جس کی خاطر میں بمبئی اور کلکتے کی خاک بھی چھان چکا تھا میں کبھی کبھی لاہور والے اس فلم سٹوڈیوز کے چکر بھی لگایا کرتا تھا‘‘۸؎

دوران تعلیم نصابی کتابوں کے علاوہ اے حمید کو غیر نصابی کتابوں سے زیادہ شغف تھا۔ لائبریری میں بیٹھ کر کتابیں اور رسالے پڑھتے رہتے۔ مغربی اور روسی ادیبوں کی کہانیوں کے تراجم بھی پڑھتے تھے رسالہ’’ادبی دنیا‘‘ کا مطالعہ بھی کرتے، کہتے ہیں:

’’یہ میرے لڑکپن کا زمانہ تھا اور چونکہ میں کتابیں رسالے پڑھا کرتا تھا اس لیے اخباروں اور رسالوں سے مجھے بڑی دلچسپی ہوتی تھی‘‘۹؎

ایم۔ اے۔ او۔ ہائی سکول سے آٹھویں کا امتحان پاس کرنے کے بعد انہوں نے نویں جماعت کا امتحان گورنمنٹ ہائی سکول امرتسر اور دسویں جماعت کا امتحان رام گڑھی ہائی سکول سے پاس کیا۔

گھر سے بھاگ جانے کی وجہ سے انہوں نےکئی سکول بدلے اور میٹرک اکا امتحان قدرے توقف سے اٹھارہ اُنیس سال کی عمر میں پاس کیا۔ پڑھائی کے دوران انہوں نے کوئی ادبی کارنامہ سر انجام نہیں دیا۔ البتہ کتابوں کا خوب مطالعہ کیا اور مختلف افسانہ نگاروں کو بھی پڑھا۔ کرشن چند ان کے پسندیدہ افسانہ نگار تھے۔ اے حمید نے دوران تعلیم فارسی زبان بھی سیکھی کیونکہ ان کے والد انہیں فارسی سکھانا چاہتے تھے۔ جس کے لیے انہوں نے ایک استاد بھی مقرر کر رکھا تھا جس کا نام غلام محمد رفوگر تھا۔ ان کے والد صاحب کو انہیں فارسی سکھانے میں صرف اس لیے دلچسپی تھی کہ وہ ان سے شیخ سعدی کی فارسی حکایتیں سن سکیں۔ اے حمید کہتے ہیں کہ میرے والد شیخ سعدی کی حکایتیں سننے کے شوق کی وجہ سے مجھے ایک فائدہ ضرور ہوا کہ مجھے فارسی آگئی۔ اے حمید کل دس بہن بھائی تھے۔ جس میں سے چھ بہنیں ہیں جو اپنے اپنے گھر خوشحال زندگی گزار رہی ہیں۔ان کے ایک بھائی جو کچھ عرصہ پہلے وفات پاچکے تھے کو وہ بہت یاد کرتے تھے۔ اے حمید کہ یہ بھائی جن کا نام مقصود احمد تھا ان سے دو برس چھوٹے تھے انہیں وہ’’آرٹسٹ بھائی‘‘ اور ’’گریٹ بھائی‘‘ کے القاب سے یاد کرتے تھے۔ اے حمید کے ایک اور بھائی کا نام محمود احمد تھا۔ یہ مقصود احمد سے چھوٹے تھے اور کاروبار کرتے تھے۔ سب سے چھوٹے بھائی کا نام ارشاد غالب تھا اور یہ گورنمنٹ کالج راولپنڈی کے شعبہ جغرافیہ کے ہیڈ ہیں۔

اے حمید نے میٹرک تک پہنچتے پہنچتے جنوب مشرقی ایشیا کے اکثر علاقے دیکھ لیے تھے۔ میٹرک کرنے کے بعد وہ کچھ عرصہ ریلوے میں ملازم بھی رہے۔ لیکن اے حمید چونکہ رومانی آدمی تھے اس لیے ملازمت کرنا ان کے بس کا روگ نہ تھا وہ بھاگ کر سری لنکا چلے گئے۔ کچھ عرصہ بعد وہ رنگون چلے گئے۔

انتظار حسین اپنی کتاب ’’ملاقاتیں‘‘ میں لکھتے ہیں:۔

’’اے حمید رنگون سے واپس ہوا تو تقسیم ہو چکی تھی امرتسر جل رہا تھا۔ اے حمید لاہور پہنچا اور یہاں پھر اسے ایک لڑکی نظر آگئی۔ اس مرتبہ اس نے ڈائری نہیں لکھی۔ افسانہ ’’منزل منزل‘‘ لکھا۔ یہ اے حمید کا پہلا افسانہ ہے جو چھپا اور مقبول ہوا‘‘۔۱۰؎

بہر حال سیر و سیاحت کے بعد ۱۳ اگست ۱۹۴۷ء کو واپس آئے اسی روز اپنے گھر والوں کے ساتھ ہجرت کر کے لاہور آ گئے۔ لاہور میں مختلف علاقوں مثلاً فیض باغ، کرشن نگر، شاہدرہ وغیرہ میں رہتے رہے، اور پھر سمن آباد لاہور میں مکمل طور پر رہائش پذیر رہے۔

اے حمید نے لاہور آکر اوریئنٹل کالج سے ادیب فاضل کیا۔ وہ اورئینٹل کالج کی یادوں کے متعلق لکھتے ہیں کہ:۔

’’میں اسی کالج میں پڑھتا تھا اسی زمانے کے پرسکون اورئینٹل کالج کی یادیں بڑی حسین اور شگفتہ ہیں۔ اونچی چھت والے ٹھنڈے ٹھنڈے خاموش برآمدے اور کاریڈور محدود طلبا اور طالبات، علم کی فراوانی، علم حاصل کرنے والوں کی کامیابی، کشادہ خالی کمرے، کہیں فارسی کے استاد عبدالشکور حسین صاحب، کہیں ڈاکٹر عبادت بریلوی صاحب اور ڈاکٹر ابواللیث صدیقی صاحب لیکچر دے رہے ہیں تو کہیں ڈاکٹر سید عبداللہ، پروفیسر عبدالصمد صارم اور وقار صاحب نے کلاسیں لے رکھی ہیں‘‘۔۱۱؎

اے حمید اپنی ریڈیو سے وابستگی کے متعلق لکھتے ہیں:

’’۱۹۴۲ء میں میں کیپٹن ممتاز ملک کی زیر نگرانی رنگون ریڈیو سٹیشن سے پنجابی میں پانچ منٹ کی خبریں پڑھا کرتا تھا جبکہ میری عمر بہت چھوٹی تھی ۱۹۴۶ء میں ریڈیو سیلون سے وابستہ ہو گیا۔ اس کے بعد لاہور ریڈیو پر آگیا‘‘۔ ۱۲؎

ایک اور جگہ پر لکھتے ہیں:

’’جنوری ۱۹۴۸ء کے سالنامہ ادب لطیف لاہور میں میرا پہلا افسانہ شائع ہوا تو اسی افسانے کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے مجھے پاکستان کے لکھنے والوں کی پہلی صف میں بٹھا دیا‘‘۔ ۱۳؎

اے حمید ترقی پسند مصنفین سے بھی اثر لیتے تھے اور اس کے ممبر بھی رہے اس لیے ان کی تحریروں میں حقیقت نگاری بھی ملتی ہے ان کو بجا طور پر ایک حقیقت پسند رومینٹک ادیب کہا جا سکتا ہے، وہ حقیقت اور رومان کو ساتھ ساتھ لے کر چلتے تھے۔

ان کی بیوی کا نام ریحانہ قمر تھا اور وہ ایم اے بی ایڈ تھیں۔ وہ لاہور کی رہنے والی تھیں۔ اے حمید خود بھی ملازمت سے نفرت کرتے تھے اور بیوی کو بھی صاف کہہ دیا کہ ’’ریحانہ! ملازمت نہیں کرنی‘‘ سخت ضرورت اور فاقوں کے باوجود بیوی کو ملازمت نہ کرنے دی۔ اولاد کے معاملے میں وہ ’’بچے دو ہی اچھے‘‘ کے قائل تھے یوں ان کی دو اولادیں ہیں ایک لڑکا اور ایک لڑکی۔ لڑکے کا نام مسعود حمید ہے اور اپنے چچا کی طرح آرٹسٹ ہے اور اس نے لفظ کی بجائے برش اور رنگ کو ترجیح دی ہے۔ بہر حال انہوں نے نیشنل کالج آف آرٹس سے فائن آرٹس کی تعلیم حاصل کی اور وہیں درس و تدریس کے فرائض انجام دیئے اور بیٹی نے کمپیوٹر سائنس میں ایم ایس سی کی اور سٹی بنک میں کمپیوٹر پروگرامر رہیں۔

اے حمید نے باقاعدہ طور ملازمت تو نہیں کی البتہ ۱۹۴۷ء میں ریڈیو پاکستان لاہور سے وابستہ رہے۔ ان کی خدمات کے طور پر ریڈیو پاکستان نے ان کو ملازمت کی پیش کش کی جو انہوں نے ’’تقریب کچھ تو بہر ملاقات چاہیے‘‘ کے مصداق قبول کر لی تاکہ اپنے ادیب دوستوں سے تعلق قائم رہے۔ اس سلسلے میں وہ کہتے ہیں کہ:

’’ہم لوگ صرف اس بات میں بڑے خوش تھے کہ روز شاعر ادیب دوستوں سے ملاقات ہو جاتی ہے کینٹین میں بیٹھ کر اکٹھے چائے پیتے ہیں باتیں کرتے ہیں۔ باغیچے میں کھلے ہوئے گلاب کے پھولوں کو قریب جا کر دیکھتے‘‘۔ ۱۴؎
لیکن اس کے باوجود وہ ملازمت برقرار نہ رکھ سکے اور امریکہ چلے گئے وہ کہتے ہیں

’’ستم ظریفی یہ ہوئی کہ سرکاری ملازم ہونے کی وجہ سے میرے پاوں میں کئی ایک زنجیریں پڑ گئیں، ان میں سب سے زیادہ ناقابلِ برداشت تبادلے کی تھی ……….آخر ایک دن میں نے یہ سب زنجیریں توڑ ڈالیں اور امریکہ بھاگ گیا‘‘۱۵؎

امریکہ کے لیے ان کا چناو براڈ کاسٹر کے طور پر اہلیت کی بنا پر ہوا تھا وہ چونکہ سیلانی اور رومانی آدمی تھے اس لیے امریکہ جانے کو ترجیح دی۔
اے حمید بہت سی اخلاقی خوبیوں کے مالک تھے۔ خوش مزاج اور ملنسار تھے۔ وعدے کے پکے تھے۔ صوفی منش آدمی تھے ان کی صحت کافی اچھی تھی جب ان کی صحت کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا’’کشمیری کبھی بوڑھے نہیں ہوتے‘‘ گورا چٹا، خوبصورت، دبلا پتلا جسم، سیدھی قامت، چال میں متانت اور وقار، چہرے پر مسکراہٹ اور شگفتہ طبیعت یہ ہیں ان گنت اوصاف میں سے چند اوصاف۔ اے حمید کو فطرت سے بہت لگاو تھا۔ باغات اور پھولوں سے محبت تھی۔ اس وجہ سے وہ بلاناغہ صبح کی سیر کرتے تھے اور یہ عادت ان کی بچپن سے تھی۔ امرتسر میں بھی ان کا گھر کمپنی باغ کے ساتھ تھا اور یہاں لاہور میں بھی باغات کی کمی نہیں وہ اس سلسلے میں لکھتے ہیں:

’’………. اکھاڑے کے چاروں طرف امرود کے بڑے درخت تھے ان درختوں سے کچے امرودوں کی مہک آیا کرتی تھی جوں جوں بڑا ہوتا گیا درختوں، نہروں، کھیتوں، شبنم طلوع آفتاب اور منہ اندھیرے کے مرطوب پاکیزہ دھندلکوں سے میری محبت بڑھتی گئی۔ امرتسر سے ہجرت کر کے لاہور آیا تو شادباغ کے کھیتوں اور دور شاہ حسین کے مزار تک جاتے ناشپاتیوں کے باغوں نے امرتسر کے باغوں کو بھلا دیا‘‘۱۶؎

اے حمید کو لاہور سے بڑی محبت تھی۔ وہ بچپن میں اکثر لاہور کی طرف بھاگ کر آجایا کرتے تھے۔ پردیس میں جا کر وہ لاہور کو اور زیادہ شدت سے یاد کرتے تھے وہ کہتے ہیں:-

’’میں جہاں بھی ہوتا ہوں لاہور مجھے اپنی طرف ضرور بلاتا ہے‘‘۔۱۷؎

ان کا حافظہ بہت اچھا ہے لیکن وہ غیر ضروری باتوں کو جلد بھول جاتے تھے۔ لیکن جن باتوں سے انہیں رغبت ہو انہیں وہ کبھی نہیں بھولتے، وہ کہتے ہیں:-

’’میرا حافظہ مجھ سے عمر میں بڑا تھا قدرت نے واقعی مجھے بڑی تیز یاداشت سے نوازا ہے‘‘۱۸؎

انہوں نے کچھ فلموں کے لیے بھی کام کیا ہے۔ ٹیلی ویژن کے لیے کچھ ڈرامے بھی لکھے ہیں۔ ریڈیو پر تو ان کے کافی ڈرامے، فیچر اور بچوں کے پروگرام نشر ہوتے رہے ہیں۔۱۹۶۱ء میں ان کے پنجابی ڈرامہ’’ڈاچی‘‘ کو پاکستان ٹیلی ویژن ایوارڈ مل چکا ہے۔ ریڈیو پر بھی انہیں ۶۹۔۱۹۶۸ء میں ڈرامہ’’خونِ صد ہزار انجم‘‘ اور ۹۱۔۱۹۹۰ء میں ڈرامہ’’شہر اور جنگل‘‘ پر بہترین مصنف کے ایوارڈ مل چکے ہیں۔

اے حمید خوبصورت چیزوں کو پسند کرتے تھے وہ کہتے ہیں کہ مجھے سفید کاغذ پر لکھنا بہت اچھا لگتا ہے۔ سفید کاغذ پر میری لکھی ہوئی لائنیں سیدھی رہتی ہیں جبکہ لکیر دار کاغذ پر میری لکھی ہوئی لکیریں خود بخود ٹیڑھی ہو جاتی ہیں اور واقعی وہ لکیر کے فقیر نہیں تھے بلکہ رومانی ادیب تھے۔

اے حمید نے کبھی اپنی کہانی ایک نشست میں نہیں لکھی۔ وہ چار چار نشستوں میں کہانیاں لکھتے تھے۔ وہ دوستوں کے ساتھ اچھی اور معیاری چائے پینا بہت پسند کرتے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ چائے سے میں عشق کرتا ہوں وہ مقدار کی بجائے معیار کو ترجیح دیتے تھے کیونکہ وہ پہلوانوں کے گھرانے سے تھے اس لیے نفاست اور عمدگی سے کھانے پینے کا خیال رکھتے تھے۔ وہ دودھ دہی فراوانی سے استعمال کرتے تھے۔ اے حمید سگریٹ بھی پیتے تھے لیکن کم پیتے تھے، البتہ خاص موقعوں پر بڑئے اہتمام سے پیتے تھے۔ اپنی اس عادت کا ذکر کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں:

’’آج بھی بار بار سگریٹ نہیں پیتا۔ دن میں چند ایک سگریٹ پیتا ہوں اور خاص موقع پر پورے اہتمام کے پیتا ہوں‘‘۔ ۱۹؎

اے حمید زردہ بڑے شوق سے کھاتے تھے۔ انہیں ذردہ بہت ہی پسند تھا، وہ زردے کو پلاو کے ساتھ مکس کر کے بھی کھاتے تھے۔ ایک جگہ کہتے ہیں:۔

’’وقار صاحب کو زردہ بہت پسند تھا۔ زردہ میری بھی کمزوری رہا ہے‘‘۔۲۰؎

اے حمید کھیلوں میں کرکٹ اور ہاکی کو بہت زیادہ پسند کرتے تھے۔ عمران خان اور وسیم اکرم ان کے پسندیدہ کھلاڑی تھے۔
اے حمید گورنمنٹ کالج لاہور اور کنیرڈ کالج لاہور کو بہت زیادہ پسند کرتے تھے۔ ان کی بیوی بھی گورنمنٹ کالج لاہور کی پڑھی ہوئی تھی۔ وہ پیلے رنگ کو بہت پسند کرتے تھے اس کے علاوہ فالسے کو چھیل کر نکلنے والا ہلکا کاسنی کلر بھی انہیں بہت پسند تھا۔ انہیں میوزک سے بھی بہت زیادہ دلچسپی تھی وہ کہتے ہیں:۔

’’امرتسر کے کمپنی باغ میں ایک بارہ دری تھی اس میں آواز گونجتی تھی میں صبح صبح اس بارہ دری میں بیٹھ کر سہگل کے گانے گایا کرتا تھا‘‘۔۲۱؎

اے حمید کہتے ہیں کہ مجھے سونے کا بہت شوق ہے رات کو میں جلدی سو جاتا تھا۔ وہ کہتے ہیں:

’’میں سوتا اس لیے ہوں کہ مجھے اچھے اچھے خواب دکھائی دیں رات کو جب سوتا ہوں تو مجھے خواب دکھائی دیتے ہیں۔ رنگون، کولمبو، امرتسر کو میں کبھی نہیں بھول سکتا۔ جنگل لڑکیاں خواب میں سارے سفر کر ڈالتا ہوں‘‘۔۲۲؎

اے حمید نے ادب کی بہت خدمت کی لیکن انہیں کبھی معاشی مسائل سے چھٹکارہ نہ مل سکا۔ امریکہ میں رہ کر انہوں نے جو کمایا اس سے یہاں آخر مکان بنوایا اگر وہ امریکہ نہ جاتے تو شاید دوسرے ادیبوں کی طرح گھر کی پرسکون چھت سے بھی محروم رہتے۔ اس کے باوجود بھی انہیں پاکستان سے بڑی محبت تھی وہ پاکستان کے لوگوں سے بلکہ پاکستان کے ذرے ذرے سے محبت کرتے تھے اور پاکستان کو اپنی جہت کہتے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ پاکستان کا پورا ملک ہی اچھا ہے۔ تمام علاقوں کے لوگ مجھے پسند ہیں، امریکہ کی حکومت نے ان کی پوری فیملی کو امریکہ جانے کے ویزے دینے کی پیشکش کی تھی لیکن انہوں نے اپنے ملک ’’پاکستان‘‘ میں رہنے کو ترجیح دی اور ان کی پیش کش کو ٹھکرادیا۔ وہ کہتے ہیں:

’’یورپ اور امریکہ ٹیکنیکل مہارت حاصل کرنے یا سیرو سیاحت کرنے والے ملک ہیں وہاں اپنی اولادیں آباد کرنے والے ملک نہیں‘‘۔ ۲۳؎

اے حمید نے افسانوی ادب میں بہت سے گراں قدر شہ پاروں کا اضافہ کیا اور بہت سے ناول، ناولٹ اور دیگر کتابیں لکھیں۔ انہوں نے بچوں کے لیے بہت سی کہانیاں لکھیں۔ ان کے افسانے زیادہ تر’’ادب لطیف‘‘، ’’سویرا‘‘ اور ’’نقوش‘‘ میں چھپتے رہے۔ انہوں نے اپنی یادوں کے متعلق بھی نوائے وقت کے جمعہ میگزین میں ایک سلسلہ شروع کیا ہوا تھا۔

حوالہ جات

۱۔ محمد صفدر، اے حمید کی افسانہ نگاری، تحقیقی مقالہ برائے ایم اے اُردو لاہور: پنجاب یونیورسٹی اورئینٹل کالج،۱۹۹۲۔ ص ۳۱
۲۔ ایضاً، ص:۳۲
۳۔ ایضاً، ص:۳۳
۴۔ ایضاً، ص:۳۳
۵۔ ایضاً، ص:۳۴
۶۔ ایضاً، ص:۳۴
۷۔ ایضاً، ص:۳۵
۸۔ اے حمید، افسانہ پرانے لاہور کے فلم سٹوڈیوز، افسانوی مجموعہ ’’لاہور کی یادیں‘‘، مشمولہ اے حمید، لاہور: سنگ میل پبلی کیشنز، ۱۹۹۳ء ص ۳۱
۹۔ اے حمید افسانہ لاہور کی ادبی محفلیں قیام پاکستان سے پہلے، افسانوی مجموعہ ’’لاہور کی یادیں‘‘، ص ۲۸۱
۱۰۔ محمد صفدر، اے حمید کی افسانہ نگاری، تحقیقی مقالہ برائے ایم اے اُردو لاہور: پنجاب یونیورسٹی اورئینٹل کالج، ۱۹۹۲ء ص ۴۰
۱۱۔ اے حمید، افسانہ لاہور کا ایک خاموش دانشور، افسانوی مجموعہ لاہور کی یادیں، ص ۳۶۱۔
۱۲۔ محمد صفدر، اے حمید کی افسانہ نگاری، تحقیقی مقالہ برائے ایم اے اُردو، لاہور: پنجاب یونیورسٹی اورئینٹل کالج، ۱۹۹۲، ص ۴۱
۱۳۔ ایضاً، ص ۴۲
۱۴۔ اے حمید، افسانہ لاہور کا چلیسی۔ بھاٹی دروازہ، افسانوی مجموعہ ’’لاہور کی یادیں‘‘، ص ۳۵۰
۱۵۔ ایضاً، ص ۳۵۱
۱۶۔ اے حمید، افسانہ لاہور کا باغ جناح، افسانوی مجموعہ ’’لاہور کی یادیں‘‘، ص ۳۸۷
۱۷۔ اے حمید، افسانہ لاہور۔ شہر الف لیلیٰ، افسانوی مجموعہ ’’لاہور کی یادیں‘‘، ص ۲۴
۱۸۔ محمد صفدر، اے: حمید کی افسانہ نگاری، تحقیقی مقالہ برائے ایم اے اُردو، لاہور: پنجاب یونیورسٹی اورئینٹل کالج،۱۹۹۲ء ص ۴۹
۱۹۔ اے حمید، افسانہ لاہور کے گم شدہ چہرے، افسانوی مجموعہ ’’لاہور کی یادیں‘‘، ص ۳۷۴
۲۰۔ اے حمید، افسانہ لاہور کا خاموش دانشور، افسانوی مجموعہ’’لاہور کی یادیں‘‘، ص ۳۶۶
۲۱۔ محمد صفدر، اے؛ حمید کی افسانہ نگاری، تحقیقی مقالہ برائے ایم اے اُردو، لاہور: پنجاب یونیورسٹی اورئینٹل کالج، ۱۹۹۲، ص ۵۲
۲۲۔ ایضاً، ص ۵۲
۲۳۔ ایضاً ص ۵۴

Please follow and like us:

اپنا تبصرہ بھیجیں