آدمی کو ایک دن میں 12گھنٹے کام کرنا چاہیے،چین کے امیر ترین شخص کی منطق

Spread the love

بیجنگ(مانیٹرنگ ڈیسک) آدمی کو روزانہ کتنے گھنٹے کام کرنا چاہیے؟ چین کے

امیر ترین آدمی نے اس سوال کا ایسا جواب دے دیا ہے کہ تمام اندازے غلط ثابت

کر دیئے ہیں۔ میل آن لائن کے مطابق آن لائن مارکیٹ پلیس ’علی بابا‘ کے بانی

اور چین کے امیر ترین آدمی ’جیک ما‘کا کہنا ہے کہ ’’آدمی کو دن میں 12گھنٹے

کام کرنا چاہیے۔‘‘ یہی نہیں بلکہ جیک ما نے 12گھنٹے کام کو ایک نعمت قرار دیا

اور کہا کہ جو لوگ 12گھنٹے کام نہیں کرتے وہ اس نعمت سے محروم ہیں۔جیک

ما نے کہا کہ ان کی کمپنی میں ملازمین ہفتے میں 72گھنٹے کام کرتے ہیں جو کہ

ایک نعمت ہے۔ رپورٹ کے مطابق علی بابا کے ملازمین ہفتے میں چھ دن صبح

9سے رات 9 بجے تک دفتر میں کام کرتے ہیں۔کمپنی کے ’وی چیٹ‘ اکائونٹ پر

پوسٹ کیے گئے جیک ما کے بیان میں انہوں نے مزید کہا ہے کہ ’’کئی کمپنیاں

اور لوگ ہفتے میں 72گھنٹے کام نہیں کرتے۔ اگر لوگ نوجوانی میں اتنا کام نہیں

کرتے تو پھر کب کریں گے؟ اس دنیا میں ہر شخص کامیابی اور بہتر زندگی چاہتا

ہے۔ ہر شخص چاہتا ہے کہ اس کی معاشرے میں عزت ہو۔ ایسے میں میں لوگوں

سے کہتا ہوں کہ اگر آپ دوسروں سے زیادہ وقت اور توانائی اپنے کام پر صرف

نہیں کرو گے تو کامیابی کیسے پا سکتے ہو؟‘‘

Please follow and like us:

اپنا تبصرہ بھیجیں