24 مارچ کے واقعات ایک نظر میں

Spread the love

واقعات

1837ء کینیڈا میں افریقی باشندوں کو ووٹ دینے کی اجازت دی گئی۔

1934ء امریکہ نے فلپائن کو انیس سو پینتالیس میں آزادی دینے کا اعلان کیا۔

1940ء قرارداد پاکستان لاہور ميں منظور کی گئی۔

1985ء جنرل ضیاء الحق نے محمد خان جونیجو کو وزیر اعظم پاکستان مقرر کیا۔

1992ء برطانوی مزاحیہ تنقیدی رسالہ “پنچ” 150 سال جاری رہنے کے بعد اس اشاعت ختم کر دی گئی
2015 کو جرمنی کا طیارہ اے 320 بارسلونا سے جرمنی کے شہر ڈزلڈورف جاتے ہوئے فرانس کے پہاڑی سلسلے ’’فرنچ ایلپس‘‘ پرگر کر تباہ ہو گیا تھا۔ اس طیارے میں سوار 148 مسافر اور عملے کے ارکان ہلاک ہو گئے تھے۔

2008ء سید یوسف رضا گیلانی پاکستان کے وزیر اعظم بنے۔

ولادت

1884ء پیٹر ڈیے، اک جرمن نژاد امریکی فزکس اور فزیکل کیمسٹری کا ماہر تھا انھوں نے مالیکیولز کے دو پولز کے حوالے سے کام کیا۔ انھیں 1936 میں کیمسٹری کا نوبل انعام دیا گیا۔ ان کا انتقال 24 جولائی 1974ء کو ہوا۔

1903ء اڈلف بیوٹنندٹ، ایک جرمن حیاتیاتی کیمیادان اور نازی پارٹی کے کارکن تھے۔ انہوں نے 1939ء کا نوبل انعام کیمسٹری میں جماع میں معاون ہارمونوں پر کام کرنے پر دیا گیا۔ انہوں نے اپنی حکومت کی پالیسی کے سبب ابتدا میں یہ انعام وصول نہی کیا لیکن دوسری جنگ عظیم کے خاتمے پر انھوں نے 1949ء میں اسے وصول کیا۔

1917ء ایک برطانوی سالماتی حیاتیات دان تھے جنھوں نے 1962ء کا نوبل انعام برائے کیمیا میکس پیروٹز کت ساتھ مشترکہ طور پر جیتا جس کی وجہ انکی جانب سے کیا گیا ہیمو گلوبن اور مایوگلوبن کا مطالعہ تھا۔ ان کا انتقال 23 اگست 1997ء کو ہوا۔

1923ء معروف دانشور، مصنف اور نقاد۔ ممتاز مفتی اور اشفاق احمد کے دوست رہے۔ کئی کتب تصنیف کیں۔ جن میں خاکے اور ناول وغیرہ شامل ہیں۔ ان کی مشہور تصانیف میں خاکوں پر مبنی کتاب ’جو ملے تھے راستے میں‘ اور ’ دل بھٹکے گا‘ شامل ہیں۔ ناول ’ منزل منزل دل بھٹکے گا‘ اور انگریزی ناول رقص کرتے بھیڑیے (ڈانسنگ وولف)شامل ہیں۔ خود انہوں نے ایک فلم نیلا پربت بنائی تھی جو کامیاب نہیں ہو سکی تھی۔ ان کی دو بیٹیاں سنبل اور نیلم بشیر مصنفہ ہیں جبکہ ان کی ایک بیٹی بشریٰ انصاری ٹی وی کی معروف فنکارہ ہیں۔ کینسر کے عارضے کی وجہ سےان کا انتقال 25 دسمبر 2004 کو لاہور میں ہوا۔

1928ء حبیب جالب، (اردو شاعر) ان کے بارے میں ان کے یوم وفات 12 مارچ کے ذیل میں بیان کیا گیا ہے ملاحظہ فرمائیں۔

1932ء امراؤ طارق، پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے نامور ناول نگار اور افسانہ نگار اور نقاد تھے۔فتح پور چوراسی، اترپردیش، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے مگر انہوں نے اپنا بچپن شاہ پور میں گزارا جہاں ان کے والد ایک زمیندار گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کا اصل نام سید امراؤ علی تھا انہیں ان کے افسانوں کے مجموعے بدن کا طواف پر آدم جی ادبی انعام ملا۔ سندھ یونیورسٹی میں ایم فل کی ایک طالبہ نے امراؤ طارق پہ تحقیق کی اور اپنا مقالہ امراؤ طارق، فن و شخصیت کے عنوان سے 1997ء میں شائع کیا۔ یہ کتاب امراؤ طارق کے ادبی سفر پہ سب سے مستند دستاویز ہے
بہاءالدین زکریا یو نیورسٹی ملتان کے ایم۔ اے اردو کے طالب علم آصف بلوچ نے 1998 میں امراؤ طارق پر تحقیقی مقالہ لکھا۔ جس کا عنوان”امراؤ طارق شخصیت اور فن” ہے۔ امراؤ طارق 8 دسمبر، 2011ء کو خون کے سرطان کے مرض میں مبتلا ہوکر کراچی میں انتقال کر گئے۔ پس ماندگان میں انہوں نے بیوی اور پانچ بچے چھوڑے ہیں۔

1944ء ضمیر اختر نقوی، (عالم، مذہبی رہنما، خطیب اور اردو شاعر ہیں)

وفات

809ء ہارون الرشید، پانچویں اور مشہور ترین عباسی خلیفہ تھے۔ وہ 786ء سے 24 مارچ 809ء تک مسند خلافت پر فائز رہے اور ان کا دور سائنسی، ثقافتی اور مذہبی رواداری کا دور کہلاتا ہے۔ ان کے دور حکومت میں فن و حرفت اور موسیقی نے بھی عروج حاصل کیا۔ ان کا دربار اتنا شاندار تھا کہ معروف کتاب “الف لیلیٰ” شاید انہی کے دربار سے متاثر ہوکر لکھی گئی۔ ہارون الرشید کا پیدائش کا سال 763ء بیان کیا گیا ہے۔

2002ء سیسر میلسٹین ایک ارجنٹینیائی حیاتیاتی کیمیاءدان تھے جنھوں نے 1984ء کا نوبل انعام حاصل کیا تھا۔ انھیں برطانوی شہریت بھی دی گئی تھی۔ وہ 8 اکتوبر 1927 کو پیدا ہوئے۔

2012ء محمد اقبال، اس کے اندر سلطان باہو کے کلام کی بوٹی یوں لگی کہ اس کی مشک نے محمد اقبال کو اقبال باہو کر دیا۔ محمد اقبال نے ایک نوجوان کے طورپر انیس سو ستر میں ریڈیو پاکستان لاہور سے اپنے فن کا آغاز کیا۔ وہ پنجابی لوک گیت گانے میں مہارت رکھتے تھے اور انہیں پنجاب کی تمام لوک داستانیں ازبر تھیں۔ انہوں نے ہیر کی معروف طرز میں ایک جدت پیدا کرکے اہل فن سے بہت داد بھی حاصل کی لیکن جس کلام نے انہیں سارے بر صغیر میں متعارف کرایا وہ حضرت سلطان باہو کا کلام تھا۔ محمد اقبال، باہو کا کلام اتنا ڈوب کر گاتے تھے کہ ان کے مداحوں نے ان کانام ہی اقبال باہو رکھ دیا۔ سن انیس سو پچھتر میں انہوں نے پہلی بار ریڈیو پاکستان کراچی اور پاکستان ٹیلی ویژن کراچی سینٹر سے اپنے فن کا مظاہرہ کیا اور یوں ان کی دھوم ملک کے طول و عرض میں پھیل گئی۔ اقبال باہو کی آواز کو گلی گلی اور گاؤں گاؤں تک پہنچانے میں ستر کے عشرے میں بپا ہو نے والے ’کیسٹ انقلاب‘ کا بڑا ہاتھ ہے۔ سن انیس سو اسی کے آس پاس کیسٹوں کی بدولت اقبال باہو کی آواز پاک و ہند کے گوشے گوشے میں پہنچ چکی تھی۔ پیشے کے لحاظ سے اقبال باہو ایک بینکر ہیں اور نیشنل بنک میں ایک اعلیٰ عہدے سے ریٹائر ہوئے ہیں۔ سن انیس اسی ہی کے زمانے میں انہوں نے ٹیلی ویژن کے مشہور سیریل ’وارث‘ میں بھی کام کیا تھا اور ان کی شہرت میں اس کردار کا بھی بڑا دخل ہے۔ ان کا کی پیدائش 1944 میں ہوئی۔

تعطیلات و تہوار

1924ء یونان جمہوری ملک بنا۔

ٹی بی کا عالمی دن

Please follow and like us:

اپنا تبصرہ بھیجیں