یورپ کا تجارتی طریقہ ہمارے ساتھ گھٹیا مذاق ہے، ایرانی سپریم لیڈر

Spread the love

ہمیں مغرب سے ہماری معیشت کو مضبوط کرنے میں تعاون کی امید نہیں کرنی چاہیے، آیت اللہ خامنہ ای کاخطاب

تہران(مانیٹرنگ ڈیسک، صباح نیوز) ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے امریکی پابندیوں سے بچنے کے لیے یورپی ممالک کے متعارف کردہ تجارتی طریقہ کار کوایران کے ساتھ گھٹیا مذاق قرار دے دیا۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کے سرکاری ٹی وی کی جانب سے جاری کیے گئے خطاب میں انہوں نے کہا کہ یہ نیا مالیاتی طریقہ جو انہوں نے بنایا ہے مذاق لگتا ہے،

ایک گھٹیا مذاق۔ واضح رہے کہ برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے رواں سال جنوری میں اسپیشل پیمنٹ سسٹم(انٹیکس)متعارف کرایا تھا جو ایران کے ساتھ تجارتی تبادلوں میں تعاون فراہم کرتا ہے۔ ان ممالک کی جانب سے یہ نیا نظام، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران اور عالمی قوتوں کے درمیان2015 کا جوہری معاہدہ گذشتہ سال مئی میں ختم کرنے کے بعد متعارف کرایا گیا تھا۔ تینوں ممالک اس معاہدے میں یورپی نمائندگی کرنے والے تھے جس پر روس، امریکہ اور چین کے بھی دستخط موجود تھے۔ لندن، پیرس اور برلن کی جانب سے یہ طریقہ کار اس امید سے متعارف کرایا گیا تھا کہ اس سے تہران کو واشنگٹن کی دوبارہ پابندیاں عائد کیے جانے کے باوجود یورپی ممالک سے تجارت کرنے کا موقع فراہم ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: یورپ امریکی پابندیوں کے خلاف ایران کی مدد نہیں کرسکے گا،علی خامنہ ای

انہوں نے کہا کہ انہیں جو کرنا چاہیے تھا اور جو وہ کر رہے ہیں، اس میں اتنا ہی فرق ہے جتنا آسمان اور زمین میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں مغرب سے ہماری معیشت کو مضبوط کرنے میں کسی بھی قسم کے تعاون کی امید نہیں کرنی چاہیے، ہمیں ان کا انتظار نہیں کرنا چاہیے، یہ لوگ وحشی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایک مرتبہ پھر یورپی ممالک نے ہماری کمر میں چھرا گھونپا ہے، انہوں نے ہمیں دھوکا دیا ہے۔

Please follow and like us:

اپنا تبصرہ بھیجیں