وزیراعظم عمران خان سمیت عالمی رہنماوں نے کرائسٹ چرچ میں دو مساجد پر ہونے والے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت

Spread the love

واشنگٹن،اسلام آباد(انٹرنیشنل ڈیسک، مانیٹرنگ ایجنسیاں)وزیراعظم عمران خان سمیت عالمی رہنماوں نے کرائسٹ چرچ میں دو مساجد پر ہونے والے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے متاثرین سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مسجد میں خطرناک قتل عام پر میں نیوزی لینڈ کے عوام کے لیے نیک خواہشات اور دلی ہمدردی کا اظہار کرتا ہوں، 49 افراد کو بے حسی سے قتل کردیا گیا جبکہ مزید متعدد بری طرح زخمی ہیں، نیوزی لینڈ کے لیے ہم جو بھی کر سکیں، اس کے لیے ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔

ترک صدر طیب اردوان نے بھی اس حملے کی سختی سے مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اللہ متاثرین پر رحم کرے اور زخمیوں کو جلد صحتیاب کرے۔ایک سابق وزیر کی نماز جنازہ کے بعد میڈیا سے گفتگو میں صدر طیب اردوان نے اس افسوناک واقعے پر مسلم دنیا سے تعزیت کی اور اسے اسلاموفوبیا کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسلام سے نفرت کے نتیجے میں کیے جانے والے حملے مغربی برادری پر کینسر کی طرح حاوی ہوتے چلے جا رہے ہیں۔

برطانوی وزیر اعظم تھریسامے نے کہا کہ کرائسٹ چرچ میں ہولناک دہشت گرد حملے پر میں برطانیہ کی طرف سے نیوزی لینڈ کے عوام سے تعزیت کرتی ہوں۔ میری نیک تمنائیں اس بیمار ذہنیت کے حملے کے متاثرہ افراد کے ساتھ ہیں۔روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے کرائسٹ چرچ دہشت گرد حملے نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم سے تعزیت کی۔یورپی کمیشن کے صدر جین کلاڈ جنکر نے کہا کہ یورپی یونین ہمیشہ نیوزی لینڈ کے ساتھ کھڑی رہے گی اور ہم ان لوگوں کے خلاف جو ہمارے معاشرے کو تباہ اور ہماری جان لینے کے درپے ہیں۔

مغربی یورپ میں مسلمانوں کا سب سے بڑا گھر تصور کیے جانے والے ملک فرانس کے وزیر داخلہ کرسٹوف کیسٹینر نے خطے کے دیگر ملکوں پر زور دیا کہ وہ احتیاطا مساجد کی سیکیورٹی بڑھا دیں۔

لندن کے میئر صادق خان نے کہا کہ میٹرو پولیٹن پولیس مساجد کے باہر واضح طور پر نظر آئے گی، لندن دہشت گرد حملے کا سامنے کرنے والے کرائسٹ چرچ کے عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔واضح رہے کہ ماضی میں لندن میں بھی مسجد پر حملہ ہو چکا ہے اور 2017 میں ڈیرن اوبورن نامی شخص نے مسجد سے نماز پڑھ کر نکلنے والوں پر گاڑی چڑھا دی تھی جس کے نتیجے میں کم از کم ایک شخص ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے تھے۔

نیوزی لینڈ کی مساجد پر ہونے والے حملے کی مذمت سامنے آرہی ہے جس میں دنیا کی سب سے زیادہ مسلمان آبادی والے ملک انڈونیشیا نے بھی حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے لواحقین سے اظہار افسوس کیا۔انڈونیشیا کی وزیر خارجہ ریٹنو مرسودی کے مطابق حملے کے وقت 6 انڈونیشی النور مسجد میں موجود تھے جن میں سے 3 افراد فائرنگ سے محفوظ رہے جبکہ ہم دیگر 3 افراد کو تلاش کررہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ویلنگٹن میں موجود انڈونیشیئن سفارتخانہ مقامی حکام کے تعاون سے ایک ٹیم کرائسٹ چرچ روانہ کردی، انہوں نے بتایا کہ کرائسٹ چرچ شہر میں مجموعی طور پر 330 انڈونیشی شہری موجود ہیں جس میں 130 طالبعلم ہیں۔

آسڑیلوی وزیراعظم اسکاٹ موریسن نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے دہشت گرد نے کیا، اس کے ساتھ انہوں نے حملہ آور کی آسٹریلوی شہری ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی حکام اس حوالے تحقیقات کررہے ہیں۔

برطانوی سیکریٹری خارجہ جرمی ہنٹ نے ٹوئٹ کرتے ہوئے مساجد میں ہونے والے حملوں پر نیوزی لینڈ کی عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا۔اس کے علاوہ ملائیشیا کی سب سے بڑی حکومتی اتحادی جماعت نے اس حملے میں ایک ملائیشین شہری کے زخمی ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے اسے انسانیت اور عالمی امن کے لیے سیاہ سانحہ قرار دیا۔

بنگلہ دیشی وزیر خارجہ شہریار عالم نے کہا کہ ہم انتہائی خوش قسمت ہیں کہ کرائسٹ چرچ میں میچ کیلیے موجود ہماری ٹیم کے کسی کھلاڑی کو ایک خراش تک نہیں آئی، جس وقت فائرنگ شروع ہوئی تو کھلاڑی جمعے کی نماز کے لیے آ رہے تھے۔انہوں نے مزید کہا کہ میں تصور نہیں کر سکتا کہ اگر وہ چار سے پانچ منٹ پہلے وہاں پہنچ جاتے تو کیا ہوتا۔

متحدہ عرب امارات کے خارجہ امور کے سربراہ انور گرگاش نے بھی واقعے کی مذمت کرتے ہوئے نیوزی لینڈ سے افسوس کا اظہار کیا۔جرمنی کے وزیر خارجہ ہیکو ماس نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے اہلخانہ اور نیوزی لینڈ سے گہرے دکھ و افسوس کا اظہار کیا۔انہوں نے لکھا کہ اس خطرناک دہشت گرد حملے میں پرامن انداز میں نماز پڑھتے ہوئے مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا، اگر لوگوں کو مذہب کی بنیاد پر نشانہ بنایا جا رہا ہے تو یہ ہم سب پر حملہ ہے

،وزیراعظم عمران خان نے نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں دو مساجد پر دہشت گرد حملوں کو تکلیف دہ قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے۔وزیراعظم نے اپنے ٹوئٹر بیان میں کہا کہ کرائسٹ چرچ میں مسجد پر حملہ ہمارے اس موقف کی تصدیق کرتا ہے جسے ہم مسلسل دہراتے آئے ہیں کہ، دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔وزیراعظم عمران خان نے مزید کہا کہ ہماری ہمدردیاں اور دعائیں متاثرین اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ ہیں۔وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ان بڑھتے ہوئے حملوں کے پیچھے 9/11 کے بعد تیزی سے پھیلنے والا “اسلاموفوبیا” کار فرما ہے جس کے تحت دہشت گردی کی ہر واردات کی ذمہ داری مجموعی طور پر اسلام اور سوا ارب مسلمانوں کے سر تھوپنے کا سلسلہ جاری رہا۔ وزیراعظم نے کہا کہ مسلمانوں کی جائز سیاسی جدوجہد کو نقصان پہنچانے کے لیے بھی یہ حربہ آزمایا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں