نیوزی لینڈ وزیراعظم کا سیاہ لباس پہن کر مسلم کمیونٹی سے تعزیت

Spread the love
نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈر ہسپتال میں دہشتگردی کا شکار ہونے والوں کی عیادت کر رہی ہیں

جیسنڈا آرڈرن نے حملے میں زخمی ہونے والے افراد کی عیادت کے لیے اسپتال کا دورہ کیا

مسلم کمیونٹی سے ملاقات کی اور مسلم خواتین کو گلے لگا کر تسلی دی

وزیراعظم آرڈرن نے مسلم کمیونٹی سے اظہار تعزیت کے لیے کالا دوپٹا بھِی سر پر اوڑھا اور حملے کی شدید مذمت کی

کرائسٹ چرچ کا واقعہ نیوزی لینڈ کی عکاسی نہیں کرتا تاہم مذہبی اور ثقافتی آزادی ہر صورت ممکن بنائی جائے گی،گفتگو

کرائسٹ چرچ (انٹرنیشنل ڈیسک، مانیٹرنگ ڈیسک) کرائسٹ چرچ حملوں پر نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن نے مسلم کمیونٹی سے سیاہ لباس پہن کر تعزیت کا اظہار کیا۔ وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن نے حملے میں زخمی ہونے والے افراد کی عیادت کے لیے اسپتال کا دورہ کیا جہاں انہوں نے مسلم کمیونٹی سے ملاقات کی اور مسلم خواتین کو گلے لگا کر تسلی دی۔

اس دوران وزیراعظم آرڈرن نے مسلم کمیونٹی سے اظہار تعزیت کے لیے کالا دوپٹہ بھی سر پر اوڑھا اور حملے کی شدید مذمت کی۔ نیوزی لینڈ وزیراعظم نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ کرائسٹ چرچ کا واقعہ نیوزی لینڈ کی عکاسی نہیں کرتا تاہم مذہبی اور ثقافتی آزادی ہر صورت ممکن بنائی جائے گی۔

انہوں نے کہاکہ ہماری پہلی ترجیح جاں بحق ہونے والے افراد کی شناخت تھی، متاثرین کی مالی مدد کی جائے گی اور بڑا مالی پیکیج دیاجائے گا۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حملے کے فوری بعد پولیس نے کارروائی کی جس کے نتیجے میں حملہ آور پولیس کی تحویل میں ہے، فی الحال پولیس کو کچھ چیلنجز درپیش ہیں اس لیے قانون سازی کریں گے۔

نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے اسلحہ قوانین میں تبدیلی کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ حملہ آور کے پاس 5ہتھیار اور اسلحہ لائسنس تھا، حملہ آور آسٹریلیا نہ ہی نیوزی لینڈ کی واچ لسٹ میں تھا، واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور ہم آسٹریلوی ایجنسیز کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں