نیوزی لینڈ میں دہشت گردی، 5 پاکستانیوں کے لاپتہ ہونے کی تصدیق

Spread the love

کرائسٹ چرچ حملوں میں 4 پاکستانی زخمی اور 5 لاپتہ ہیں: ترجمان دفتر خارجہ

کرائسٹ چرچ،اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک، صباح نیوز، وائس آف ایشیا)نیوزی لینڈ میں دہشتگردی کے واقعے کے بعد سے 5 پاکستانیوں کے لاپتہ ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔نیوزی لینڈ میں تعینات پاکستان کے ڈپٹی ہائی کمشنر سید معظم شاہ نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ دہشتگردی کی افسوسناک واردات کے بعد سے 5 پاکستانی شہریوں سے رابطہ نہیں ہوپارہا۔

نیوزی لینڈ کی حکومت نے ہاٹ لائن قائم کردی ہے لیکن شہدا اور زخمیوں کے نام اور شہریت کی معلومات فراہم نہیں کی جارہیں، پانچوں پاکستانیوں کی تلاش جاری ہے۔دوسری جانب پاکستان ایسوسی ایشن آف نیوزی لینڈ نے لاپتہ افراد کے نام جاری کردیے ہیں۔ ایسوسی ایشن کے مطابق 36 سالہ محمد سہیل شاہد، 26 سالہ سید اریب احمد، 34 سالہ سید جہانداد علی ، 21 سالہ طلحہ نعیم اور محمد زاہد دہشتگردی کے واقعے کے بعد سے لاپتہ ہیں ، انہیں ہسپتالوں میں تلاش کیا جارہا ہے لیکن نیوزی لینڈ کے ہسپتال فی الحال معلومات جاری نہیں کر رہے۔

علاوہ ازیں ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی مساجد میں ہونے والے دہشت گرد حملوں میں 4 پاکستانی زخمی ہوئے جب کہ 5 تاحال لاپتہ ہیں۔کرائسٹ چرچ کی دو مساجد میں ہونے والے حملوں میں اب تک 49 افراد کے جاں بحق اور 20 کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔کرائسٹ چرچ میں مساجد پر حملہ کرنے والے دہشت گرد کی شناخت 28 سالہ آسٹریلوی شہری سے ہوئی ہے۔آسٹریلوی وزیراعظم نے بھی دہشت گرد کے آسٹریلوی شہری ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ حملہ آور دائیں بازو سے تعلق رکھنے والا انتہا پسند اور متشدد دہشتگرد ہے

جس نے مسجد پر فائرنگ کر کے کئی معصوم انسانی جانوں کو ختم کیا جس کی بھرپور مذمت کرتا ہوں۔وزیراعظم پاکستان عمران خان سمیت دنیا بھر سے لوگوں نے کرائسٹ چرچ میں مساجد پر ہونے والے حملے کی پرزور مذمت کی ہے۔ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ کرائسٹ چرچ میں مساجد پر ہونے والے حملوں میں 4 پاکستانی شہری زخمی ہوئے جب کہ ان واقعات کے بعد سے 5 پاکستانی شہری لاپتہ بھی ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں