نعیم رشیدکی بہادری کودنیا بھر میں سراہا جا رہا ہے

Spread the love

ایبٹ آباد،کرائسٹ چرچ(مانیٹرنگ ڈیسک) ایبٹ آباد سے تعلق رکھنے والے

پاکستانی شخص نعیم رشید کو کرائسٹ چرچ کی النور مسجد میں حملہ آور دہشت

گرد کو روکنے کی کوشش کرنے پر انکی بہادری کودنیا بھر میں سراہا جا رہا

ہے۔شہید نعیم رشید اور ان کے بیٹے شہید طلحہ نعیم کا تعلق ایبٹ آباد سے ہے۔

ایبٹ آباد میں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے انکی والدہ کا کہنا تھا کہ وہ

بیٹے اور پوتے کے آخری دیدار کیلئے جا ناچاہ ہی ہیں ۔لاہور میں مقیم نعیم رشید

کے بھائی ڈاکٹر خورشید عالم نے گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ چند دن پہلے ہماری ان

سے فون پر بات ہوئی تو نعیم پاکستان آنے اور طلحہ کی شادی کے منصوبے بنا

رہے تھے ۔اپنے بھائی کے بارے میں بتاتے ہوئے انہوں نے مزید کہاکہ وہ بچپن

ہی میں کہا کرتا تھا کہ زندگی دوسروں کی مدد کرتے ہوئے گزارو اور جب مرو

تو اس طر ح مرو کے دنیا رشک کرے۔ ایبٹ آباد میں موجود مسلم لیگ (ن) کی

سابق رکن صوبائی اسمبلی آمنہ سردار نے بتایا کہ نعیم رشید میرے پھوپھی زاد

بھائی ہیں۔ نعیم رشید کے تین بھائی تھے اور انکی کوئی بہن نہیں تھی جس وجہ

سے نعیم رشید نے مجھے اپنی بہن بنایا ہوا تھا اور وہ سگے بھائیوں سے بھی بڑھ

کر میرا خیال رکھتے تھے۔آمنہ سردار کا کہنا تھا کہ نعیم رشید ماضی میں آزاد

خیال تھے مگر چند سال قبل وہ دین کی طرف راغب ہوگے تھے اور انہوں نے

اسلامی تعلیمات پر عمل کرنا شروع کردیا تھا۔ طلحہ سمیت ان کے تینوں بیٹے

مذہبی رجحان رکھتے تھے۔نعیم رشید کا بچپن زیادہ تر اپنے والد کے ہمراہ قطر

میں گزرا تھا جہاں پر ان کے والد ایک انجینئر کی حیثیت سے کام کرتے تھے بعد

ازاں نعیم رشید کے والد نے ایبٹ آباد میں رہائش اختیار کی اور نعیم رشید نے

1985 میں سکول کی تعلیم مکمل کی۔بعد میں وہ فنانس کی تعلیم حاصل کرنے

کیلئے فلپائن چلے گے تھے اور ماسٹر کرنے کے بعد وہ پاکستان میں مختلف

بینکوں میں خدمات انجام دیتے رہے تھے۔نو سال قبل نعیم رشید اپنے تینوں بچوں

اور اہلیہ کے ہمراہ پی ایچ ڈی کیلئے نیوزی لینڈ چلے گے تھے جہاں پر وہ استاد

کی خدمات بھی انجام دے رہے تھے۔ واضح رہے کہ سانحہ کرائسٹ چرچ میں

اپنے نوجوان بیٹے کے ساتھ شہید ہونے والے نعیم رشید اور ان کے صاحبزادے

کی تدفین نیوزی لینڈ میں ہی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ،اس حوالے سے انتظامات

کئے جا رہے ہیں۔دوسری طرف27 سالہ شہید اریب کا تعلق فیڈرل بی ایریا سے

ہے اور ایک فرم میں چارٹرڈ اکاونٹنٹ تھا جوکہ کمپنی کے کام سے نیوزی لینڈ گیا

ہواتھا، اریب اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں