’’میرا جسم میری مرضی “

Spread the love

محترمہ عقیلہ منصور جدون کا تعلق راولپنڈی سے ہے پاکستان کی معروف دانشور، ماہر قانون اور ایک استاد کی حیثیت سے پہچانی جاتی ہیں۔ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد میں بطور جزو وقتی استاد کے خدمات انجام دیتی ہیں اس کے علاوہ سوڈان میں ہونے والی مسلم خواتین کی بین الاقوامی کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی بھی کر چکی ہیںپاکستان کے علاوہ دیگر ممالک میں بھی دنیا ان کو جانتی ہے اور ایک بڑا حلقہ ان سے عقیدت رکھنے والوں کا موجو دہے۔مسلم لا کالج راولپنڈی میں بھی بطور استاد خدمات سرانجام دے چکی ہیں۔

آج کل یہ نعرہ اور اس پر بحث مباحثہ چل رہا ہے ۔

زرا اس نعرے تک پہنچنے تک کے حالات اور سوچ کا تجزیہ کر لیتے ہیں ۔

اس کی ابتدائ شکل “تحریک حقوق نسواں “تھی۔ جو تقسیم پاک و ہند سے قبل شروع ہو چکی تھی ۔میں اس تفصیل میں جا کر وقت ضائع نہیں کروں گی ۔سب کو معلوم ہے اور آجکل لکھا بھی جا رہا ہے ،بس اتنا کہوں گی کہ یہ ایک مثبت سوچ تھی ۔ اسکا زیادہ زور عورت کی تعلیم پر تھا ۔

وقت کے ساتھ ساتھ عورت کی تعلیم کے علاوہ اس کا دائرہ وسیع ہوتا گیا ۔جس میں گھر سے باہر نکل کر ملازمت کا حق ،پھر ملازمت میں مساوی حقوق کا حق ، یہاں سے ہر قسم کے پیشے میں ملازمت کا حق (اس سے قبل خواتین زیادہ تر تدریس اور میڈیکل شعبہ جات میں ہی جاتی تھیں ) شامل ہو گئے ۔

اب خواتین تمام ایسے شعبہ جات میں جو پہلے صرف مردوں کے لئے مخصوص سمجھے جاتے تھے مثلاً وکالت ،بینکنگ، ہوا بازی ۔۔۔۔وغیرہ اور پھر انتہا لڑاکا جیٹ چلا کر اپنی بحیثیت انسان برابر کی صلاحیتوں کا لوہا منوا لیا ۔

یہاں تک کا عمل تحریک “حقوق نسواں “ کی مثبت سوچ کے مثبت نتائج تھے۔

لیکن ساتھ ساتھ اس تحریک کے کچھ اور پہلو بھی ہیں 1960 اور 1970کی دہائیوں میں ضیاالحق کے دور سے قبل یہ تحریک خالصتن تحریک حقوق نسواں سے نکل کر تحریک “آزادی نسواں “ میں تبدیل ہونا شروع ہو گئی تھی۔

کالجوں اور یونیورسٹیوں میں حقوق اور آزادی کو ہم معنی قرار دیا جانے لگا ۔مرد کلاس فیلوز کے ساتھ آزادانہ گھومنا پھرنا ،ان کے ساتھ بیٹھ کے سگریٹ نوشی اور بعض اوقات شراب نوشی اور کئی قسم کے نشہ جات میں ملوث ہونا آزادی اور حقوق بن گئے ۔

جونہی حقوق اور آزادی کے الفاظ آپس میں مدغم ہوے اس تحریک کی قیادت میانہ رو حقیقت پسندوں کے ہاتھوں سے نکل کر نام نہاد لبرل ،self proclaimed دانش وروں کے ہاتھوں میں چلی گئی ۔

ان دانشوروں کا اوڑھنا بچھونا روس اور چین کا محتاج تھا ۔انھوں نے روسی اور چینی نظریات کو من و عن تسلیم کر لیا تھا کہ پاکستان کی نجات سوشلزم اور کمیونزم ہی میں ہے ۔

اپنے ملک اور معاشرے کا تجزیہ کئے بغیر بیرونی سوچ کو مسلط کرنے کی خواہش ان کا انقلاب تھا۔

ان دانشوروں کی سوچ سے ہم آہنگ ہو کر جو خواتین ان کی شراب و کباب کی محفلوں میں شریک ہوتی تھیں صرف انہیں ہی ترقی پسند دانشور خواتین کا لقب دیا جاتا تھا ۔

ان کی اپنی گھر کی خواتین خالصتن بورژوا سوچ کا نمونہ تھیں ( میں اکثریت کی بات کرہی ہوں اس میں exceptions ضرور ہوں گی ) ۔اکثریت کی بیویاں اور بیٹیاں اس قسم کی محفلوں سے اجتناب برتتی تھیں ۔ اور جب خود شادی کرتے تو بھی بورژوا طبقے کی خواتین ہی ان کا انتخاب ہوتی تھیں ۔

اس دوران ضیاالحق کا دور شروع ہوا ۔تاریخ کا پہیہ الٹا گھوما ،عورت کے بہت سارے حقوق جو اس نے بڑی محنت سے حاصل کئے تھے سلب کئے جانے کی بھرپور کوشش کی گئی ۔ دوپٹہ برقعہ عبایا وغیرہ خوب promote کیے گئے ۔

ضیاالحق نے اپنے تئیں پاکستان کو پاک صاف کرنے کی کوشش میں جہاز بھر کر انقلابی نوجوان ملک بدر کئے

اسی دوران روسی انقلاب ناکام ہوا ۔چینی انقلاب نے مختلف پلٹے کھائے جس سے ہمارا دانشور اپنے قبلہ و کعبہ سے ہاتھ دھو بیٹھا ۔ملک کے اندر موجود انقلابی چونکہ بیرونی خیالات کے اندھا دھند پیروکار تھے اپنے حالات کا خود تجزیہ کرنے کی صلاحیت سے محروم اکثریت موقع پرست بن گئی ۔

ضیاالحق کے جانے کے بعد معاشرے نے ایک نیا دور مزہبی انتہا پسندوں کا عروج دیکھا ۔

اس دوران بیرون ملک زیادہ تر یورپ میں مقیم پاکستانی دانشوروں کو پھر سے پاکستان سے میں دلچسپی ہو گئی ۔اب ان کے زہن مغربی معاشرے کو اپنا چکے تھے ،نئے جوش و خروش سے آزادئ نسواں کا علم بلند ہوا۔ مزہبی این جی اوز کے مقابل مغربی این جی اوز آ گئیں ۔

اب افسوس ناک صورتحال یہ ہے کہ نہ مذہبی جنونیت دیسی ہے اور نہ ہی مغربی ذہنیت کی مقلد آزادی دیسی ہے ۔

دونوں انتہاؤں نے عورت کو میدان جنگ بنا لیا ہے ۔ کوئی یہ ماننے کو یا سوچنے کو تیار نہیں کہ پاکستانی عورت کیا چاہتی ہے ۔

ایک بات طے ہے کہ پاکستانی عورت اپنے حقوق جنھیں اس نے بڑی جدوجہد سے حاصل کیا کسی قیمت پر نہ تو مذہبی جنونیت اور نہ ہی مغربی آزادی/ منافقت کے بھینٹ چڑھنے دے گی ۔
ہمارے اپنے معاشرتی بیک گراؤنڈ میں “میرا جسم میری مرضی “ جیسے نعروں کی کوئی گنجائش نہیں ۔

میری مغرب زدہ آزادی ء نسواں کے حامیوں سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ ایسے جلسے جلوسو ں میں اپنی ماؤں بہنوں ،بیویوں اور بیٹیوں کو سب سے آگے کھڑا کر کے اور اپنے گھروں میں اس نعرے پر عمل پیرا ہونے کی اجازت دے کر ثابت کریں کہ وہ ان نعروں کے لئے کتنے مخلص ہیں وگرنہ…………………

اپنا تبصرہ بھیجیں