مفتی تقی عثمانی قاتلانہ حملے میں بچ گئے۔ گارڈ سمیت 2 جاں بحق

Spread the love

نصف گھنٹے کے اندردارلعلوم کورنگی کی 2 گاڑیوں پر فائرنگ کی گئی،مولانا عامر شہاب شدید زخمی

مولانا تقی عثمانی نماز جمعہ پڑھانے جارہے تھے۔ پولیس اہلکاربچاتے ہوئے شہید ہوا۔آئی جی کلیم امام

دونوں واقعات دہشت گردی اور ایک ہی سلسلے کی کڑی ہیں۔کراچی پولیس چیف امیر شیخ

مفتی تقی عثمانی نے خدشات کا اظہارکیا تھا۔ انہیں دھمکیاں مل رہی تھی۔گورنر سندھ عمران اسماعیل

کراچی(کرائم رپورٹر)کراچی میں نرسری کے قریب قاتلانہ حملے میںممتاز عالم دین مفتی تقی عثمانی بچ گئے تاہم ان کا محافظ جاں بحق ہوگیا جب کہ ڈرائیور زخمی ہے۔دہشت گردوں نے نصف گھنٹے کے اندر دارالعلوم کی دو گاڑیوں کو نشانہ بنایا۔اس سے پہلے نیپاچورنگی پر فائرنگ سے مولاناعامر شہاب شدید زخمی ہوگئے جن کی حالت جناح اسپتال میں نازک بتائی جاتی ہے۔پولیس کے مطابق دونوں واقعات دہشت گردی اور ایک ہی سلسلے کی کڑی ہیں۔تفصیلات کے مطابق نیپا چورنگی اور نرسری میں 30 منٹ کے دوران فائرنگ کے دو مختلف واقعات میں 2 افراد جاں بحق اور 3 زخمی ہوگئے ہیں۔پولیس کے مطابق فائرنگ کا پہلا واقعہ یونیورسٹی روڈ پر نیپا چورنگی پر پیش آیا، جس میں 2 موٹرسائیکلوں پر سوار ملزمان ٹویوٹا کرولا کار ATF-908 پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں سوار دونوں افراد زخمی ہوگئے جب کہ ایک شخص گاڑی کی ٹکر سے زخمی ہوا۔

مفتی تقی عثمانی کون ہیں ؟ جاننے کے لیے یہاں کلک کریں

پولیس کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے اس واقعے میں مولانا شہاب شدید زخمی ہیں تاہم ان کا ڈرائیور صنوبر خان جاں بحق ہوگیا۔پولیس کے مطابق فائرنگ کا نشانہ بننے والی گاڑی دارلعلوم کورنگی کے نام پر رجسٹرڈ ہے۔جناح اسپتال کی ڈاکٹر سیمی جمالی نے بتایا کہ مولانا عامر شہاب کی حالت تشویشناک ہے۔انہیں سینے میں بھی گولیاں لگیں اور وینٹی لیٹر پر رکھا گیا ہے۔جب کہ ان کا محافظ صنوبر خان جاں بحق ہوگیا۔

فائرنگ کا دوسرا واقعہ شاہراہ فیصل پر نرسری کے قریب پیش آیا جہاں مفتی تقی عثمانی کی ہنڈا سوک کار BKE-748 پر فائرنگ کی گئی۔پولیس کانسٹیبل موقع پر ہی شہید ہوگیا جب کہ ڈرائیور شدید زخمی ہوا۔آئی جی کلیم امام کے مطابق مولانا تقی عثمانی نماز جمعہ کیلئے جارہے تھے۔ پولیس سیکورٹی ہمراہ تھی۔ اہلکار انہیں بچاتے ہوئے شہید ہوا۔
کراچی پولیس چیف امیر شیخ نے کہاکہ دونوں واقعات ایک ہی سلسلے کی کڑی اور دہشت گردی ہیں۔نرسری فائرنگ واقعہ میں مولانا تقی عثمانی گاڑی میں موجود تھے اور محفوظ رہے تاہم انہیں دیا گیا پولیس گارڈ جاں بحق ہوگیا۔نجی ٹی وی کے مطابق دونوں واقعات میں ہیلمٹ پہنے2 موٹر سائیکل سواروں نے فائرنگ کی ۔

آٹھ سے زائد گولیاں چلائی گئیں۔گورنر سندھ عمران اسماعیل نے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مفتی تقی عثمانی نے خدشات کا اظہارکیا تھا۔ انہیں دھمکیاں مل رہی تھی۔دوسری جانب ترجمان وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس سے رپورٹ طلب کر لی ہے اور ملزمان کی فوری گرفتاری کی ہدایت کی ہے۔وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے گاڑی پر فائرنگ کا نوٹس لیتے ہوئے ایڈیشنل آئی جی کراچی سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے قاتلوں کی گرفتاری کی ہدایات کردی۔ترجمان وزیراعلی ہاؤس کے مطابق مراد علی شاہ نے کہا کہ ٹارگٹ کلنگ ہے یا کوئی اور واقعہ ؟ تفصیلی رپورٹ دی جائے۔

Please follow and like us:

اپنا تبصرہ بھیجیں