عورت مارچ کے آفٹر شاکس

Spread the love

لاہور(صرف اردو ڈاٹ کام نیوز) بابا جی کھیت میں بھینس کو جوت کر ہل چلا رہا تھا اور چھپر میں بیل صاحب آرام فرما رہے تھے _ کسی سیانے کا گزر ہوا _

اس نے بابا جی سے پوچھا

” یہ کیا تماشا ہے ؟
تم نے بیل کو چھپر کے نیچے باندھا ہے اور بھینس کو ہل میں جوت رکھا ہے ! ”

بابا جی نے کہا :
” یہ بی بی شہر سے آئی ہے _ اس کی سہیلیوں نے اسے سمجھا کر بھیجا تھا کہ دیہات میں مادہ جنس کو حقوق پورے نہیں ملتے ، لہذا تم پہلے ہی دن اپنے مالک سے اپنے حقوق کی بات کرنا _

اس نے مجھ سے مطالبہ کیا کہ مجھے بیل کے برابر حقوق چاہیں _”

میں نے کہا : ” بیل تو ہل جوتتا ہے _”

اس نے کہا : ” میں گھر میں قید ہو کر نہیں رہ سکتی جو کام بیل کرتا ہے وہ میں بھی کر سکتی ہوں “

چنانچہ میں نے اسے ہل جوتنے پر لگا دیا _ اب یہ خوشی خوشی کھیت میں بھی کام کرتی ہے اور دودھ بھی دیتی ہے _

بیل کے پاس کرنے کو کام نہیں ، لہذا وہ سارا دن چھپر میں آرام کرتا ہے اور بھینس کو مزید اپنے حقوق مانگنے پر اکساتا رہتا ہے _

اپنا تبصرہ بھیجیں