عسیر الاندمال قرحہ اور طب یونانی : ایک تعارف

Spread the love

محمد فیصل اعظمی

اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ علم الجراحت ابن سینا طبیہ کالج اعظم گڑھ

فردوس احمد نجار

لکچرر نیشنل انسٹیٹیوٹ آف یونانی میڈیسن بنگلور

تعارف

طب یونانی اپنے خصوصی نظریے کے ہی وجہ سے دوسری تمام طب سے ممتاز نظر آتی ہے وہ غیر طبعی حالت بدن کو صرف مقامی نہیں بلکہ عمومی وجہ مانتی ہے اس لئے مرض پہ قابو پانے کے لئے بدن کی عمومی صورت حال کو طبعی سمت میں بنائے رکھنے کو ترجیح دیتی ہے۔ عمومی صورت حال بدل جانے کی ہی وجہ سے امراض مزمن کی طرف مائل جاتے ہیں۔ واضح رہے کہ طب یونانی میں امراض سوء مزاج، سوء ترکیب اور تفرق اتصال کا نتیجہ ہوتے ہیں اور قرحہ ایسی ہی صورت حال ہے جس میں یہ تینوں عوامل ایک ساتھ شامل ہوتے ہیں ۔

عسیر الاندمال قرحہ جسے جدید طب میں Non Healing Ulcer کی اصطلاح دی جاتی ہے طب یونانی سے تفرق اتصال، سوء مزاج مقامی یا مادی یا عمومی کے ساتھ عام بدنی کیفیت کے تبدیل ہونے کی وجہ مانتی ہے اور اسی بنیادی اصول کے مطابق اندمالی کیفیت کو بحال کرتی ہے ۔
عسیر الاندمال قرحہ برارہ راست متاثرہ کی طرز زندگی پہ اثر ڈالتا ہے جس سے سماجی و اقتصادی دونوں طور سے وہ کمزور پڑ جاتا ہے اور جدید طب میں اس کے معالجہ میں مختلف آراء ہیں اسے لئے اسے Non Healing Ulcer کی اصطلاح دی جاتی ہے اور اس کے علاج نہ صرف مصارف زیادہ ہیں بلکہ اس سے ممکنہ عوارض کا بھی اندیشہ بنا رہتا ہے جبکہ طب یونانی اپنے بنیادی اصولوں کی وجہ سے عسیر الاندمال قروح پہ بآسانی قابو پالیتی ہے۱؂ ۔

جدید طب جسے Non Healing Ulcer کہتی ہے اسے طب یونانی میں عسیر الاندمال قرحہ کیوں کہتے ہیں ؟ واضح رہے کہ مرض سوء مزاج کا نتیجہ ہوتے ہیں اور طب یونانی مزاج مرض کے ساتھ مزاج بدن پہ بھی خصوصی توجہ دیتی ہے یعنی مقامی حالت کی غیر طبعی صورت عمومی کیفیت کے بگاڑ کا نتیجہ ہوتی ہے۔

اسباب و قلت الدم

دم کا کمی و کیفی اعتبار سے طبعی ہونا صحت کی ضمانت ہوتی ہے اس کی توازن کا بگڑ نا مرض کا ہونا ہوتا ہے قلت الدم کی وجہ سے قروح مزمن کیفیت اختیار کرلیتے ہیں۔

عموی و مقامی ضعف

بدن کا مناسب تغذیہ نہ ہونا۔ قوت غاذیہ جو ہر عضو کو غذا پہنچانے کی ذمہ دار ہوتی ہے اس کے ساتھ تین قویٰ، قوت محصلہ، ملصقہ اور مشبہ کام کرتے ہیں ان میں سے کسی قویٰ میں کمی یا زیادتی غیر طبعی صورت کی ضامن بن جاتی ہے اور یہ صورت جلد کو براہ راست متاثر کرتی ہے ۱، ۲، ۳

سوء مزاج عمومی اور قرحہ

سوء مزاج عمومی کا مطلب جسم کی عمومی کیفیت کا یکسر تبدیل ہوجانا واضح رہے کہ جسم میں دو طرح فاعلہ و منفعلہ کیفیات پائی جاتی ہیں حار، بارد فاعلہ اور رطب یابس منفعلہ میں شمار ہوتی ہیں اور ایک طرح کی دو کیفیت کبھی بھی ایک ساتھ نہیں پائی جاتی ہیں اور دونوں میں سے کوئی بھی ایک غالب ہوسکتی ہے خواہ وہ منفعلہ ہی کیوں نہ ہو۔ دق جو حمی کے زمرے میں شامل ہے ایک ایسی صورت حال ہے جس میں جسم کا عمومی مزاج بارد یابس ہوجاتا ہے اور یبوست غالب رہتی ہے اس سے رطوبت غریزیہ تحریق پاتی ہے اور اندرونی و بیرونی حرارت متاثر ہوجاتی ہے اور جسم کا غذائی نظام متاثر ہوجاتا ہے اور عضو کو طبعی تغذیہ جو عام حالت میں ملنا چاہیے نہیں مل پاتا۔ جلد غذائی نظام کے بعد دوسرا سب سے زیادہ متاثر ہونے والا عضو ہوتا ہے غیر مناسب تغذیہ جلد کی طبعی ساخت کو نقصان پہنچاتا ہے اور عمومی یبوست اس میں خشکی پیدا کرکے قرحہ کا باعث بنتی ہے ۔ عمومی سوء مزاج کے بنیادی نظریے کے سمجھنے کے بعد اگر صرف مقامی علاج پہ توجہ مرکوز کی جائے تو خاطر خواہ نتیجہ ممکن نہیں ہوگا ہاں اگر معالجہ کی سمت عمومی صورت حال کو بہتر بنانے پہ کی جائے تو نتیجہ بہتر ہوجائے گا۔

سوء مزاج بارد رطب عمومی

ذیابیطس شکری استحالاتی امراض میں سے ایک ہے جو سوء مزاج بارد رطب عمومی کے باعث لاحق ہوتا ہے اس سے جسم میں غیر طبعی برودت و رطوبت پیدا ہوجاتی ہے جو اعصابی منافذ کو بتدریج بند کرنے کا کام کرتی ہیں اور نتیجتاً روح کی پہنچ اعصاب تک نہیں ہوپاتی، اگر مسالک روح اعصاب حرکیہ کے متاثر ہوتے ہیں تو اس حرکی اعصاب اور اگر اعصاب حسیہ کے متاثر ہوتے ہیں تو اس سے حسی اعصاب میں نقص پیدا ہوجاتا ہے افعال حسیہ میں بطلان کا پایا جانا مختلف احساسات جیسے ٹھنڈی، گرمی، چوٹ، درد اور رگڑ کا احساس معدوم ہونے لگتا ہے اس صورت میں ذیابیطس کی وجہ سے اعصابی خرابی پیدا ہوجاتی ہے جو مختلف جراحات و امراض کا پیش خیمہ ثابت ہوتی ہے۱، ۴، ۵

سوء مزاج مادی عمومی

بدن میں اخلاط کی زیادتی قروح کا باعث بنتی ہے۔ واضح رہے کہ اخلاط کی زیادتی طبیعت پہ گراں گزرتی ہے اس لئے وہ اسے ہرممکن طبعی راستوں سے دفع کرنے کی کوشش کرتی ہے اگر یہ ممکن نہیں ہوپاتا تو نتیجتاً غیر طبعی رطوبت جسم کے زیریں حصے میں جمع ہوکر قروح بناتے ہیں مثلاً سوء مزاج سوداوی مادی جس میں سوادء کا تناسب اخلاط میں زیادہ ہونے کی وجہ سے اور سوداء میں ارضیت کے پائے جانے کی وجہ سے وہ جسم کے زیریں یا مرکزی حصے میں جمع ہونے لگتا ہے جس سے بواسیر، دوالی اور سرطان جیسی کیفیت پیدا ہوتی ہے اور عروق میں ارضیت کی زیادتی اس کی ساخت میں خترابی کا باعث بنتی ہے جس سے قروح بن جاتے ہیں ۱، ۳

بحالت صحت بدن میں دو طرح لطیف و غلیظ فضلات پیدا ہوتے ہیں اور طبیعت انھیں، بذریعہ تعریق، تنفس و بول و براز کے جسم سے خارج کردیتی ہے حالت مرض میں طبیعت غذاء کا نہ ہی مکمل استحالہ کرپاتی ہے اور نہ ہی فضلات کا اندفاع کرپاتی ہے یہ وافر مواد جسے طبیعت استعمال پہ قادر نہیں ہوتی زیر جلد دفع کردیتی ہے جو تعفن و فساد کا شکار ہوکر جلد کو گلانا شروع کردیتے ہیں اور رفتہ رفتہ قروح بن کر خارج ہو جاتے ہیں اور یہ صورت حال بدن کے ان حصوں پہ زیادہ ہوتی ہے جہاں حرکت کم یا نہ کے برابر ہوتی ہے مثلا صاحب فراش کے متوسل حصے پہ اور ان سے مستقل متعفن مواد کے اخراج کے باعث اندمال میں دشواری پیش آتی ہے ۱،۳،۵

نتیجہ و خلاصہ

جدید طب اپنے بہترین دور میں ہونے کے باوجود عسیر الاندمال قرحہ جیسی صورت حال پہ قابو پانے میں قدرت نہیں رکھتی اور جو طریقہ کار ہیں یا تو انکے مصارف اتنے زیادہ ہیں جس سے ایک عمومی متاثرہ انسان مستفید نہیں ہوسکتا یا اس کے عوارض دوسرے امراض کا پیش خیمہ بن جاتے ہیں جبکہ طب یونانی جو وقت سے ثابت شدہ ایک قدیم طریقہ علاج ہے، اپنے بنیادی اصولوں پہ اس کا علاج بآسانی کرلیتی ہے۔

مصادر و مراجع


۱۔ Ibn Sina al qanoon fil tibb 1st edition Beirut. Dar al Kutub Al ilmiya 2001 , Vol 2nd 114-231
۲۔Kabeeruddin M. Al Akseer New Delhi Aijaz Publication Vol.1 2003, 299.201
۳۔Ibn -e Zuhar AM Kitab Al Taiseer Fil Madawat wat Tadbir CCRUM 1986 160-163
۴۔Razi AMBZ Alhavi Fil Tibb CCRUM Vol 1(42-47), 10(181-187), 12(98-109)
۵۔ Kabeeruddin M Kulliyate Nafisi New Delhi Idarad Kitab Al Shifa 103-104, 123,135

اپنا تبصرہ بھیجیں