سفاری ٹرین پیش اور پس منظر

Spread the love

لاہور(مدثر بھٹی سے) کبھی پشاور لاہور کی طرح باغوں کا شہر کہلاتا تھا اب نہ تو لاہور میں باغ ہیں اور نہ ہی پشاور میں، پشاورل اور لنڈی کوتل کے درمیان پاکستان ریلوے کی لائن گزرتی ہے، یہ ریلوے لائن پاکستان کے بننے سے پہلے انگریز دورحکومت میںبچھائی گئی تھی جس کا مقصد شمال سرحدی علاقوں تک آمدورفت اور انگریز فوجی سازوسامان کی جلد و محفوظ رسد وترسیل تھی۔ یہ ریلوے لائن پشاور صدر ریلوے سٹیشن، یونیورسٹی ٹاؤن، حیات آباد، کارخانوں مارکیٹ (انڈسٹریل زون)، جمرود (جہاں بابِ خیبر ہے) کے علاقوں سے ہوتی ہوئی لنڈی کوتل کی پہاڑیوں میں سے گزرتی ہے۔ یہ ٹریک “باچاخان انٹرنیشنل ایئر پورٹ” کے مین رن وے کے درمیان میں سے گزرتی ہے۔ جو اس ٹریک کو تھوڑا سا مشکل اور سول ایوئی ایشن اور پاکستان ریلولے کے درمیان متنازعہ بھی بناتی ہے۔ پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد ہماری ابدی نااہلی کی وجہ سے یہ ٹریک بے کار پڑی رہی، تقریباً آٹھ سال پہلے تک اس پر پشاور صدر ریلوے سٹیشن سے جمرد سے ہوتی ہوئی لنڈیکوتل تک ” خیبر سٹیم سفاری” ریل چلا کرتی تھی، جس کے دو سٹیم انجن اور دو ڈبے ہواکرتے تھے ایک انجن ڈبوں کو کھینچتا جبکہ دوسرا دھکیلتا تھا۔ تقریباً ایک صدی پرانے اور قدیم انجن کے ساتھ سفاری ٹرین یہاں سے گزرا کرتی تھی۔ بدقسمتی سے 2006میں یہ ٹرین بند کردی گئی۔ یہ خیبر سٹیم سفاری پشاور صدر ریلوے سٹیشن سے لنڈی کوتل تک تقریباً 52کلومیٹر کا فاصلہ 34ٹنلز اور 92 پلوں پر سے گزرکر طے کرتی اور تقریباً 3900 فٹ کی بلندی تک لنڈی کوتل کے سٹیشن پر پہنچا کرتی تھی۔

سفاری ٹرین کی افتتاح کی خبر پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

ہفتہ وار چھٹی کی صبح کا آغاز اس انجن کی مسحور کن سیٹی سے ہواکرتا تھا یہ ٹرین لنڈی کوتل کی طرف سیاحوں کو لے کرروانہ ہواکرتی تھی۔ “خیبر سٹیم سفاری” ہفتے میں ایک دن سیاحوں کے لئے چلائی جاتی تھی مگر دہشت گردی کی آگ نے جہاں ہماری ساری خوبصورتی کو جلا کر راکھ کردیا یہاں یہ سروس بھی اس کی نظر ہوگئی۔ یہ ریلوے لائن پاکستان افغانستان کی سرحد (بارڈر) تک نہ صرف سیاحت بلکہ تجارتی مال برداری اورعوام کی سفر کے لئے نہایت موزوں اور دفاعی سازوسامان کی نقل و حرکت کے لحاظ سے اہم ہے۔ مگر ہماری ریلوے نے اس کو اتنی اہمیت نہیں دی اور نیٹو کی سپلائی سمیت افغانستان و مشرق وسطیٰ کے ممالک کے ساتھ ہماری تجارت کا ایک اہم ذریعہ آمد ورفت ضائع ہوتا رہا۔ سالوں نظر اندازی نے اس ٹریک کو منوں مٹی کے نیچے چھپا دیا اور جہاں پہاڑوں اور چٹانوں کے درمیاں یہ پٹری نہایت جانفشانی سے بچھائی گئی تھی

آج 24 مارچ 2019 کو اس ٹرین کا دوبارہ افتتاح کر دیا گیا ہے۔اس تاریخی پس منظر کی حامل سفاری ٹرین کی بحالی کے لیے موجودہ حکومت نے جو بھی اقدامات کئے ہیں وہ قابل ستائش ہیں اور اس میں یہ بات مدنظر رکھنے کی ضرورت ہے کہ سفاری ٹرین دوبارہ بند نہ ہو اس کے لیے ایسے طریقہ کار کی ضرورت ہے جس سے نہ تو سول ایوایشن کا کوئی مسئلہ ہو اور نہ ہی ریلوے انتظامیہ کو۔ یہ بھی واضح رہے کہ یہ ٹرین سیاحت کے فروغ میں ایک سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔

Please follow and like us:

اپنا تبصرہ بھیجیں