جی سی یونیورسٹی میں تھیلیسیمیا آگاہی سیمینار کا انعقاد

Spread the love

لاہور (تعلیمی رپورٹر) پاکستان میں تھیلیسیمیا کے حوالے سے آگاہی انتہائی کم ہے ،ہر سال تھیلیسیمیا کے6سے7ہزار نئے کیسز رپورٹ ہوتے ہیں،جبکہ برطانیہ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک میں یہ تعداد چند سو ہے۔ان خیالات کا اظہار مقررین نے گزشتہ روز گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہورمیں تھیلیسیمیا کے حوالے سے آگاہی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔سیمینار کا اہتمام جی سی یو کی بلڈڈونرسوسائٹی اور کاشف اقبال تھیلیسیمیا کیئر سینٹر کے تعاون سے کیاگیا۔

سیمنار کی صدارت وائس چانسلرپروفیسرڈاکٹرحسن امیر شاہ نے کی۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے تھیلیسیمیا کیئر سینٹر کے کوآرڈینیٹر آصف حمید بٹ کا کہنا تھا کہ تھیلیسیمیا کیریئر ہونا کوئی بیماری نہیں ہے لیکن جب دو تھیلیسیمیا کیریئر کی شادی ہوتی ہے تو اس بات کا امکان ہوتا ہے کہ ان کی اولاد میں کوئی تھیلیسمیا میجر کا شکار ہو سکتا ہے،جو کہ انتہائی دردناک پیدائشی بیماری ہے اس میں مریض کو زندہ رہنے کے لیئے ہر ماہ خون اور ادویات کی ضرورت رہتی ہے۔

اس موقع پر جی سی یو وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر حسن امیر شاہ نے طلباء کو ہدایت کی کہ وہ اپنی فیملیز اور دوستوں میں تھیلیسیما آگاہی کے حوالے سے کام کریں،اور سوشل میڈیا کو بھی ایسے مثبت پیغامات کے فروغ کے لیئے استعما ل کریں۔

سیمینار سے بلڈ ڈونر سوسائٹی کے مشیر ڈاکٹر بابرنسیم آسی نے بھی خطاب کیا،جبکہ اس موقع پر اساتذہ اور طلباء کی کثیر تعداد بھی موجود تھی۔ سیمینار کے بعد کیمپ لگایا گیا،جس میں جی سی یو کے طلباء کی کثیرتعداد کاتھیلیسیمیا کا مفت ٹیسٹ کیا گیا۔

Please follow and like us:

اپنا تبصرہ بھیجیں