جامعات کی خود مختاری ضروری ، سیاسی مداخلت کا خاتمہ ہوناچاہیے،چیئرمین ایچ ای سی

Spread the love

اسلام آباد(صباح نیوز)چیئرمین ہائیرایجوکیشن کمیشن پاکستان ڈاکٹر طارق بنوری

نے کہاہے اعلی تعلیم کی بہتری کیلئے نیشنل اکیڈمی آف ہائر ایجوکیشن کوفعال

بنارہے ہیں۔جامعات میں سیاسی مداخلت نہیں ہونی چاہیے ،حکومتیں تمام

سینئرپوزیشنز پرتعیناتیاں کرتی ہیں جس سے مسا ئل پیداہوتے ہیںیہ اختیاروائس

چانسلرکوہوناچاہیے،اعلیٰ تعلیم کے بجٹ میںکٹوتی سے جامعات مسائل کاشکار ہیں

،جامعات کومکمل خود مختا ر ی دی جائے ۔ان خیالات کااظہارانہوں نے

ایڈیٹرزاوربیوروچیفس سے ملاقات میں گفتگو کے دوران کیا،ملاقات میںایچ ای سی

کے ڈ ی جی پلاننگ ڈاکٹر مظہرسعیدا،ترجمان عائشہ اکرام ودیگر ذ مہ داربھی

موجودتھے۔۔چیئرمین ہائیرایجوکیشن کمیشن پاکستان کا مزید کہنا تھا ایچ ای سی

کاقیام 2002میں عمل میں لایاگیااس کا مقصد پاکستان میں لوگوں کواعلیٰ تعلیم تک

رسائی دیناتھا جو اس وقت نہیں تھی۔معیار تعلیم کے حوالے سے لوگوںمیں تشویش

ہے حتیٰ کہ پی ایچ ڈی کے معیار پر بھی انہیں اطمینان نہیں ، تاہم ہم پی ایچ ڈی

کے معیار کوبہتربنارہے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں جو بچہ بھی اعلی تعلیم حاصل

کرناچاہے اس کیلئے جامعات میں نشست موجود ہو۔تعلیم و تحقیق میں تعلق

ہوناچاہیے تاکہ اس کا فا ئد ہ ہوتعلیمی اداروں کا گورننس سسٹم بہتر ہو، اعلی تعلیم

کے بجٹ میں تین سال سے اضافے کی بجائے کٹوتی کی جارہی ہے جبکہ انتظامی

اخراجات میں پندرہ فیصد ہر سال اضافہ ہورہاہے نئی جامعات بنائی گئی ہیں

مگران کیلئے بھی بجٹ مختص نہیں کیاگیاجس کی وجہ سے اسکا بوجھ پہلے سے

مو جود جامعات پر پڑرہاہے۔جامعات میں سیاسی مداخلت نہیں ہونی چاہیے

،یونیورسٹی میں تمام سینئر پوزیشنز پر حکومتیںتعیناتیاں کرتی ہیں اس سے مسائل

میں اضافہ ہورہاہے یہ سب وائس چانسلر کااختیارہوناچاہیے ،جامعات کانظام شفاف

ہو گا تو ہم خود مختاری حاصل کرنے میں کا میا ب ہونگے۔ نیشنل اکیڈمی آف ہائر

ایجوکیشن کوفعال بنارہے ہیں جس میں اساتذہ کی تربیت کی جائیگی کہ وہ کس

طرح مختلف مسائل پر آ نیوالے سیاسی دباؤ کوبرداشت اوراس کاحل نکالیں ،ملک

کی کسی بھی یونیورسٹی میں اچھاپرنٹنگ پریس موجود نہیں ،صرف آکسفورڈ

یونیورسٹی کاپریس ہے ہم چاہتے ہیںتمام جامعات کا اپنا معیا ر ی پرنٹنگ پریس

ہوتاکہ جب وہ اپنے جرنلزشائع کریںتووہ اچھی کوالٹی کے ہوں۔ ہم چاہتے ہیں

دوسرے ممالک سے طلبہ یہاں آکرتعلیم حاصل کریں تاکہ زرمبادلہ حاصل ہو۔

پاکستان میں اب تک پندرہ ہزار پی ایچ ڈی پر و فیسرز ہیںکسی بھی جامعہ میں

وائس چانسلرکی تعیناتی کیلئے تعلیمی کیریر ، فنانس اورانتظامی

امورپرپرعبورہوناچاہیے اور سب سے بڑھ کروہ سیاسی دبائو برداشت کرسکتاہے

یانہیں، معیارہونا چاہیے ۔ پاکستان میں نہیں امریکہ میں بھی ٹاپ یونیورسٹیز

خسارے میں ہیں جامعات کبھی منافع بخش نہیں ہوسکتیں ۔ میں شا ہد حا قا ن

عباسی کوجانتا تک نہیں تھاایک مرتبہ ایک پروگرام میں ان سے ملاقات ہوئی تھی

میری تعیناتی میرٹ پرکی گئی ہے ۔



اپنا تبصرہ بھیجیں